Local News

ہنگو میں اہتمام یوتھ کنونشن، نوجوانوں کی بڑی تعداد کی شرکت

ہنگو: خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے ٹل میں پاک فوج کے زیرِ اہتمام یوتھ کنونشن کا انعقاد کیا گیا، جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کنونشن میں سول انتظامیہ کے نمائندوں بشمول کمشنر کوہاٹ بھی موجود تھے۔

تقریب میں جی او سی میجر جنرل شاہد امیر افسر نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ کنونشن کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں قومی شعور بیدار کرنا اور انہیں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کرنا تھا۔

کنونشن کے دوران نوجوانوں نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ شرکاء کو قومی سلامتی، ترقی اور قومی یکجہتی کے موضوعات پر کھل کر اظہارِ خیال کا موقع فراہم کیا گیا، جبکہ نوجوانوں اور انتظامیہ کے درمیان اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال بھی ہوا۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے کنونشن قومی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہیں اور ایسے پلیٹ فارمز نوجوانوں کی مثبت رہنمائی اور کردار سازی میں مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ملک کی ترقی اور استحکام میں بھرپور کردار ادا کریں گے اور اس موقع پر پاک فوج کی جانب سے اس کاوش کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔

PDMA Flood Update

پختونخوا میں بارشوں سے تباہی، 30 افراد جاں بحق، 85 زخمی، 140 مکانات متاثر

پشاور: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے 25 مارچ سے جاری بارشوں کے باعث ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق مختلف اضلاع میں پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں اب تک 30 افراد جاں بحق جبکہ 85 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق افراد میں 20 بچے، 5 مرد اور 5 خواتین شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 36 مرد، 11 خواتین اور 38 بچے شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مسلسل بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے مجموعی طور پر 140 مکانات متاثر ہوئے، جن میں 115 گھروں کو جزوی جبکہ 25 مکانات مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔

ادارے کے مطابق یہ حادثات صوبے کے مختلف اضلاع بنوں، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور، نوشہرہ، باجوڑ، لکی مروت، کرم، ہنگو، شانگلہ، بونیر، مالاکنڈ، دیر اپر، بٹگرام، شمالی وزیرستان اور ٹانک میں پیش آئے۔

پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور آپس میں مسلسل رابطے میں ہیں۔ پی ڈی ایم اے نے متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر امدادی سامان فراہم کیا جائے اور امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے جبکہ یکم اپریل سے شروع ہونے والا نیا سلسلہ 4 اپریل تک جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا ضرورت سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ الرٹس اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے اور عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں

Editorial

وزیر اعلیٰ کا عجب موقف اور ارومچی مذاکرات کا مستقبل

عقیل یوسفزئی
چین کے شہر ارومچی میں پاکستان اور افغانستان کے تیسرے درجے کے مذاکرات کاروں کے درمیان ایک مذاکراتی عمل جاری ہے مگر دو تین دن گزرنے کے باوجود فریقین کی جانب سے کسی قسم کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم بعض معتبر تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات غیر اعلانیہ طور پر حسب توقع ناکامی سے دوچار ہی ہوگئے ہیں اور پاکستان نے اس میں محض چینی حکام خواہش کو سامنے رکھ کر شرکت کی ہے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان ” آپریشن غضب للحق” کے فیصلے کے تناظر میں اپنے اس موقف پر ڈٹ کر کھڑا ہے کہ جب تک افغانستان کی عبوری حکومت اپنی سرزمین دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کے لیے استعمال کرتا رہے گا تب تک مذاکرات وغیرہ کا کوئی امکان اور فایدہ نہیں ہے ۔ دوسری جانب افغان عبوری حکومت کی اس پیشکش کا بھی پاکستان نے کوئی سنجیدہ نوٹس نہیں لیا ہے جس میں وزیر خارجہ امیر خان متقی اور سہیل شاہین کے ذریعے پاکستان کو بعض تحریری یقین دھانی کی بات کی گئی تھی کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ان لوگوں کی باتوں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ یہ کوشش محض ایک ” اٹھک بیٹھک” سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہے ۔
گزشتہ روز پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے راستے افغانستان سے دہشت گردوں کے ایک گروپ کی دراندازی کو ناکام بناتے ہوئے 8 خوارج کو ہلاک کردیا ۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے دو تین افغان دہشت گرد تھے جس سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کی افغان پالیسی تاحال جاری ہے ۔
بنوں کے علاقے ڈومیل میں ایک پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے دوران ایک خودکش حملے میں 5 سویلین کے شہید ہونے پر عوامی حلقوں میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ان تمام معاملات سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے اور غالباً اسی تناظر میں اے این پی کے رہنما سردار حسین بابک کو ایک انٹرویو میں کہنا پڑا کہ پی ٹی آئی کالعدم ٹی ٹی پی کی پولیٹیکل ونگ ہے ۔ ان کے بقول افغانستان کی سرزمین کو دہشت گردوں کا گڑھ نہیں بننا چاہیے ۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے ایک بیان میں حقائق کو توڑ موڑ کر کہا پھر سے کہا ہے کہ وفاقی حکومت انسداد دہشت گردی اور قبائلی علاقوں کی تعمیر نو کی مد میں صوبائی حکومت کی کوئی مدد نہیں کررہی حالانکہ یہ ڈیٹا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ وفاقی حکومتوں نے پی ٹی آئی کی تین صوبائی حکومتوں کو 600 ارب روپے سے زائد فنڈز دیئے ہیں مگر وزیر اعلیٰ اس تمام پراسیس کو مسترد کرتے ہوئے مسلسل غلط بیانی سے کام لینے کی پالیسی پر گامزن ہیں ۔
طورخم بارڈر کے ذریعے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل کسی رکاوٹ یا تلخی کے بغیر پرامن طریقے سے جاری ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو تین دنوں کے دوران 400 سے زائد خاندان افغانستان جاچکے ہیں ۔
( 3 اپریل 2026 )

Local News PM Feul prices Reduction Announcement

وزیراعظم پاکستان کا عوامی ریلیف پیکج کا اعلان، پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر کمی

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں عوامی ریلیف کے لیے بڑے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے پٹرولیم لیوی میں فی الفور 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم کے مطابق آج رات 12 بجے کے بعد پٹرول کی قیمت 458 روپے فی لیٹر سے کم ہو کر 378 روپے فی لیٹر ہو جائے گی اور اس کمی کا اطلاق ایک ماہ کے لیے پورے ملک میں ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ موٹر سائیکل سواروں کو ایک لیٹر پٹرول پر 100 روپے کی سبسڈی دی جائے گی، جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ، پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کو بھی ایک ماہ کے لیے فی لیٹر 100 روپے کے حساب سے سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ اسی طرح چھوٹے ٹرکوں کو ماہانہ 70 ہزار روپے، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے اور کرایوں کا بوجھ عوام پر پڑنے سے روکنا ہے۔ وزیراعظم نے چھوٹے کسانوں کے لیے بھی امدادی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فی ایکڑ 1500 روپے فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان ریلویز کی اکانومی کلاس کے مسافروں کے لیے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے وزارت ریلوے کو واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ کے ارکان اپنی چھ ماہ کی تنخواہیں سرکاری خزانے میں جمع کرائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ خلیج میں جاری جنگ کے باعث پورے خطے میں تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے دنیا کی بڑی معیشتوں کو بھی متاثر کیا ہے اور پاکستان بھی اس صورتحال سے متاثر ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران حکومت نے قومی وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کر کے عوام کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ جنگ جلد ختم ہو گی اور خطے میں امن قائم ہو گا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ اس پیکج کے اعلان سے قبل وسیع مشاورت کی گئی، جس میں صدر پاکستان کی دعوت پر ایوان صدر میں قومی قیادت کا اجلاس بھی شامل تھا۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، گلگت بلتستان کے نگران وزیراعلیٰ، وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

انہوں نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ — مریم نواز شریف، مراد علی شاہ، سہیل آفریدی اور میر سرفراز بگٹی — کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قومی مقصد کے لیے اپنے وسائل فراہم کرنے کی بھرپور یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم کے مطابق اس ریلیف پیکج کا اطلاق گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ہوگا اور اس کے لیے وسائل وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک عوام دوبارہ سکون کے ساتھ اپنی زندگی کے معمولات پر واپس نہیں آ جاتے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی رہے گی۔