Local News

خیبرپختونخوا میں ثقافتی ورثے کے فروغ کیلئے مکالماتی نشست کا فیصلہ

پشاور: خیبرپختونخوا میں ثقافت اور ثقافتی ورثے کے فروغ و تحفظ کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بٹھا کر مکالماتی نشست منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہ فیصلہ کلچر جرنلسٹس فورم خیبر پختونخوا کے اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت فورم کے صدر احتشام طورو نے پشاور پریس کلب میں کی۔

اجلاس میں شرکاء نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ ثقافت کے شعبے کو محض موسیقی اور ڈراموں تک محدود کر دینا لمحہ فکریہ ہے، جبکہ ثقافت ایک ہمہ جہت تصور ہے جس میں زبان، ادب، روایات اور طرزِ زندگی کے تمام پہلو شامل ہوتے ہیں۔

دریں اثناء فورم کے ایک وفد نے پی ٹی وی پشاور مرکز کا دورہ کیا جہاں جنرل منیجر ابراہیم کمال سے ملاقات کی گئی۔ وفد کی قیادت احتشام طورو کر رہے تھے جبکہ نائب صدر امجد علی خادم اور فنانس سیکرٹری امجد ہادی یوسفزئی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، خصوصاً خیبرپختونخوا کی ثقافت اور ثقافتی ورثے کے فروغ، مقامی فنکاروں کی فلاح و بہبود اور میڈیا کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ابراہیم کمال نے کہا کہ کلچر جرنلسٹس فورم کی خدمات قابلِ قدر ہیں اور ادارہ ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔

فورم کے صدر احتشام طورو نے اس موقع پر کہا کہ صوبے کی حقیقی ثقافت اور ورثے کے تحفظ کے لیے تمام سنجیدہ حلقوں کو ساتھ لے کر چلنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی پشاور کے ساتھ مکمل تعاون کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ جلد مختلف اداروں کے سربراہان اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے عملی اقدامات یقینی بنائے جا سکیں۔ علاوہ ازیں پشاور میں جلد ایک جامع مکالماتی نشست منعقد کی جائے گی جس میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کر کے ان کی آراء کی روشنی میں قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں گی۔

Local News

جھیل سیف الملوک روڈ کھولنے کا کام شروع

مانسہرہ: پانچ ماہ سے زائد عرصے کے وقفے کے بعد مشہور سیاحتی مقام جھیل سیف الملوک تک جانے والی سڑک کو بحال کرنے کے لیے کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کاغان ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل رحمت علی کی ہدایت پر سیاحوں کی رسائی ممکن بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

کے ڈی اے نے بھاری مشینری کی مدد سے سڑک پر جمی برف، گلیشیئرز اور دیگر رکاوٹوں کو ہٹانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع جھیل سیف الملوک اس وقت مکمل طور پر برف سے ڈھکی ہوئی ہے اور دلکش مناظر پیش کر رہی ہے، جس کے باعث سیاحوں کی دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے۔

کے ڈی اے کے بلڈنگ انسپکٹر زیشان خان کے مطابق ناران سے جھیل تک تقریباً 11 کلومیٹر طویل سڑک پر چھوٹے بڑے گلیشیئرز سمیت متعدد رکاوٹیں موجود ہیں، تاہم اب تک تقریباً پانچ کلومیٹر راستہ صاف کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگر آئندہ دنوں میں موسم سازگار رہا تو ایک ہفتے کے اندر فور ویل ڈرائیو گاڑیوں کے لیے جھیل تک رسائی بحال کر دی جائے گی، جس کے بعد سیاح برف سے ڈھکی جھیل کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔

Wisal Article

خیبرپختونخواکی صورتحال

وصال محمدخان

کرکٹ سٹیڈیم میں صوبائی اسمبلی کامنعقدہ اجلاس، مشق لاحاصل کے سواکچھ نہیں

اپوزیشن کابائیکاٹ صوبے کے واحدبین الاقوامی کرکٹ سٹیڈیم پر کھیل کی بجائے سیاسی شو،شائقین مایوس،گیٹ بند

گزشتہ اتوارکووزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مردان جلسے میں اعلان کیاکہ وہ صوبائی اسمبلی کااجلاس اسمبلی ہال کی بجائے کسی عوامی مقام پر منعقد کرینگے سپیکرنے انکی خواہش کے احترام میں عمران خان کے نام سے منسوب شدہ سابقہ ارباب نیازکرکٹ سٹیڈیم میں اجلاس بلالیا۔مذکورہ سٹیڈیم نومبر 1984ء میں اس وقت کے صدرمملکت جنرل ضیاء الحق کے احکامات پر پشاور ڈو یلپمنٹ اتھارٹی نے تعمیرکروایا۔سٹیڈیم کواس وقت کے وفاقی وزیرکھیل ارباب نیازسے منسوب کیاگیا جنہوں نے صوبے کو انٹرنیشنل کرکٹ سے روشناس کروانے میں اہم کرداراداکیا۔ سٹیڈیم کانام ابتدامیں شاہی باغ سٹیڈیم تھامگر1987ء میں میونسپل کارپوریشن پشاورنے نام بدل کرارباب نیاز انٹر نیشنل کرکٹ سٹیڈیم رکھا۔ سٹیڈیم میں کئی بین الاقوامی ٹیسٹ اورون ڈے میچزکاانعقادہوچکاہے مگرنائن الیون کے بعد صوبے میں خراب امن وامان کے پیش نظر یہا ں ہرقسم کی کرکٹ معطل ہوگئی۔پرویزخٹک دورِحکومت میں سٹیڈیم کی تزئین وآرائش اور توسیعی منصوبہ سامنے آیا جو محمود خان اور بعد ازا ں علی امین گنڈاپورکی حکومتوں میں بھی جاری رہا حالانکہ ا بتدامیں دعویٰ کیاگیاتھا کہ چندماہ کے اندریہ کام مکمل کیاجائیگامگر تقریباًایک عشرے تک یہ کام جاری رہا۔ہرپی ایس ایل کے وقت دعویٰ کیاگیاکہ اس بارسٹیڈیم میں میچز منعقد ہونگے مگر توسیعی کام نامکمل ہونے کے سبب ایساممکن نہ ہوسکا۔حالیہ پی ایس ایل ایڈیشن میں پشاورکوایک میچ دیاگیاتھا۔خلیج جنگ کے باعث چونکہ پوراایڈیشن لاہور اورکراچی میں کرانے کافیصلہ ہوااسلئے یہ سٹیڈیم تاحال کھیلوں کی سرگرمیوں سے محروم ہے مگرموجودہ حکومت نے اسے سیاست کیلئے بروئے کارلانے کا کارنامہ انجام دے دیا۔علی امین گنداپور حکومت نے گزشتہ برس سٹیڈیم کانام تبدیل کرکے عمران خان سے منسوب کیاجس پراپوزیشن اور پشاور کے مقامی حلقوں نے خاصا شورمچایا مگرحکومت نام تبدیل کرنے پراڑگئی۔اب اسی سٹیڈیم میں صوبائی اسمبلی کا اجلا س منعقد کیا گیا جس کا بظاہرکوئی مقصد نظرنہیں آرہا سوائے ان حکومتی دعوؤں کے کہ ہم نے اسمبلی اجلاس کوبندکمروں سے نکال کرکھلے ماحول میں منعقد کیا۔ پیپلز پارٹی کے سوا اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے اس اجلاس کابائیکاٹ کیا۔اپوزیشن لیڈرڈاکٹر عباد اللہ کی زیرصدارت اپوز یشن جماعتوں کے منعقدہ اجلاس میں تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرزنے منفرداجلاس کے بائیکاٹ کافیصلہ کیا۔ اپوزیشن لیڈر کا اس حوالے سے کہناتھا کہ ’’اسمبلی بلڈنگ موجودہونے کے باوجودسٹیڈیم میں اجلاس کااقدام غیرضروری اورقومی وسائل کاضیاع ہے اس اقدا م سے عوام کوبے جا اذیت دی جارہی ہے،یہ اقدام سیاسی شو،نمائشی سرگرمی اور سرکاری وسائل کو ذاتی تشہیرکیلئے استعمال کرنے کے سوا کچھ نہیں،سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران ایسے اقدامات پرسوالیہ نشان ثبت ہیں،ہزاروں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سے نہ صرف اضافی اخراجات ہوئے بلکہ سیکیورٹی پلانز بھی متاثرہوئے،معاشی مشکلات کاشکاراور 9سوارب روپے کے مقروض صوبے پرنامناسب بوجھ ڈالاگیا یہ بچگانہ اقدام کسی صورت قابل قبول نہیں، ہم سرکاری وسائل کے بے جا استعمال کیخلاف عدالت سے رجوع کرینگے“۔بہرحال سٹیڈیم میں اجلاس دو گھنٹے تاخیرسے شروع ہوا۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کاخطاب جاری تھاکہ تیزآندھی اورپھربارش شروع ہوئی۔جس سے وزیر اعلیٰ کو خطاب مختصرکرکے جانا پڑا۔ جس اجلاس پرلاکھوں روپے خرچ ہوئے اس سے عوام کوکوئی فیض نہ مل سکا، گیٹ بندتھے جس سے اجلاس دیکھنے کے شائقین کومایوس لوٹناپڑا۔ اجلاس میں چندگھسی پھٹی تقریروں کے سوا کوئی خاص کارروائی بھی ممکن نہ ہوسکی۔آندھی کے دوران کوئی وزنی چیزگرنے سے سیکیورٹی افسراحسن اقبال کے سرپرگہری چوٹ آئی جنہیں بعدازاں ہسپتال منتقل کیاگیا جبکہ سڑکوں کی بندش سے شہریوں کوشدیدمشکلات کاسامنارہا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خطاب میں کہاکہ ”عمران خان اورانکی اہلیہ کوناحق قیدکیاگیاہے اورمجھے ان سے ملنے بھی نہیں دیاجارہاحالانکہ اس حوالے سے اسلام آبادہائیکورٹ کاحکم بھی موجودہے مگر وزیر اعظم نے مجھے جواب دیاکہ وہ پوچھ کربتائیں گے“۔اس طرح یہ منفرد اجلاس بغیرکوئی خاص کارروائی ملتوی ہوا۔ سپیکربابر سلیم سواتی کے مطابق اسمبلی اجلاس کا کسی سٹیڈیم میں انعقادتاریخ سازلمحہ ہے۔سپیکراس بھونڈی حرکت کوتاریخ سازلمحہ کیوں نہ قراردینگے انکی تنخواہ اورمراعات کیلئے 1973ء ایکٹ میں ترامیم کابل صوبائی اسمبلی میں پیش کیاجا چکا ہے جس کے تحت سپیکراورڈپٹی سپیکرمنصب سے اترنے کے بعدبھی سرکاری مراعات حاصل کرنے کے حقدارہونگے۔مجوزہ ترامیم میں انہیں ریٹائرمنٹ کے بعداسمبلی سیکرٹریٹ سے ایک گریڈ17کاسیکرٹری،معاون،باورچی اورڈرائیوررکھنے کااستحقاق حاصل ہوگا،گرفتاری سے مستثنیٰ قراردینے،قانون نافذکرنیوالے اداروں کوچھاپے سے روکنے،اسمبلی تحلیل ہونے کے باوجودبحیثیت سپیکروڈپٹی سپیکرسرکاری مراعات حاصل کرنے، دفتراورگھرپردوفون،انٹرنیٹ،موبائل فون،بیوہ بچوں سمیت ہوائی یاریل مفت سفر،دوملازم ساتھ رکھنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔عوامی حلقے مراعات بل پرناپسندیدگی کااظہارکررہے ہیں۔سوشل میڈیاپربھی یہ مراعات شدیدتنقیدکی زدمیں ہیں۔
دیگر تینوں صوبوں کے دورے کرنے کے بعداب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آزادکشمیرکادورہ کررہے ہیں۔یہ دورہ 25اپریل سے شیڈول ہے اس سلسلے میں تحریک انصاف آزادکشمیرکے ایک وفدنے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی جس میں دورۂ کشمیرپرتبادلہ خیال کیاگیا۔اس موقع پروزیر اعلیٰ کاکہناتھاکہ یہ دورہ بانی کی ہدایت پرجاری عوامی تحریک کاتسلسل ہے جسے مزیدمؤثراندازمیں آگے بڑھایاجائیگا۔ وفدکے اراکین نے اس موقع پرکہاکہ کشمیری عوام میں جوش وخروش پایاجاتاہے اوران کاتاریخی استقبال کیاجائیگا۔

ریڈیوپاکستان کی جانب سے 9مئی مقدمات کی جلدسماعت کیلئے درخواست

ریڈیوپاکستان اب 9مئی واقعات کومنطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سرگرم نظرآرہاہے۔انسداددہشتگردی کی عدالت میں 9مئی 2023ء کو ریڈیوپاکستان حملہ کیس میں پراسیکیوشن کی جانب سے چالان پیش کرنے میں تاخیرکے خلاف دائردرخواست پرجواب طلب کرلیاگیا۔ ڈائر کٹر ریڈ یوپاکستان کی جانب سے دائرکردہ درخواست میں مؤقف اپنایاگیاہے کہ 9 مئی 2023کوریڈیوپاکستان پرحملے اورتوڑپھوڑکے واقعات کودوسال سے زائدکاعرصہ گزرچکاہے تاہم ابھی تک کیس میں چالان جمع نہیں کیاگیا۔مقدمے میں پی ٹی آئی کے سابقہ اورموجودہ ایم این ایز،ایم پی ایزاوراہم قائدین نامزدہیں جبکہ کیس میں وزیراعلیٰ سمیت کئی دیگرملزمان کی تصدیق پنجاب فارنزک لیب اورنادراسے ہوچکی ہے۔بااثرملزمان کے سبب تاخیری حربے آزمائے جارہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مقررکردہ سپیشل پراسیکیوٹرکوچالان فوری طور پر جمع کروانے کاحکم جاری کیاجائے،اگروہ عمل نہیں کرتے توانکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے عدالت نے فریقین کونوٹس جاری کر تے ہوئے سماعت28اپریل تک ملتوی کردی۔یادرہے 9مئی واقعات کاکیس انسداددہشتگردی عدالت میں زیرسماعت ہے مگرتین سال کا عرصہ بیت جانے کے باوجودکیس میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہورہی۔ وزیراعلیٰ سمیت کئی اہم قائدین مذکورہ مقدمے میں مطلوب ہیں۔

کوہستان کرپشن سکینڈل،مرکزی ملزم ٹھیکیدارکی 3ارب86کروڑروپے کی پلی بارگین منظور

پشاورکی احتساب عدالت نے کوہستان میگاکرپشن سکینڈل کے مرکزی ملزم ٹھیکیدارمحمدایوب کی 3ارب86کروڑروپے کی پلی بارگین درخواست منظورکرلی ہے۔ملزم کے وکیل نے عدالت کوبتایاکہ نیب نے محمدایوب کوگرفتارکیاجواس وقت سینٹرل جیل میں زیرحراست ہیں، ملزم نے نیب کو3ارب 86کروڑروپے کی پلی بارگین درخواست دی ہے جسے ڈی جی اورچیئرمین نیب کی منظوری کے بعداب عدالت سے توثیق ضروری ہے،ملزم نے پلی بارگین کیلئے مختلف جائیدادیں،گاڑیاں اورنقد رقم بطورضمانت دی،جبکہ مختلف جائیدادمالکان بھی عدالت میں پیش ہوئے جواپنی جائیدادیں بطورضمانت رکھواناچاہتے ہیں۔چونکہ محمدایوب سے ریکوری کاطریقہ کارطے ہوچکاہے اسلئے عدالت بھی اسکی توثیق کرکے رہائی کاحکم جاری کرے۔نیب کے مطابق ملزم نے نیب آرڈ یننس 1999ء سیکشن25بی کے تحت پلی بارگین کی درخواست دی۔پلی بارگین میں سینیٹراعظم سواتی کابیچاگیامکان بھی شامل ہے۔یادرہے ملزم کے نام پرمختلف پراپرٹیز،پلاٹس اورایک لینڈکروزرگاڑی موجودہے۔