Article

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان

صوبائی حکومت چونکادینے والی منصوبہ بندی پرعمل پیرا،صوبائی اسمبلی کاسٹیڈیم اجلاس تنقیدکی زدمیں

صو بائی حکومت کی کوشش رہتی ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا چونکادینے والاعمل کرے جس سے میڈیااورسوشل میڈیاپراس کاتذکرہ ہو اور تبصروں کا مرکزومحورحکمران جماعت ہو۔اسی سلسلے میں صوبائی اسمبلی کااجلاس کرکٹ سٹیڈیم میں منعقدکیاگیاجس کے بارے میں دعویٰ کیاگیاتھاکہ یہ عوامی اجلاس ہوگامگراجلاس کے دوران عوام کوسٹیڈیم کے قریب بھی پھٹکنے نہیں دیاگیا۔ابتدامیں کہاگیا تھاکہ اجلاس پر20لاکھ روپے کے اخراجات آئینگے بعدازاں تیس لاکھ کی بات کی گئی مگرتازہ اطلاعات کیمطابق صوبائی اسمبلی کے منفرد اور بے مقصداجلاس پرکروڑوں روپے خرچ کئے گئے جبکہ پندرہ سوسے دوہزارپولیس اہلکاروں نے سیکیورٹی کے فرائض انجام دئے۔اپوزیشن لیڈر ڈاکٹرعباداللہ نے اجلاس پر اٹھنے والے اخراجات کوذاتی تشہیر قرار دیکر عدالت سے رجوع کااعلان کیاتھامگر تا حال اس پربھی عملدرآمدنہ ہوسکااسی سبب عوام حکومت اور اپوزیشن دونوں سے نالاں ہیں۔صوبے اورعوامی مفادکے خلاف کسی اقدام پراپوزیشن کی جانب سے کوئی روک ٹوک نہیں،کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی جارہی اورنہ ہی عوام کواعتمادمیں لیاجارہاہے۔اپوزیشن کی بڑی جماعتیں مسلم لیگ ن اورجے یوآئی اپنے اپنے مفادات کی اسیر بن کررہ گئی ہیں جبکہ چھوٹی جماعتوں اے این پی،پی پی پی اورپی ٹی آئی پی کاکرداربھی ان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔سٹیڈیم میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے پراپوزیشن لیڈرنے تمام اپوزیشن جماعتوں کااجلاس منعقدکیاجس میں اجلاس کے بائیکاٹ پرسب متفق ہو ئے مگر پیپلز پارٹی نے اجلاس میں شرکت کافیصلہ کیا۔ گورنرفیصل کریم کنڈی نے بھی مذکورہ اجلاس کووقت اوروسائل کاضیاع قراردیامگران کے بھا ئی اورپیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈراحمد کنڈی نے اجلاس میں شرکت کافیصلہ کیا۔سٹیڈیم اجلاس میں کوئی خاص کارروائی موسمی خرابی کے باعث ممکن نہ ہوسکی۔

وزیراعلیٰ کادورہ لاہورمنسوخ،آزادکشمیرجلسے میں شرکت،سرکاری ہیلی کاپٹرکااستعمال تنقیدکی زدمیں

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے آزادکشمیراورلاہورکے دوروں کافیصلہ کیابعدازاں لاہورکادورہ تومنسوخ کیاگیامگر آزاد کشمیر جلسے میں شرکت کی گئی جہاں جانے کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹراستعمال کیاگیاجس پراپوزیشن نے واویلامچایاکہ سرکاری وسائل ذاتی تشہیر اور پارٹی پروموشن کیلئے استعمال ہورہے ہیں مگرتاحال کسی نے بھی اس سلسلے میں عدالت سے رجوع نہیں کیا حالانکہ پشاورہائیکورٹ سرکاری وسائل سیاسی مقاصدکیلئے استعمال کوممنوع قراردے چکی ہے عدالت سے رجوع کی صورت میں حکومت کیخلاف سخت حکم جار ی ہونے کا قوی امکان ہے۔آزادکشمیرکیلئے ہیلی کاپٹرکے استعمال پر8لاکھ روپے کے اخراجات کاشور مچایا گیامگراسکے خلاف عدالت سے رجوع نہیں کیاگیا۔اس دوران افغانستان کیساتھ سرحدپرجھڑپوں کاسلسلہ دوبارہ شروع ہوا۔باجوڑ اور وزیر ستان سیکٹرزپرفائرنگ اورجوابی فائرنگ کا سلسلہ اب بھی وقفے وقفے سے جاری ہے افغانستان کی جانب سے شرپسندحملے کرتے ہیں جس کے جواب میں پاکستانی فورسز بھر پورطریقے سے جواب دیتی ہیں۔پشاورکے نواحی علاقے حسن خیل میں ڈرون کاپٹر حملہ ہواجس پروزیر اعلیٰ نے رات گئے قبائلی ارکان اسمبلی پرمشتمل اجلاس طلب کیاجس میں ڈرون حملوں کیخلاف ہفتے کے روزگرینڈجرگہ منعقدکرنے کافیصلہ کیاگیا۔صوبائی حکومت کے گرینڈ جرگوں سے اب لوگوں کااعتباراٹھ چکاہے رائے عامہ کے مطابق یہ جرگے نشستنند،گفتنند اور برخاستنندکے سواکچھ نہیں۔

اپوزیشن انتشارکاشکار، کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت،عوامی رابطے بھی نہ ہونے کے برابر

سیاسی میدان کا جائزہ لیاجائے توجے یوآئی اوراے این پی اس حوالے سے متحرک نظرآرہی ہیں کہ یہ دونوں جماعتیں ہرحال میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں پی ٹی آئی اورجے یوآئی نے مردان میں جلسوں کاانعقادکیاتواے این پی نے بھی مردان میں حیدر ہو تی کی سرکردگی میں میدان سجایا۔مردان میں حیدرہوتی خاصے مقبول ہیں انکے جلسوں میں عوام کی جم غفیر شریک ہوتی ہے۔ اے این پی کی مرکزی قیادت قومی سطح کے معاملات میں مصروف ہے جبکہ حیدرہوتی مردان میں عوامی رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں وہ گاہے بگاہے عوامی اجتماعات منعقدکرتے رہتے ہیں جن میں شرکاکی تعدادقابل ذکر ہوتی ہے۔جبکہ مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی کی عوامی سطح پرکوئی خاص سرگرمی موجودنہیں۔

صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں گرماگرمی،حکومت اوراپوزیشن کے ایکدوسرے پرلفظی گولہ باری

صوبائی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں حکومت اوراپوزیشن کے درمیان گرماگرمی دیکھنے کوملی جہاں وزیرقانون آفتاب عالم نے کہاکہ ”مہنگی بجلی کے ذمہ دار آئی پی پیزکیساتھ مہنگے معاہدے کرنیوالے مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی ہیں گیس اوربجلی خیبرپختونخواکی پیداوارہے مگر صوبے کواس کاحق نہیں دیاجارہاجوآئین کے آرٹیکل158کی کھلی خلاف ورزی ہے“۔حکومت پرجوابی حملہ کرتے ہوئے جے یوآئی کے پارلیمانی لیڈر مولانافضل الرحمان کے بھائی مولانالطف الرحمان نے کہاکہ ”صوبے میں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے،حکومت کے پاس معیشت کی بہتری کاکوئی منصوبہ نہیں،کرکٹ سٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس کے انعقادسے وسائل ضائع اورایوان کاتقدس پامال کیا گیا ملک میں ہائبرڈ نظام کی بنیادپی ٹی آئی نے رکھی صوبائی حکومت نے اگراپوزیشن کودیوارسے لگانے کاسلسلہ بندنہ کیاتواسمبلیوں کی قائمہ کمیٹیوں کابائیکاٹ کردیں گے‘‘۔

وزیراعظم شہبازشریف کے کفایت شعاری اقدامات کی ستائش،صوبائی اسمبلی میں قراردادمنظور

صوبائی اسمبلی نے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے کفایت شعاری مہم کومثبت قراردینے کی قراردادکثرت رائے سے منظور کرلی۔ قراردادمیں توانائی بحران پرقابوپانے کیلئے حکومتی سطح پرکفایت شعاری اپنانے،شادی ہالزرات دس بجے جبکہ شاپنگ مالزاور بڑ ے تجارتی مراکزنوبجے تک بندکرنے اورشادیوں میں ون ڈش لاگوکرنے کامطالبہ کیاگیاہے۔حکومتی رکن عبدالغنی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں مطالبہ کیاگیاکہ ڈرون کاپٹرزسے بیگناہ شہری،خواتین اوربچے نشانہ بن رہے ہیں اورنجی املاک کانقصان ہوتاہے حکومت وفاق سے رابطہ کرے تاکہ وہ اس سنگین صورتحال کانوٹس لے اورڈرون کاپٹرکے استعمال پرپابندی عائدکی جائے۔

خیبرپختونخواپولیس کارکردگی،59شہید88زخمی،283دہشتگردگرفتار،108ہلاک،سہ ماہی رپورٹ
خیبرپختونخواپولیس نے رواں سال کے پہلے تین مہینوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی ہے۔جس کے مطابق سی ٹی ڈی نے گزشتہ تین ماہ کے دوران1087انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنزکئے جس کے نتیجے میں 283 دہشتگردگرفتارجبکہ108دہشتگرداوراشتہاری ملزمان ہلاک کئے گئے،گرفتاردہشتگردوں میں 3انتہائی مطلوب کمانڈرزاورایک خاتون خودکش حملہ آوربھی شامل ہے،اس دوران پولیس کیخلاف194 حملے ہوئے جن میں 106حملوں کومؤثرحکمت عملی اورجدیدٹیکنالوجی کی مددسے ناکام بنادیاگیا،ان حملوں میں 59 افسران وجوان شہیدجبکہ 88زخمی ہوئے۔سی ٹی ڈی کی کارروائیوں میں 24ایس ایم جیز،55ہینڈگرنیڈز، 21پستول،ایک خودکش جیکٹ اور1700کلوگرام سے زائددھماکہ خیزموادقبضہ میں لیاگیا۔منشیات کیخلاف کارروائیوں میں پولیس نے7771مقدمات درج کرکے7751ملزمان گرفتار کئے،7028کلوگرام منشیات برآمدکی گئیں جن میں 5695کلوچرس،275کلوافیون،210کلوہیروئن،847کلوآئس اور 22 ہزار ایک سوچوبیس لیٹرشراب بھی شامل ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت6684سرچ اینڈسٹرائیک آپریشنزکئے گئے۔

بلدیاتی ادارے18مارچ کو تحلیل ہوچکے، 120دن میں انتخابات آئینی ضرورت، حکومت لاتعلق
صوبے میں بلدیاتی اداروں کی تحلیل کوایک ماہ سے زائدکاعرصہ گزرچکاہے مگر صوبائی حکومت کی جانب سے نئے انتخابات کیلئے کوئی منصوبہ بندی نظرنہیں آرہی۔یادرہے 18مارچ کوبلدیاتی ادارے اپنی چارسالہ مدت پوری کرکے تحلیل ہوگئے ہیں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2017ء کی شق 219 سب کلاز 4 کے تحت صوبائی حکومت120دنوں میں انتخابات کروانے کی پابندہے مگرحکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کسی دلچسپی کااظہارنہیں کیاجارہا۔لوکل کونسل ایسوسی ایشن نے حکومت سے رابطہ کیامگرکوئی تسلی بخش جواب نہیں دیاگیاجس سے ظاہرہورہا ہے کہ خیبرپختونخواکی حکومت بھی پنجاب کی طرح بقیہ مدت بلدیاتی اداروں کے بغیرگزارناچاہتی ہے۔لوکل کونسل ایسوسی ایشن نے عدالت سے بھی رجوع کیاہے جہاں کیس زیرسماعت ہے۔

Editorial

افغان میڈیا ، حکمرانوں کی پروپیگنڈا مشینری اور پاک افغان تعلقات میں مزید تلخی

عقیل یوسفزئی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر ایک دوسرے پر باقاعدہ حملوں کی شکل میں تبدیل ہوگئی ہے تاہم اب کے بار افغان حکمران اور ان کا میڈیا بھارت کی تقلید کرتے ہوئے نہ صرف فیک نیوز پر زیادہ انحصار کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ وہ لسانی کارڈ بھی استعمال کرنے لگے ہیں ، دوسری جانب افغان میڈیا نے اپنے حکمرانوں کی ” فیڈنگ” پر استنبول میں ٹریک 2 ڈپلومیسی کے ایک ایونٹ کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان رسمی مذاکرات کا نام دیکر اس نوعیت کی ہر پراسیس کو متنازعہ اور مشکوک بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔
استنبول میں گزشتہ روز ایک ایونٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان اور افغانستان کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم افراد کے علاؤہ ترکی اور قطر کے نمائندے بھی شریک ہوئے تاہم پاکستانی شرکاء کو اس وقت حیرت ہوئی جب انہیں پتہ چلا کہ افغان شرکاء میں اس ایونٹ کے ضابطہ کار کے برعکس دو افغان حکومتی عہدے دار بھی شامل ہیں جن کے نام غنچہ گل اور سلمان بتایے جاتے ہیں ۔
اس کے برعکس پاکستان کے شرکاء میں نامور صحافی حامد میر ، دفاعی تجزیہ کار عبدالقیوم ، سفارت کار آصف درانی اور مشاہد حسین سید شامل تھے ۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق عین اس ایونٹ کے دوران افغان میڈیا کی جانب سے اس نشست کو افغانستان اور پاکستان کے درمیان کسی رسمی مذاکراتی عمل کا نام دینے پر پاکستان کے شرکاء میں سے نامور اینکر پرسن حامد میر نے نہ صرف سخت تنقید کا نشانہ بنایا بلکہ انہوں نے ایک قطری نمایندے کے رویے پر سٹینڈ لیتے ہوئے ان کو فریق قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ اگر مینڈیٹ اور ڈومین کے مطابق کارروائی نہیں چلائی جاتی تو وہ اس ایونٹ سے بائیکاٹ کردیں گے اور یہ کہ وہ 14 مئی کو کابل میں ہونے والی دوسری نشست میں شرکت بھی نہیں کریں گے ۔ ایک دو اور شرکاء نے بھی حامد میر کے موقف کی تائید کی جس کے بعد دیگر شرکاء کی درخواست پر اس ایونٹ کو آگے بڑھایا گیا ۔
ایونٹ میں موجود ایک افغان مہمان نے رابطے پر بتایا کہ پاکستانی شرکاء نے دوران بحث افغانیوں سے تقاضا کیا کہ وہ کراس بارڈر ٹیررازم ( دراندازی ) اور ڈیورنڈ لائن پر اپنی اور افغانستان کی پوزیشن واضح کریں جس پر دوسری جانب سے مختلف ویوز سامنے آئیں ۔ یوں اس ایونٹ کو افغان عہدے داروں اور میڈیا نے متنازعہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب یہ بات واضح نہیں ہورہی کہ شیڈول کے مطابق 14 مئی کو کابل کی نشست ہوگی یا نہیں ؟
دوسری جانب پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے گزشتہ روز شمالی وزیرستان اور مہمند کے سرحدی علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے افغانستان سے دراندازی کرنے والے 13 خوارج کو ہلاک کردیا ہے جبکہ افغان اور عالمی میڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ننگرہار اور کنڑ میں متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے ۔
اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی گزشتہ روز اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر بہت ” جذباتی” انداز میں صوبے میں جاری بدامنی کی ذمہ داری کالعدم گروپوں اور افغان سرپرستوں کی بجائے اپنی ریاست ( پاکستان) پر ڈال کر اعلان کیا ہے کہ اس صورتحال کا جائزہ لینے اور اس پر مشاورت کے لیے ہفتے کے روز ایک اور جرگہ بلایا جائے گا ۔