Local News

پاڑہ چنار اور جنوبی وزیرستان میں پاکستان کی سفارتی کامیابی کے حق میں ریلیاں

پاڑہ چنار/کرم، جنوبی وزیرستان: کرم کے علاقے پاڑہ چنار میں اہلِ تشیع برادری کی جانب سے ایران کی حالیہ پیش رفت کے تناظر میں ایک بڑی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجتماع کے دوران شرکاء نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں بھرپور نعرے بازی کی۔

مقررین نے اس موقع پر پاکستان کے مثبت اور دانشمندانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کی متوازن سفارتکاری نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ بروقت سفارتی اقدامات کے باعث نہ صرف بحران کو محدود کیا گیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بھی اضافہ ہوا۔

تقریب کے دوران قومی یکجہتی، پاک افواج کی قربانیوں اور پاکستان کی سفارتی کامیابی کو اجاگر کیا گیا، جبکہ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور مسلم دنیا کے اتحاد کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔ تقریب پرامن ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور شرکاء نے ملک کی سلامتی و ترقی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

Local News

دوسری جانب جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں بھی پاکستان کی سفارتی کامیابی کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں، جن میں قبائلی عمائدین، مشران، سول انتظامیہ، سماجی رہنما اور شہریوں نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں قومی پرچم اور پلے کارڈز تھے جن پر پاک فوج اور ملکی قیادت کے حق میں نعرے درج تھے۔

شرکاء نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے لیے حکومت پاکستان، بالخصوص وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں کی جانے والی سفارتی کوششیں قابل تحسین ہیں، جنہوں نے خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

National and International News

یومِ دستور: آئین عوام اور ریاست کے درمیان مقدس معاہدہ ہے، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ دستور 10 اپریل 2026 کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج کا دن آئینِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منظوری کی یاد میں قومی جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے اور اس موقع پر دستور کے معماروں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئین عوام اور ریاست کے مابین ایک مقدس معاہدہ ہے جو دونوں کے حقوق و فرائض کا قانونی، اخلاقی اور انتظامی تعین کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 اپریل 1973 کو منظور ہونے والے متفقہ آئین نے ملک میں پارلیمانی جمہوری نظام حکومت اور مضبوط ریاستی ادارہ جاتی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔

اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین پاکستان کے تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا محافظ ہے اور یہ نہ صرف ان حقوق کی وضاحت کرتا ہے بلکہ ان کی فراہمی کے لیے قانونی لائحہ عمل بھی یقینی بناتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ آئین وفاق پاکستان اور قومی اتحاد کی درخشاں علامت ہے، جہاں تمام اکائیاں قومی یگانگت، معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنے آئینی کردار کو بخوبی ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی باہمی اتفاق اور یکجہتی اللہ تعالیٰ کے اس ملک خداداد پر فضل و کرم کا مظہر ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جس عزت و وقار سے نوازا ہے اس پر پوری قوم شکر گزار ہے، اور ملک اپنی ترقی و خوشحالی کا سفر مستقبل میں بھی جاری رکھے گا۔

Opinion Article

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان

حکمران جماعت کا9اپریل کو راولپنڈی جلسہ مؤخر،مولانافضل الرحمان کاجمعہ کواحتجاج ملتوی

صوبائی حکمران جماعت نے ایک بارپھر9اپریل کولیاقت باغ میں جلسے کااعلان کیاتھااوراس حوالے سے تیاریاں جاری تھیں۔ پنجاب حکومت کودھمکیاں بھی دی جارہی تھیں کہ وہ ہماراراستہ نہ روکے ورنہ جہاں ہمیں روکاگیاوہیں پراحتجاج کرینگے۔ہررکن اسمبلی کوہدایت کی گئی تھی کہ وہ 500 افرادلائے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہاتھاکہ وہ 9اپریل کوصبح 11بجے پشاورسے راولپنڈی کیلئے بذریعہ جی ٹی روڈ روانہ ہونگے اگرانہیں اٹک کے مقام پرپنجاب میں داخلے سے روکاگیاتووہیں پراحتجاج ہوگا اورآئندہ کے لائحہء عمل، لانگ مارچ وغیرہ کا اعلان کیاجائیگا۔اس سلسلے میں باقاعدہ طورپربیانات اورالزامات کی مہم چلائی گئی مگرخلیج جنگ بندی اوراسلام آبادمذاکرات کے باعث پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کااجلاس منعقدہواجس میں وزیراعلیٰ سمیت پارٹی کی سنیئرقیادت نے شرکت کی۔کمیٹی اعلامئے کے مطابق امریکہ،ایران جنگ بندی سے متعلق پیشرفت خوش آئندہے،پاکستان 10اپریل کو اسلام آبادمیں اہم اجلاس کی میزبانی کررہاہے اسلئے تمام ترتوجہ سفارتی کوششوں اورامن مذاکرات کی کامیابی پرمرکوزرکھی جائے بانی پی ٹی آئی نے بھی سلمان صفدرکے ذریعے جلسہ ملتوی کرنے کاپیغام بھجوایا،نئی تاریخ کااعلان باہمی مشاورت سے کیاجائیگا۔

قبل ازیں کمشنرراولپنڈی حسن وقارچیمہ امن وامان اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جلسے کی درخواست مستردکرچکے ہیں ضلعی انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی اجلاس میں کیاگیا۔ خلیج جنگ میں پاکستان کی کامیاب سفارتی کوششوں کے بعدفریقین کی جانب سے جنگ بندی پرآمادگی اور10 اپریل سے اسلام آبادمیں مذاکرات کے سبب حکومتی کمیٹی نے مولانافضل الرحمان سے ملاقات کی اورانہیں وزیراعظم کاپیغام پہنچایاکہ 10 اپریل کو اسلام آبادمیں ایران،امریکہ سمیت دنیابھرکے مہمان آرہے ہیں لہٰذا جمعیت جمعہ کے روزہونیوالے مظاہرے ملتوی کرے تاکہ دنیاکومثبت پیغام جائے۔مولانانے حکومتی وفدکوپٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوام میں پائی جانیوالی بے چینی سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ پٹرول کی قیمت میں فوری طورپرکمی کی جائے۔وزیرداخلہ محسن نقوی،راناثناء اللہ اورطارق فضل چوہدری پرمشتمل وفدنے مولاناکویقین دہانی کروائی کہ آئندہ چندروزمیں پٹرول کی قیمت کم ہو جائیگی۔ مولانانے جذبہ خیرسگالی کے تحت جمعہ کوملک بھرمیں ہونیوالے مظاہرے ملتوی کرنے کااعلان کرتے ہوئے کہاکہ 12اپریل کومردان جلسے میں آئندہ کے لائحہء عمل کااعلان کیاجائیگا۔مولانانے اپنے پیغام میں کہاکہ امریکی حملے کاٹل جاناعارضی بہتری ہے پاکستان سمیت چار برادراسلامی ممالک پائیدارامن کیلئے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں مسلم برادری کااس بات پراتفاق ضروری ہے کہ اسرا ئیل کاوجودعالمی امن کیلئے خطرہ بن چکاہے۔دونوں جماعتوں نے حالات کی نزا کت کوسمجھتے ہوئے سمجھداری کامظاہرہ کیا۔ایک جانب اسلام آباددنیاکی نگاہو ں کامرکزبن چکاہے تودوسری جانب اگرملک میں احتجاجی مظاہرے اورجلسے جلوس ہوتے یاان میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونماہوجاتا تودنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہوتی اسلئے دونوں جماعتوں نے دانشمندی کامظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پروگرام مؤخرکئے۔ پی ٹی آئی راولپنڈی میں جلسہ عمران خان حکومت کی رخصتی کے تناظرمیں کررہی تھی۔ 9اپریل2022ء کوعمران خان کی حکومت کوعدم اعتماد کے ذریعے رخصت کیا گیا تھا۔

مرادسعیدکی نااہلی سے خالی ہونیوالی سینیٹ نشست پرانتخاب 23اپریل کو
مرادسعیدکی نااہلی سے خالی ہونیوالی سینیٹ نشست پرنئے انتخاب کاشیڈول جاری کردیاگیاہے۔جس کے تحت 8اپریل کوامیدواروں کے نام شائع کئے گئے،10اپریل کوکاغذات کی جانچ پڑتال مکمل کی گئی،کاغذات درستگی یامستردہونے کیخلاف اپیلیں 13اپریل تک ٹریبونل میں دائرکی جائینگی،اپیلوں کافیصلہ 15اپریل،نظرثانی شدہ فہرست16اپریل، کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ 17اپریل ہے جبکہ انتخاب 23اپریل کوہوگا۔اس نشست پراگرچہ جے یوآئی خیبرپختونخواکے نائب امیرمولاناعبدالحسیب حقانی،ن لیگ کے اصغرعلی،پیپلزپارٹی کی راحیلہ بی بی جبکہ دومزیدامیدوارسجادخان اورغلام بادشاہ بھی میدان میں موجودہیں مگر صوبائی اسمبلی میں دوتہائی سے زائد اکثریت کے پیش نظرحکومتی امیدوارکی کامیابی یقینی ہے۔نشست پرپی ٹی آئی نے پشاور کے صدرعرفان سلیم کونامزد کیاہے جنہیں گزشتہ سینیٹ انتخابات میں ایک اے ٹی ایم امیدوارکے حق میں دستبردارکروایا گیاتھا۔ عرفان سلیم پارٹی کے دیرینہ کارکن ہیں ایک خبریہ بھی گرم تھی کہ اس نشست پربشریٰ بی بی کی جانب سے انکے ڈرائیورکونامزدکیاگیا تھامگر پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے اسے مستردکرتے ہوئے دیرینہ کارکن کوٹکٹ جاری کیاہے۔اس سے قبل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سربراہی میں قائم پارلیمانی بورڈکو53درخواستیں موصول ہوئیں،ٹکٹ کی حصول کیلئے ہرامیدوارنے لابنگ کی،صوبائی وزرابھی من پسندامیدوارکیلئے سرگرم رہے، شوکت یوسفزئی اوردیگراہم راہنما بھی سینیٹربننے کے خواہاں تھے مگرانکی دال نہ گل سکی۔اپوزیشن جماعتوں کے کسی ایک امیدوار پراتفاق بھی خارج ازامکان نہیں۔

صوبے میں بارشوں سے تباہی،47افرادجاں بحق، 117زخمی،652مکانات کونقصان98مکمل تباہ
گزشتہ ہفتے بارشوں کے ایک اورسلسلے نے صوبے میں تباہی مچادی۔میدانی علاقوں میں 24گھنٹے تک مسلسل جاری رہنے والی بارش سے کئی افرادجاں بحق جبکہ کھڑی فصلوں کوشدیدنقصان پہنچا۔پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق حالیہ بارشوں سے 12روز میں 47افراد جاں بحق جبکہ117زخمی ہوچکے ہیں،652مکانوں کونقصان پہنچاہے جن میں 554جزوی جبکہ 98مکانات مکمل طورپرمنہدم ہوئے ہیں۔ جاں بحق ہونیوالوں میں 27بچے،13مرداور7خواتین،جبکہ زخمیوں میں 45مرد،21خواتین اور51بچے شامل ہیں۔ حالیہ بارشوں سے حکومتی کارکردگی کاپول بھی کھل چکا ہے۔پشاورکومثالی شہربنانے کے دعوے پانی میں بہہ گئے ہیں،کئی اہم شاہراہیں اور علاقے پانی میں ڈوب گئے،صوبائی اسمبلی کے سامنے سورے پل کابارش کے پانی ڈوب جانامعمول بن چکاہے جس سے آمدورفت میں مشکلات پیش آتی ہیں ماہرین کے مطابق غیرمتوقع بارشیں گندم کی فصل کیلئے نقصان دہ ہیں۔

جلسوں میں سرکاری وسائل کابے دریغ استعمال،پشاورہائیکورٹ میں ایک اوردرخواست
پشاورہائیکورٹ کے دورکنی بنچ نے جلسوں میں سرکاری وسائل کے استعمال پرایک بارپھرفیصلہ محفوظ کیاہے۔ سماعت کے موقع پردرخواستگزار کے وکیل انوارلحق اورایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل پیش ہوئے۔درخواستگزارکے وکیل نے عدالت کوبتایاکہ 9اپریل کوراولپنڈی میں جلسہ منعقدہورہاہے جس کیلئے اعلان کیاگیاہے کہ اگرجلسے کااین اوسی جاری نہیں کیاگیاتوپھرلوگ جہاں ہونگے وہیں احتجاج کرینگے جس کا واضح مطلب یہی ہے کہ ایک بارپھرعوام کومشکلات کاسامناکرناپڑیگااورایمبولینسزکوبھی راستہ فراہم نہیں کیاجائیگاان سیاسی اجتماعات میں سرکاری وسائل کادھڑلے سے استعمال ہورہاہے۔ہرممبراسمبلی کو500افرادلانے کاٹاسک سونپاگیاہے جن پرسرکاری وسائل استعمال ہو نگے جوغیرآئینی اورغیرقانونی ہے اورعوام کوتکلیف الگ ہوگی۔جسٹس صاحبزادہ اسداللہ نے کہاکہ اس حوالے سے ہم پہلے بھی فیصلہ دے چکے ہیں اسلام آبادمیں جنگ بندی مذاکرات ہورہے ہیں اس کاخیال رکھاجائے۔ایڈوکیٹ جنرل نے کہاکہ یہ عدالت پہلے بھی اس حوالے سے فیصلہ دے چکی ہے جس پرعملدرآمدکیاگیاہے۔درخواستگزروکیل نے کہایہ کیساعمل درآمدہے کہ صوبائی وزرا،ایم پی ایزاور متوقع وزراکے پی ہاؤس میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اورہاؤس کوشیلڈکے طورپراستعمال کیاجارہاہے ایڈوکیٹ جنرل بتادیں کہ اگرعدالتی فیصلے پر عملدرآمدہواہے توسرکاری وسائل کیونکراستعمال ہورہے ہیں؟۔دونوں جانب دلائل سننے کے بعدجسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اورجسٹس انعام اللہ پرمشتمل دورکنی بنچ نے فیصلہ محفوط کرلیا۔