وصال محمدخان
خیبرپختونخواراؤنڈاَپ
خیبرپختونخوامیں بجٹ کامعاملہ ایک بارپھرسیاسی بیان بازی کامحوربن چکاہے۔گزشتہ برس علی امین گنڈاپورکی حکومت نے اس نارواسلسلے کا آغازکرتے ہوئے بجٹ کی منظوری کوبانی کی ملاقات سے مشروط کیاتھامگربعدازاں رات کے وقت اجلاس بلاکربجٹ کی منظوری دے دی گئی۔ سہیل آفریدی حکومت بھی تاحال اسی راستے پرگامزن ہے۔ بجٹ کی منظوری کوکبھی بانی کی ملاقات سے مشروط کیاجارہاہے تو کبھی تین ماہ کاعبوری بجٹ پیش کرنے کے بیانات سامنے آتے ہیں۔صوبائی اسمبلی کااجلاس جوگزشتہ ماہ عیدالاضحیٰ سے قبل18مئی کوکورم کی نشاندہی پریکم جون تک ملتوی کیاگیاتھااسکے بعد یہ اجلاس ایک ماہ میں 5بار 8جون،15جون،17جون اور 19 جون تک ملتوی کیاجا چکا ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جمعہ19جون دن 2بجے والے اجلاس کا اعلا میہ جاری ہوچکاہے توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں بجٹ پیش کیاجایگامگربجٹ پیش کرنے کاکوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔بجٹ پیش کرنے اور منظورکروانے میں ایک اور بڑی رکاوٹ حکمران جماعت کے ناراض ارکان یافارورڈبلاک بھی ہے۔کچھ ذرائع کادعویٰ ہے کہ حکومت کی جانب سے بانی سے ملاقات اور مشاورت تومحض ایک بہانہ ہے در حقیقت حکومت ناراض ارکان کی مخالفت کے سبب بجٹ پیش کرنے سے ہچ کچارہی ہے۔ کے پی ہاؤس اسلام آباد میں بلائے گئے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں تین ماہ کیلئے عبوری بجٹ پیش کرنے پربھی مشاورت ہوئی مگرآئینی ماہرین نے اس امکان کومستردکرتے ہوئے کہاکہ آئین کے آرٹیکل 123 اور 124 کے تحت حکومت تین ماہ کاعبوری بجٹ اس صورت میں پیش کرسکتی ہے جب جنگی حالات ہوں، کوئی وبائی صورتحال ہو، حکومت نئی تشکیل دی گئی ہو یا کابینہ مکمل نہ ہو۔ ان میں سے حکومت کوکسی بھی صورتحال سامنانہیں اسلئے عبوری بجٹ خارج ازامکان ہے۔اجلاس میں وفاقی حکومت کے طرزعمل،صوبائی بجٹ سے متعلق پیداہونیوا لی صورتحال،ترقیاتی فنڈزمیں ممکنہ کٹوتیوں اورسیاسی حالات کاتفصیلی جائزہ لیاگیاجبکہ وفاق کیخلاف بھرپورقانونی اورسیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کافیصلہ بھی کیاگیا۔اجلاس کوبتایاگیا کہ اگرعمران خان سے ملاقات نہ ہونے دی گئی توماہرین قانون کی خصوصی ٹیم صوبائی بجٹ سے متعلق تمام آئینی اورقانونی آپشنزکاتفصیلی جائزہ لے کرصوبے کے ٓائینی حقوق کی تحفظ کیلئے جامع قانونی لائحہء عمل تیارکریگی۔اجلاس میں اس عزم کابھی اظہارکیاگیاکہ خیبرپختونخوا کے بجٹ پرشب خون مارنے یاصوبے کے ترقیاتی فنڈزمیں کٹوتی کی کسی بھی کوشش کوہرگز قبول نہیں کیاجائیگااوراس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ عمران خان کی مشاورت کے بغیرتسلیم نہیں کیاجائیگا۔ناراض ارکان بھی اب بجٹ اجلاس میں شرکت پرآمادہ دکھائی دے رہے ہیں انہوں نے تین ماہ کیلئے اخراجات کابجٹ پیش کرنے اورایک لاکھ افراداڈیالہ جیل کے باہرپہنچنے کی کال دینے کامشورہ دیاہے۔ناراض ارکان کی بجٹ اجلاس میں شرکت پرآمادگی سے واضح ہوتاہے کہ اب بجٹ پیش بھی کیاجائیگااوراسکی منظوری بھی دے دی جائیگی۔یہ صوبائی حکومت کااندرونی معاملہ تھا جسے وفاق کے سرتھوپنے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ وفاق نے فنڈزادائیگی سے انکارنہیں کیا البتہ ترقیاتی بجٹ سے 109ارب روپے کی کٹوتی ہوئی ہے جوقومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں اتفاق رائے سے ہوا ہے۔ صوبائی حکومتوں نے پہلے بھی کبھی پورا ترقیاتی بجٹ استعمال نہیں کیا۔یہاں بیشتر ترقیاتی بجٹس کا 40 سے 50 فیصدہی استعمال ہوا ہے ۔ایسے میں 109ارب روپے کی کٹوتی سے صوبے کی ترقیاتی بجٹ پرکوئی خاص فرق پڑنے کاامکان نہیں۔حکومت بجٹ پاس کروانے میں ناکامی کے خوف سے توپوں کارخ وفاق کی جانب کرناچاہتی تھی حالانکہ وفاق سے کوئی معقول شکایت بھی موجودنہیں بس الزامات لگا کر اوربانی سے ملاقات کی آڑلیکربیان بازی کا بازارگرم کیاگیاہے۔حالانکہ گزشتہ بجٹ میں بھی بانی سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی۔
خیبرپختونخواکی سابقہ حکمران اوراٹھارویں ترمیم کی خالق جماعت عوامی نیشنل پارٹی نے اٹھارویں ترمیم کے16سال مکمل ہونے پرتفصیلی وائٹ پیپرجاری کرتے ہوئے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کوتنقیدکانشانہ بنایاہے۔وائٹ پیپرکے مطا بق2010ء میں منظورہونیوالی اٹھارو یں آئینی ترمیم پاکستان کی وفاقی سیاست کی تاریخی کامیابی تھی تاہم سولہ برس گزرنے کے باوجوداسکے حقیقی ثمرات عوام تک منتقل نہ ہوسکے۔ ”اٹھارویں آئینی ترمیم کے سولہ سال،اختیارات کی منتقلی،عدم توازن اورنچلی سطح کی جمہوریت کابحران“کے عنوان سے جاری وائٹ پیپر میں کہاگیاہے کہ عوامی نیشنل پارٹی نے ہمیشہ صوبائی خودمختاری اوروفاق کی مضبوطی کیلئے جدوجہدکی ہے،کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اورمتعدد اختیارات کی صوبوں کومنتقلی نے وفاقی نظام کومضبوط بنانے میں اہم کرداراداکیا،مگرآج ایک جانب وفاق صوبائی خودمختاری کومحدودکرنے اور مالی اختیارات واپس لینے کی کوشش کررہاہے تو دوسری جانب صوبائی حکومتیں بھی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ناکام رہی ہیں، آئینی روح کے خلاف ختم شدہ وفاقی وزارتوں کومختلف ناموں سے دوبارہ فعال کیاگیاہے،حکومتیں اشرافیہ کے زیرقبضہ شعبوں رئیل سٹیٹ اورزرعی شعبے کوٹیکس نیٹ میں نہ لاسکیں،این ایف سی کے تحت حاصل اختیارات اوروسائل صوبائی دارالحکومتوں تک محدودہوکررہ گئے ہیں، آئین کے آرٹیکل 140اے پرعملدرآمدنہیں کیاجارہا،بلدیاتی اداروں کوبااختیاربنانے کی بجائے باربارتحلیل کیاجارہاہے اورمنتخب نمائندو ں کی بجائے اختیارات بیوروکریسی کودئے جارہے ہیں،صوبائی حکومتیں اپنے داخلی محصولات میں اضافہ کرنے میں ناکام رہی ہیں اور بدستوروفاقی وسائل پرانحصارکررہی ہیں،این ایف سی ایوارڈمیں صوبوں کے57.5فیصدحصے میں کسی قسم کی کمی یااٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت منتقل شدہ اختیارات کودوبارہ مرکزکے ماتحت لانے کی ہرکوشش کی مزاحمت کی جائیگی۔وفاق اپنے مالی بحران کابوجھ صوبوں کومنتقل کرنیکی بجائے غیرضروری اخراجات میں کمی لائے۔اٹھارویں آئینی ترمیم میں کوئی خامی نہیں اصل معاملہ اس پرعملدرآمدہے جس سے اغراض برتاجارہاہے۔
خیبرپختونخوا پولیس نے صوبے میں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے 400سپیشل کامبیٹ فائٹرزپرمشتمل نیاکمانڈویونٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔نئے یونٹ کے جوان ڈرون ٹیکنالوجی،نائٹ ویژن آپریشن،اورتھرمل ٹیکنالوجی کااستعمال کرینگے۔جدیدیونٹ ناکہ بندی،پولیو ڈیو ٹی،وی آئی پی پروٹوکول ڈیوٹی اورمعمول کے دیگرفرائض اداکرنے سے مستثنیٰ ہوگا۔نئے یونٹ کوصوبے میں کسی بھی جگہ45دن کیلئے تعینات کیاجاسکے گا۔صوبے سے دہشتگردی کے خاتمے اورہائی رسک سیکیورٹی چیلنجزسے نمٹنے کیلئے آئی جی کے پی ذوالفقارحمیدکی صدارت میں منعقدہ پولیس پالیسی بورڈکے اعلیٰ سطحی اجلاس میں سٹینڈنگ آرڈر 6/2025 کی باقاعدہ منظوری دی گئی ہے جس کے تحت صوبے میں اسٹرائیک کمانڈوفورس کے طورپرایک جدیدترین اورانتہائی پیشہ ورانہ مہارت کی حامل سپیشل کامبیٹ یونٹ کیلئے رولزاینڈریگولیشنز2026ء کاباقاعدہ نفاذکردیاگیاہے۔
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹونے خیبرپختونخوامیں عوامی روبطہ مہم شروع کرنے کافیصلہ کیاہے۔ابتدائی طورپرایبٹ آبادمیں یوتھ کنونشن جبکہ مانسہرہ میں جلسہ سے اس مہم کا آغازکیاجائیگا۔یہ فیصلہ پیپلزپارٹی کے صوبائی صدرمحمدعلی شاہ اورگورنرفیصل کریم کنڈی کی بلاول سے ملاقا ت میں کیاگیاہے۔ملاقات میں صوبائی صدرکیساتھ تنظیمی معاملات پرگفتگوہوئی۔اس موقع پربلاول بھٹو نے کہاکہ ایبٹ آباد اورمانسہرہ میں پارٹی تنظیموں کی کارکردگی متاثرکن ہے۔گورنرنے بلاول کوصوبے میں گندم کی قلت سے بھی آگاہ کیا۔بلاول نے صوبے میں گندم کی قلت اوربڑھتی قیمتوں پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے گورنرکوہدایت کی کہ سی این جی کی طرح گندم بحران میں بھی تمام جماعتوں کواعتمادمیں لیکر کردار ادا کریں۔
