عقیل یوسفزئی
چین کے شہر ارومچی میں روٹین کی ایک پراسیس کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے تیسرے درجے کے مذاکراتی عمل کا کوئی نتیجہ نکلا ہے نہ تادم تحریر کوئی رسمی اعلامیہ یا بیان جاری ہوا ہے ۔ مذاکراتی وفود میں کون کون شامل تھے اس کی تفصیلات بھی دستیاب نہیں ہیں ۔ اسی دوران پاکستان نے افغانستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ” آپریشن غضب للحق” مذاکرات کے دوران بھی جاری رہا ہے ۔
وزارت اطلاعات پاکستان نے گزشتہ روز آپریشن کے بارے جو تفصیلات جاری کی ہیں اس کے مطابق افغانستان میں تقریباً 800 دہشت گردوں اور افغان اہلکاروں کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر اور سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے 81 ٹھکانے تباہ کیے ہیں ۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں خصوصاً ضلع خیبر اور شمالی وزیرستان میں گزشتہ چند دنوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مختلف کارروائیوں کے نتیجے میں 40 کے لگ بھگ دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جن میں نصب درجن افغان دہشت گرد بھی شامل ہیں ۔
ان کارروائیوں میں اس وقت اضافہ ہوا جب دہشت گردوں نے بنوں کے علاقے ڈومیل میں خود کش حملہ کرتے ہوئے تقریباً نصف درجن سویلین کو شہید اور دو درجن کے قریب کو زخمی کردیا جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں ۔
پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے باڑہ اور شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن لانچ کیے جس کے نتیجے میں درجنوں خوارج کو ہلاک کردیا گیا ۔
اسی دوران پاکستان کے بارے میں ایک مبہم امریکی رپورٹ کی بنیاد پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ ایران نے اسلام آباد میں امریکہ اور دیگر کے ساتھ مذاکرات میں شمولیت سے انکار کیا ہے ۔ جس کے ردعمل میں ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک بیان میں اس قسم کی اطلاعات اور افواہوں کی تردید کی بلکہ پاکستان زندہ باد اور تشکر پاکستان کے ” نعرے ” بھی پوسٹ کیے گئے ۔
اس ریاست مخالف گھٹیا پروپیگنڈے میں پی ٹی آئی ، افغانستان اور بھارت کے مخصوص عناصر نے حسب معمول بنیادی کردار ادا کیا تاہم سب کو ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کے بعد ” منہ” کی کھانی پڑی اور پاکستان کی کامیاب سفارت کا سفر جاری رہا ۔
اس تمام صورتحال کے تناظر میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نہ صرف بدامنی کے واقعات اور شہداء ، زخمیوں سے لاتعلق رہی بلکہ پی ٹی آئی کا ریاست مخالف بیانیہ بھی جاری رہا جس پر خیبرپختونخوا کے عوام کا شدید ردعمل سامنے آتا رہا ۔
( 6 اپریل 2026 )
پختونخوا 6 سے 9 اپریل تک سیلابی صورتحال کا خدشہ، پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری
پشاور: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے 6 سے 9 اپریل کے دوران متوقع بارشوں کے پیش نظر ممکنہ سیلابی صورتحال سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے اور متعلقہ اضلاع کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے جبکہ دریائے کابل سے منسلک ندی نالوں میں بھی طغیانی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح کوہاٹ توئی، دریائے کرم اور دریائے گومل میں فلیش فلڈنگ کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔
ادارے نے پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مہمند، بنوں، کوہاٹ، کرم اور ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈپٹی کمشنرز کو خصوصی ہدایات جاری کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو نشیبی علاقوں اور حساس مقامات کی نشاندہی کرنے اور ممکنہ خطرے کے پیش نظر بروقت اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے مقامی آبادی اور سیاحوں کو دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے اور سیر و تفریح سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موسمی اور ممکنہ سیلابی صورتحال سے متعلق عوام کو بروقت آگاہ رکھیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کریں۔
مزید برآں ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں کو مکمل الرٹ رہنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملہ اور مشینری تیار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مویشی پال افراد کو بھی اپنے جانور محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے متعلقہ علاقوں میں گاڑیوں کی نقل و حرکت محدود رکھنے، سڑکوں کی ممکنہ بندش یا پانی جمع ہونے کی صورت میں فوری نکاسی کے اقدامات یقینی بنانے اور متاثرین کے لیے بروقت ریلیف اور طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ادارے کے مطابق دریاؤں اور ندی نالوں کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں متعلقہ اداروں کو ہر چھ گھنٹے بعد رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع اور معلومات کے لیے پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
پاکستان کی افغان پالیسی
وصال محمدخان
پاکستان اورافغانستان د وپڑوسی مسلم ممالک کے درمیان تعلقات ابتداسے ہی اتارچڑھاؤکاشکارچلے آرہے ہیں۔ قیام پاکستان کی مخالفت سے لیکرتادم تحریرافغانستان کی تقریباً تمام حکومتوں کی پالیسیاں پاکستان مخالف رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گزشتہ8عشروں میں دونوں ممالک کے درمیان درجنو ں بارسرحدی جھڑپیں ہوچکی ہیں مگرگزشتہ ماہ سے پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں،افغانستان کے اسلحہ ڈپوؤں اوردیگرفوجی ودفاعی تنصیبات کوفضائی کارروائی کانشانہ بنایا۔اس سے قبل پاکستان کی دہشتگردوں کیخلاف ایک کارروائی کے جواب میں طالبان رجیم نے افغان جنگجوؤں اوردہشتگردوں کی معیت میں پاکستان کے کئی سرحدی علاقوں پرباقاعدہ حملہ کردیا۔اس بھرپور حملے کے جواب میں پاکستان نے نہ صرف فضائیہ کاستعمال کرکے حملہ آوروں کوبھاگنے پرمجبورکیایاپھرٹھکانے لگادیااورانکے سازوسامان کو قبضے میں لیاگیایاپھرتباہ کردیا گیا جن میں امریکی بکتربنداوردیگرجنگی گاڑیوں سمیت سویت دورکے ٹینک بھی شامل ہیں،اسکے علاوہ مشہور زمانہ باگرام ائربیس کوبھی بمباری کانشانہ بنایاگیاجس سے یہ مشہورِزمانہ ائربیس ناقابل استعمال ہوچکاہے۔
اس تمام کارروائی میں پاکستان نے امریکہ اوراسرائیل کی طرح رجیم چینج یاطالبان رجیم کے ارکان کو نشانہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں برسراقتدارٹولے سے کوئی سروکارنہیں ان سے قبل حامدکرزئی اور اشرف غنی حکومتوں کیساتھ بھی پاکستان مخلصانہ تعاون کی پالیسی پرعمل پیرارہا مگر افغانستان کاحکمران طبقہ نہ صرف پاکستان کیخلاف معاندانہ پالیسی اپناتارہا بلکہ سازشوں اور چیرہ دستیوں میں بھی مصروف رہا۔
حامدکرزئی اوراشرف غنی بلاسبب نہارمنہ پاکستان پرتبراء بھیجنااپنااولین فرض سمجھتے تھے اورانہوں نے بھارت کوپاکستان کے خلا ف پراکسی جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ دی ہوئی تھی۔2021ء میں موجودہ رجیم کی برسراقتدارآنے پرپاکستان نے سکھ کاسانس لیاکہ اب گزشتہ ادوارکی طرح افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔اس سے قبل پاکستان نے امریکہ اورافغان طالبان کے درمیان معاہدہ کروانے میں اہم کرداراداکیا۔
قطرمیں ہونیوالے افغان طالبان اورامریکہ کے درمیان ہونیوالے معاہدے میں یہ شق بھی شامل تھی کہ افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی ہمسایہ ملک کیخلاف استعمال نہیں ہوگی۔اسی لئے پاکستان کوطالبان رجیم سے توقع تھی کہ وہ پاکستان کے مفروراوردہشتگردگروہوں کوپاکستان میں بزدلانہ کارروائیوں سے روکے گا۔مگراے بساآرزوکہ خاک شدکے مصداق طالبان رجیم کے برسراقتدارآنے پرپاکستان میں دہشتگری کے واقعات میں اضافہ ہوا۔پاکستان نے سفارتی سطح پریہ معاملہ افغان رجیم کیساتھ بارہااٹھایا اور اسکی توجہ پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات اوراسکے نتیجے میں عام شہریوں سمیت سیکورٹی فورسز کے جانی نقصان کی جانب دلائی جس کے جواب میں طالبان رجیم چارسال تک ٹی ٹی پی وغیرہ سے لاتعلقی ظاہرکرتارہامگردرِپردہ ساجھے داری جاری رہی۔
پاکستان اس ساجھے داری سے لاعلم نہیں تھااسلئے وہ باربار طالبان رجیم کودہشتگردی کی پشت پناہی سے منع کرتارہا۔مگرطالبان رجیم بعدازاں کھل کر دہشتگردوں کی حمایت میں سامنے آیاتوپاکستان نے افہام وتفہیم کی پالیسی ایک طرف رکھ کرافغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر بمبار ی کی جس سے سیخ پاہوکرطالبان رجیم نے پاکستان کیخلاف باقاعدہ اعلان جنگ کرکے سرحدی علاقوں پرحملہ کیا پاکستان نے اسکے جواب میں مسلسل ایک ماہ تک افغانستان میں فوجی تنصیات اوردہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا۔پاکستان نے پانچ سال تک انتظارکیاکہ طالبان رجیم معقول بات سننے پرآمادہ ہواوراپنی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروادے مگرافغان طالبان کوئی معقول بات سننے،ماننے پرآمادہ نہ ہوئے بلکہ انہوں نے یہ ”پاکستان کااندرونی معاملہ ہے“کی گردان شروع کردی جس سے تنگ آمدبجنگ آمد پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے مفاہمت پرمبنی اپنی پالیسی تبدیل کی اورافغانستان کے اندردہشتگردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنانا شروع کردیا۔
پاکستان کی افغانستان کے حوالے سے یہ پالیسی شفٹ اگرچہ دنیا میں حیرت بھری نظروں سے دیکھاجارہاہے مگر پاکستان کی موجودہ سول اورفوجی قیادت ”ہارڈسٹیٹ“کے فارمولے پرگامزن ہے یعنی اب پاکستان اپنے شہریوں کے اوپرہونیوالے ہرحملے کاجواب اسی طریقے سے دینے کی پالیسی پرعمل پیراہے۔یہ پالیسی پاکستان نے ایران کیخلاف بھی اپنائی جب ایران نے بلااشتعال پاکستان میں کارروائی کی تواسکے جواب میں ایران کے اندرحملہ کیاگیا۔ مئی2025ء میں بھارت نے ایک فالس فلیگ آپریشن کے بعدپاکستان کوحملے کانشانہ بنایاجس کے جواب میں اسکے دانت کھٹے کئے گئے اوراب افغانستان کواسی کے لہجے میں جواب دیاگیاجوخاصی حدتک کارگرثابت ہوا۔
افغانستان پرپے درپے حملوں سے امریکہ اورسوویت یونین کاچھوڑاہوادفاعی سٹرکچراوراسلحہ تقریباًتباہ ہوچکاہے اسکے علاوہ افغانستان میں دہشتگردی کے سٹرکچرکوبھی ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے جس سے اب پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات 60فیصدتک کم ہو چکے ہیں۔اب افغانستان پاکستان کیساتھ مذاکرات کیلئے بھی تیارہے اوردہشتگردوں کولگام ڈالنے پربھی آمادگی ظاہرکررہاہے جس سے ظاہرہو رہا ہے کہ پاکستان کی مفاہمت اورنرمی پرمبنی پالیسی کے برعکس ہارڈسٹیٹ والی پالیسی زیادہ کارگرثابت ہورہی ہے جس سے دنیامیں پاکستا ن کے وقارمیں بھی اضافہ ہواہے اوراسے دہشتگردحملوں، بھارت کی چیرہ دستیوں اورافغانستان کے ذریعے پراکسی وار سے بھی خاصی حد تک نجات مل چکی ہے۔
پاکستان کی افغان پالیسی میں تبدیلی اسکے نقطہ نظرسے درست ثابت ہورہی ہے اورتوقع ہے کہ یہ پالیسی دہشتگردی سے نجات میں معاون ثابت ہوگی۔چین کی ثالثی میں ایک بارپھردونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی خبریں گرم ہیں۔خداکرے کہ یہ کوشش کامیاب ہوتاکہ خطے کونصف صدی سے جاری خونریزی سے نجات ملے۔پاکستان نے اگرچہ حال ہی میں افغانستان کے حوالے سے اپنی دیرینہ پالیسی تبدیل کی ہے مگراسکے باوجودافغان رجیم کی جانب سے ماضی کے برعکس دانش وتدبرکامظاہرہ ہوتواسے مفاہمانہ پالیسی اپنانے میں دیرنہیں لگے گی کیونکہ پاکستان پرامن بقائے باہمی کے آفاقی اُصول کاقائل ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف وکلاء کا عدالتی بائیکاٹ
پشاور: ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف خیبرپختونخوا کے وکلاء نے آج عدالتی بائیکاٹ کیا، جس کے باعث پشاور ہائیکورٹ سمیت صوبہ بھر کی عدالتوں میں وکلاء پیش نہیں ہوئے۔
خیبرپختونخوا بار کونسل کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجاً ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا، جس پر عمل کرتے ہوئے وکلاء نے عدالتوں میں پیشی سے گریز کیا۔
اس موقع پر وکلاء کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ افسوسناک ہے اور اس فیصلے نے عوام کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اس دور میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔
وکلاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
61ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ میں ملک بھر سے 200 سے زائد کھلاڑی شریک
پشاور (سپورٹس رپورٹر): 61ویں نیشنل ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ قیوم اسپورٹس کمپلیکس پشاور میں ایک پروقار تقریب کے ساتھ شروع ہوگئی ہے، جس میں ملک بھر سے 200 سے زائد مرد و خواتین کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔
چیمپئن شپ کا باضابطہ افتتاح سابق صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ، ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر اور پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے صدر احمر ملک نے مشترکہ طور پر کیا۔ افتتاحی تقریب میں پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے سیکرٹری اعجاز علی، صوبائی اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ذوالفقار بٹ، ریجنل کوآرڈینیٹر او جی ڈی سی ولی محمد آفریدی، ڈائریکٹر ٹورنامنٹ کفایت اللہ خان، چیف کوچ شفقت اللہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فنانس شاہ فیصل سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے زیراہتمام اور ڈائریکٹریٹ آف اسپورٹس خیبرپختونخوا کے تعاون سے منعقد ہونے والی یہ چیمپئن شپ پشاور اسپورٹس کمپلیکس کے پی ایس بی جمنازیم میں جاری ہے۔ ایونٹ میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، اسلام آباد، گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے علاوہ ضم شدہ قبائلی اضلاع، پاکستان پولیس، واپڈا اور او جی ڈی سی سمیت مختلف اداروں کے کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔ مقابلے 10 اپریل تک جاری رہیں گے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر کھیل سید عاقل شاہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں کھیلوں کے میدان آباد ہو رہے ہیں اور حکومت و اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ محنت، نظم و ضبط اور کھیل کے جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے ملک و صوبے کا نام روشن کریں۔ انہوں نے کہا کہ 14 سال بعد قومی ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ کی میزبانی خیبرپختونخوا کو ملنا ایک بڑی کامیابی ہے۔
ڈی جی اسپورٹس خیبرپختونخوا تاشفین حیدر نے کہا کہ ڈائریکٹریٹ آف اسپورٹس کھلاڑیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ بہترین ماحول میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر سکیں۔ ان کے مطابق پشاور میں اس بڑے ایونٹ کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبہ کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور آئندہ بھی ایسے ایونٹس کا انعقاد جاری رکھا جائے گا۔
اس موقع پر پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے صدر احمر ملک نے کہا کہ ملک میں ٹیبل ٹینس کے ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف بہتر مواقع اور تسلسل کے ساتھ ایونٹس کے انعقاد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کی چیمپئن شپ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کا بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتی ہیں اور فیڈریشن کھیل کے فروغ کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔




