وصال محمدخان
وفاق اورچاروں صوبے بجٹ کی تیاریوں میں مصروف،صوبائی بجٹ پربیان بازی کاسلسلہ جاری
ملک کے دیگرصوبوں اوروفاق کی طرح خیبرپختونخوامیں بھی بجٹ کی تیاری پرکام جاری ہے۔ایک جانب محکمہ خزانہ کی ٹیم،اس سے متعلقہ افراداورمحکمے بجٹ بنانے میں مصروف ہیں تودوسری جانب صوبائی حکومت کے کچھ ذمہ داراوربانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان بجٹ کو بانی کی ملاقات اورمشاورت سے مشروط کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔گزشتہ برس بھی انہی دنوں میں گنڈاپورکی حکومت نے بجٹ پیش اور منظورنہ کروانے کی بیان بازی کاسلسلہ جاری رکھاہواتھامگراچانک رات کے وقت اجلاس بلاکربجٹ کی منظوری دے دی گئی۔جس کی توجیح پیش کرتے ہوئے علی امین نے کہاکہ بجٹ منظورنہ کروانے کی صورت میں حکومت کاخاتمہ ہوجاتاہم نے بجٹ منظورکرواکر وفاقی حکومت کی سازش ناکام بنادی۔اس بارپھرکچھ حکومتی حلقے بجٹ کوبانی کی ملاقات سے مشروط کرنے کی بیان بازی جاری رکھے ہوئے ہیں۔مگر صحافتی حلقوں کویقین ہے کہ بجٹ پیش بھی ہوگااوراسکی منظوری بھی دی جائیگی۔
فارورڈبلاک کی جانب سے بجٹ منظوری میں حکومت کاساتھ نہ دینے کاعندیہ،حکومت کامتبادل انتظام
بجٹ کی منظوری میں ایک اوربڑی رکاؤٹ حکمران جماعت کے اندر فارورڈبلاک ہے جس کے بیشتر ارکان بھی بجٹ کوبانی پی ٹی آئی کی مشاورت سے مشروط کرنیکی بیان بازی میں مصروف ہیں۔ ہفتہء گزشتہ کے دوران سابق سپیکرمشتاق غنی نے فارورڈبلاک کی بلی تھیلے سے باہرلاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انکے گروپ کوتیس سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ پشاورسے رکن اسمبلی فضل الٰہی اورنوشہرہ سے ادریس خٹک کھل کرفارورڈبلاک کاحصہ بنے ہوئے ہیں۔مشتاق غنی سمیت یہ تینوں ارکان اسمبلی گزشتہ تین انتخابات میں مسلسل منتخب ہوتے آرہے ہیں مشتاق غنی کوپرویزخٹک دورمیں صوبائی وزار ت دی گئی تھی جبکہ محمودخان دورمیں انہیں سپیکرصوبائی اسمبلی بنادیاگیاتھاگزشتہ انتخابات کے بعدانہیں وزیراعلیٰ بنانے کی خبریں زیر گردش تھیں مگرقرعہ فال علی امین گنڈاپورکے نام نکلا۔بعدمیں انہیں اہم وزارت دینے کی خبریں بھی تسلسل سے آتی رہیں مگرشائدگنڈاپور انہیں وزیربنانے پر تیار نہیں تھے۔سہیل آفریدی دورمیں انہیں یکسرنظراندازکیاگیاہے انکے مطابق بانی نے ملاقات کے دوران کہا کہ ”مشتاق میں تجھے کابینہ میں دیکھناچاہتاہوں“۔فضل الٰہی کوپرویزخٹک دورمیں وزارت دی گئی تھی مگرموجودہ سمیت بقیہ دونوں ادوارمیں انہیں اس قابل نہیں سمجھا گیاجبکہ ادریس خٹک بھی مسلسل تیسری باراسمبلی کے رکن بنے ہیں مگرانہیں بھی وزارت نہیں دی گئی فضل الٰہی کا کہنا تھاکہ اگروزیراعلیٰ ورکرز کنونشن بلاکر حلفاًاحتجاجی دھرنے یاتحریک کااعلان نہیں کرتے توہم بجٹ منظوری میں ساتھ نہیں دینگے۔
جبکہ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ناراض ارکان سے مفاہمت نہ ہونیکی صورت میں بجٹ منظوری کیلئے حکمت عملی طے کرلی گئی ہے۔مولانا فضل الرحمان اور گورنر فیصل کریم کنڈی سے وزیراعلیٰ کی ملاقاتیں اسی سلسلے کی کڑی بتائی جارہی ہے۔حکومتی ارکان کی تعداد92ہے جبکہ ناراض ارکان 32 ہم خیالوں کادعویٰ کررہے ہیں جبکہ اپوزیشن ارکان کی تعداد53ہے۔ 145رکنی ایوان میں بجٹ منظوری کیلئے 73 ارکا ن کی حمایت درکار ہوگی حکومت کے مطابق اس کابندوبست کرلیاگیاہے اوراگرناراض ارکان نے بجٹ میں ووٹ نہیں دیاتوانہیں اپنے ارکا ن تسلیم نہیں کیا جائیگا اورسپیکرکے ذریعے انکے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔
صوبائی بجٹ 15جون کواسمبلی میں پیش ہونے کاامکان،بجٹ اجلاس 30جون تک جاری رہے گا
بجٹ 15جون کواسمبلی میں پیش ہونے کاامکان ہے۔ جبکہ صوبائی اسمبلی کابجٹ اجلاس 30جون تک جاری رہیگا۔ذرائع کے حوالے سے بجٹ کے جواعدادوشمارسامنے آئے ہیں انکے مطابق اس باربجٹ کاحجم2300ارب روپے ہوگا۔یادرہے رواں مالی سال کے بجٹ کاحجم2119ارب روپے تھاجس میں سے جولائی 2025ء سے مار چ 2026ء تک تین سہ ماہیو ں کے دوران صرف1025ارب روپے استعمال ہوئے ہیں۔سرکاری ذرائع کے مطابق اگلا بجٹ ٹیکس فری ہوگااوراس میں کوئی نیاٹیکس نہیں لگایاجائیگا۔
بجٹ کاحجم 2300ارب روپے،روشن قبائل پروگرام کے تحت1000ارب مختص کرنے کااعلان
اس سال بجٹ کا حجم 2300 ارب روپے جبکہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے پہلے تو580 ارب مختص کرنے کا امکان ظاہرکیاگیاتھامگراب اس میں 109ارب کی کمی واقع ہوچکی ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال میں مرکز سے1671ارب روپے ملنے کی توقع ہے جن میں 159ارب دہشتگردی کیخلاف جنگ کی مدمیں ہونگے۔خالص بجلی منافع کی مد میں 107ارب روپے ملنے کا امکان ہے جس میں 36 ارب اگلے مالی سال جبکہ 71ارب بقایاجات کی مدمیں ہونگے۔صوبے کواپنے وسائل سے150ارب آمدن کی توقع ہے جن میں سے 99 ا رب ٹیکسوں جبکہ51 ارب غیرملکی قرضوں اورگرانٹس کی صورت میں ہونگے،ضم قبائلی اضلاع میں جاری ترقیا تی کاموں کیلئے334 ارب روپے مختص کرنے جبکہ غیرملکی ترقیاتی قرضہ جات وامدادکی مدمیں 160ارب روپے ملنے کاامکان ہے، بندو بستی اضلاع کیلئے 1971ارب روپے مالیت کابجٹ تیارکیاجارہاہے بندوبستی اضلاع میں اخراجا ت جاریہ پر1545ارب جبکہ ترقیاتی کامو ں پر426 ارب روپے خرچ ہونگے،صوبائی حکومت کی جانب سے اگلے سال کاسب سے بڑامنصوبہ ضم اضلاع کیلئے پیش کیا جارہا ہے جسے”روشن قبائل“ کانام دیاگیا ہے اوراس کیلئے 1000ارب روپے مختص کرنے کادعویٰ کیاجارہاہے۔یاد رہے گزشتہ مالی سال کے کل بجٹ 2119 ارب روپے میں ضم اضلاع کیلئے 293ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔ جاری مالی سال کیلئے547ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کا اعلان کیاگیا تھا جس کانوماہ میں 50فیصدبھی خرچ نہ ہوپایا۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں صوبہ 109ارب روپے سے دستبردار ہوا ہے جس پراپوزیشن کی جانب سے شدید تنقید کرکے کہاجارہاہے کہ دہشتگردی سے متاثرہ صوبے کوزیادہ رقم دینے کی ضرورت تھی۔ حکومت نے صوبائی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی شرح 2فیصدسے کم کرکے 0.75فیصد کرنے کاعندیہ دیاہے جس سے صنعتی اورتجارتی شعبوں کو ریلیف ملے گا۔طلبہ اور نوجوانوں کیلئے قرضہ سکیم،تخفیف غربت پروگرام،صحت کارڈ،سیاحت کے فروغ،جنگلات میں اضافے اور دیگر سکیمیں بھی بجٹ کاحصہ ہیں مگراس حوالے سے بجٹ پیش ہونے کے بعدہی کوئی تبصرہ کیاجاسکے گا۔گزشتہ ہفتے تک وفاق کی جانب سے پی ایس ڈی پی میں صوبے کوکم فنڈزدینے اوربجلی منافع کی عدم ادائیگی کے سبب صوبائی حکومت سرپلس بجٹ سے انکاری تھی مگرقومی اقتصاد ی کونسل کی ملاقات اورترقیاتی بجٹ میں سے109ارب روپے وفاق کوفراہم کرنے پرآمادگی کے بعدشائدصورتحال بدل چکی ہے۔
این ایف سی ایوارڈ180دن میں اَپ ڈیٹ کیاجائیگا، شہبازشریف کی سہیل آفریدی کویقین دہانی
وزیر اعظم شہبازشریف نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کویقین دہانی کروائی ہے کہ چھ ماہ میں این ایف سی ایوارڈ اَپ ڈیٹ کیاجائیگا۔اسلئے امکان ہے کہ آئی ایم ایف شرائط کے مطابق سرپلس بجٹ پیش کیاجائے۔ حکومت کی جانب سے ہرسال کی طرح نئے بجٹ کیلئے دعوے تو بہت کئے جارہے ہیں مگربجٹ پیش ہونے پرمعلوم ہوگاکہ یہ عوام دوست بجٹ ہے یا حسب ِسابق الفاظ کا گورکھ دھنداہے۔
