Article

خیبرپختونخواکی صورتحال

وصال محمدخان
حکمران جماعت میں فارورڈبلاک کی خبریں،ناراض ارکان اسمبلی کی تعدادبارے مختلف افواہیں
خیبرپختونخواکی حکمران جماعت میں ایک بارپھرفارورڈبلاک کی خبریں گرم ہیں۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے شائدان خبروں کوکارنرکرنے کیلئے وزیراعلیٰ ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی کااجلاس طلب کیا۔اجلاس میں تیس تک ارکان اسمبلی شریک نہیں ہوئے جس پرافواہوں کا سلسلہ درازہواکہ حکومت اسمبلی میں اکثریت کھوچکی ہے۔وزیراطلاعات شفیع جان نے ناراض ارکان کودھمکی دی کہ غداری کرنیوالوں پر خیبر پختو نخواکی زمین تنگ کردی جائیگی۔ ناراض ارکان نے جواجلاس منعقدکیااس میں پندرہ سے بیس ارکان شریک ہوئے۔ذمہ دارذرائع کے مطابق ناراض ارکان میں سے بعض نے وزیراعلیٰ سے رابطہ کر کے اپنی حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان نے شکایات کے انبارلگادئے بعض وزرانے بیوروکریسی کی جانب سے عدم تعاو ن کی شکایت کی جبکہ بعض نے وزارت نہ ملنے کاشکوہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے وزارت سے محروم رہ جانیوالوں کویقین دہانی کروائی کہ انہیں پارلیما نی سیکرٹریزکے عہدے دئے جائینگے جس میں اختیارات، مراعات اورتمام سہولیات دستیاب ہونگیں۔ وزارتیں نہ ملنے پرشکوہ کناں ارکان کو پارلیمانی سیکرٹری بناکررام کیاجائیگا۔بجٹ کی بھی آمد آمد ہے اسلئے حکومت ارکان کوراضی رکھنے کی بھرپورکوشش کررہی ہے اس سلسلے میں اسدقیصرکی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے جوناراض ارکان سے رابطے کرکے تحفظات دور کر نیکی کوشش کریگی۔ناراض ارکان نے پارٹی چیئرمین بیرسٹرگوہرکوجوخط لکھاہے اس میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے،انکے کام نہیں ہورہے،وزیراعلیٰ ملاقات کاوقت نہیں دیتے بلکہ میسیج کاجواب تک دیناگوارانہیں کرتے اوربانی کی رہائی کیلئے تحریک چلانے سے اجتناب برتاجارہاہے۔ پارٹی کے اندریہ لاواپک تورہاہے مگرمبصرین کے مطابق ابھی اسکے ابلنے کاوقت نہیں آیا۔کابینہ توسیع میں نظرانداز ہونیوالوں کی جانب سے ردعمل متوقع تھامگراس میں ایسی شدت موجودنہیں جس سے حکومت کوسردست کوئی خطرہ ہو۔

اگلے مالی سال کیلئے صوبائی بجٹ کی تیاری پرکام جاری،کل حجم 2300ارب روپے متوقع
صوبائی حکومت اگلے مالی سال2026-27 کے بجٹ اورسالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری میں مصروف ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق اگلا بجٹ ٹیکس فری ہوگااوراس میں کوئی نیاٹیکس نہیں لگایاجائیگا۔گزشتہ برس بجٹ کاحجم 2119ارب روپے تھااس سال یہ حجم 2300 ارب روپے سے زائدجبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 580ارب روپے مختص ہونے کاامکان ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال میں مرکزسے1671ارب روپے ملنے کی توقع ہے جن میں 159ارب دہشتگردی کیخلاف جنگ کی مدمیں ہونگے۔خالص بجلی منافع کی مد میں 107ارب روپے ملنے کاامکان ہے جس میں 36ارب اگلے مالی سال جبکہ71ارب بقایاجات کی مدمیں ہونگے۔صوبے کواپنے وسائل سے150ارب آمدن کی توقع ہے جن میں سے99ارب ٹیکسوں جبکہ51ارب دیگرمدات میں ہونگے،ضم قبائلی اضلاع میں جاری ترقیا تی کاموں کیلئے334 ارب روپے مختص کرنے جبکہ غیرملکی ترقیاتی قرضہ جات وامدادکی مدمیں 160ارب روپے ملنے کاامکان ہے، بندو بستی اضلاع کیلئے1971ارب روپے مالیت کابجٹ تیارکیاجارہاہے بندوبستی اضلاع میں اخراجا ت جاریہ پر1545ارب جبکہ ترقیاتی کامو ں پر426ارب روپے خرچ ہونگے،صوبائی حکومت کی جانب سے اگلے سال کاسب سے بڑامنصوبہ ضم اضلاع کیلئے پیش کیا جارہا ہے جسے”روشن قبائل“ کانام دیاگیاہے اوراس کیلئے1000ارب روپے مختص کئے جائینگے۔،یاد رہے گزشتہ مالی سال کے کل بجٹ 2119ارب روپے میں ضم اضلاع کیلئے293ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔ جولائی 2025ء سے مارچ2026ء تک تین سہ ماہیو ں کے دوران صرف1025ارب روپے استعمال ہوئے۔ جاری مالی سال کیلئے547ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کااعلان کیاگیا تھا جس کااب تک50فیصدبھی خرچ نہ ہوپایا۔ہرسال کی طرح اگلے مالی سال کے بجٹ کیلئے دعوے تو بہت کئے جارہے ہیں مگرگزشتہ بجٹ کا نصف بھی استعمال نہ ہونانااہلی اورناقص کارکردگی کامنہ بولتاثبوت ہے۔ جو صوبائی حکومت اپنے بجٹ کانصف بھی خرچ کرنے سے قاصر ہو اس نے صوبے کی تقدیرکیابدلنی ہے اورترقی کیاہونی ہے؟

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا10جون کوقومی اسمبلی کے سامنے دھرنے یا مظاہرے کاعندیہ
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے دھمکی دی ہے کہ اگربانی سے انکی ملاقات نہیں کروائی جاتی تووہ 10جون کوقومی اسمبلی کے سامنے دھرنادیکروفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے۔اس سے قبل علیمہ خان نے بھی صوبائی حکومت کوبجٹ پیش یاپاس کرنے سے منع کیاہے۔گزشتہ برس بھی صوبائی حکومت نے بجٹ پاس کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیامگرپھراچانک راتوں رات بجٹ منظورکروالیاگیا۔اب ایک بارپھربجٹ منظور نہ کروانے کے حوالے سے باتیں سامنے آرہی ہیں۔تحریک انصاف کوبطورپارٹی یہ ادراک بھی نہیں کہ بجٹ پاس کرناصوبائی حکومت کی مجبوری،ذمہ داری اورضرورت ہوتی ہے۔بجٹ پاس نہ کرنے کی صورت میں وفاقی حکومت کی صحت پرکیااثرپڑسکتاہے اس سے صوبائی حکومت اپنے روزمرہ معاملات چلانے سے بھی قاصرہوجائیگی۔اگرکوئی صوبائی حکومت بجٹ منظورنہیں کریگی تو حکومت چلے گی کیسے؟ نجانے علیمہ خان یاپی ٹی آئی کے ذہن میں کس نے یہ بات ڈال دی ہے کہ وہ بجٹ منظورنہیں کریگی تواس سے بانی رہاہوجائینگے۔بجٹ صوبے کوچلانے کیلئے ضروری ہوتاہے بجٹ منظورنہ کرواناوفاق کیساتھ نہیں بلکہ صوبے اورعوام کیساتھ زیادتی کے مترادف ہوگا۔بہرحال صوبائی حکومت پرایک بارپھراسلام آبادمیں احتجاج کابھوت سوارہوچکاہے لگتاہے کوئی سکینڈل اورمسئلہ پیداکرنے کی کوشش ہورہی ہے جس میں یقیناحسب سابق حکمران جماعت کوسبکی کاسامناکرناپڑسکتاہے۔

پشاورہائیکورٹ کی نئی سنیارٹی لسٹ جاری،اسلام آبادسے تبدیل شدہ جسٹس بابرستارکاساتواں نمبر
پشاورہائیکورٹ نے اسلام آبادہائیکورٹ سے جسٹس بابرستارکی تبدیلی کے بعدعدالت عالیہ میں تعینات ججوں کی سنیارٹی لسٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ پہلے،جسٹس اعجازانورسنیئرپیونی جج،جسٹس سیدارشدعلی تیسرے،جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ چوتھے،جسٹس محمدنعیم انور5ویں،جسٹس وقاراحمدچھٹے جبکہ اسلام آبادہائیکورٹ سے پشاورتبدیل ہونیوالے جسٹس بابرستارساتویں نمبر پرہیں۔اعلامئے میں مزید14ججزکی سنیارٹی تفصیل بھی جاری کی گئی ہے۔

نیب کی جانب سے کوہستان کرپشن سکینڈل کے6ارب روپے اثاثے خیبرپختونخواحکومت
نیب نے کوہستان کرپشن سکینڈل میں ریکورکی گئی 6ارب روپے کی رقم صوبائی حکومت کے حوالے کردی ہے۔ پاکستا نی تاریخ کے چندبڑے سکینڈلزمیں شامل کوہستان کرپشن سکینڈل میں 37ارب روپے سے زائدکی مشتبہ مالی بے ضابطگیوں اورخردبرد کا سرا غ لگایاگیاہے۔ ڈائر کٹر نیب خیبرپختونخواکے مطابق صوبے کے حوالے ہونیوالے اثاثوں میں نقدرقوم،قیمتی دھاتیں،مہنگی رہائشی و کمرشل جائیدادیں اورلگژری گاڑیاں شامل ہیں۔چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر)نذیر احمد نے ریکورشدہ اثاثے چیف سیکرٹری خیبرپختو نخوا کے حوالے کئے۔نیب کے مطابق یہ اقدام ایک وسیع احتسابی عمل کاحصہ ہے جس کے تحت قومی خزانے سے لوٹی گئی رقوم کی بازیابی کا سلسلہ جار ی رہیگا۔چیئرمین نیب نے صوبے کے سنیئرصحافی ارشدعزیزملک کو کوہستا ن کرپشن سکینڈل منظرعام پرلانے کے اعتراف میں ایوارڈسے بھی نوازا۔

عیدالاضحی پرخیبرپختونخواکے سیاحتی مقامات پررش، 12لاکھ سے زائدسیاحوں کی آمد
عیدالاضحی کے موقع پرملک بھرسے 12لاکھ67ہزارسے زائدسیاحوں نے خیبرپختونخواکے پرفضامقامات کارخ کیا۔محکمہ سیاحت کے مطابق بڑی تعدادمیں سیاحوں کی آمداس بات کاثبوت ہے کہ صوبہ نہ صرف قدرتی حسن سے مالامال ہے بلکہ سیاح اسے محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ 27سے31مئی کے دوران مجموعی طورپر12لاکھ67ہزار568سیاحوں نے بشمول ضم قبائلی اضلاع سیاحتی مقاما ت کارخ کیاجن میں 2سوکے قریب غیرملکی بھی شامل ہیں۔وادی سوات میں سب سے زیادہ4لاکھ16ہزار 794،وادی ناران میں 1لاکھ87ہزار954 جبکہ گلیات میں 1لاکھ48ہزار828 سیاح آئے۔ضم قبائلی اضلاع میں مجموعی طور پر 3لاکھ94ہزار682سیاح آئے۔جنوبی وزیرستان میں 1لاکھ44ہزارجبکہ اورکزئی میں 94ہزار112 سیاحوں کی آمدریکارڈکی گئی۔