Local News

ایچ ایم سی میں گردوں اور قرنیہ کی پیوند کاری کی سہولیات میں توسیع

پشاور: حیات آباد میڈیکل کمپلیکس (ایچ ایم سی) میں جدید طبی سہولیات کے فروغ کے سلسلے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں گردوں کی پیوند کاری کے آپریشن روزانہ کی بنیاد پر شروع کر دیے گئے ہیں جبکہ قرنیہ (کارنیا) ٹرانسپلانٹ کی سہولت بھی متعارف کرا دی گئی ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق یورولوجی اور ٹرانسپلانٹ یونٹس کو الگ کرنے کے بعد گردوں کی پیوند کاری کی خدمات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کے انتظار کا دورانیہ کم ہو کر ایک ماہ سے بھی کم رہ گیا ہے۔ آنکھوں کے شعبے میں پیکو پروگرام کے تحت امریکہ سے درآمد شدہ قرنیہ کی مدد سے کامیاب قرنیہ پیوند کاری کا آغاز کیا گیا ہے، جس سے خطے کے مریضوں کو مقامی سطح پر جدید علاج کی سہولت میسر آئے گی۔

طبی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ہسپتال میں کنسلٹنٹ بنیاد اور کنسلٹنٹ زیرِ قیادت ماڈل نافذ کیا گیا ہے، جبکہ او پی ڈی کے اوقاتِ کار میں توسیع بھی کی گئی ہے تاکہ مریضوں کو بروقت اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ایچ ایم سی کے بنیادی ڈھانچے میں بھی نمایاں بہتری لائی گئی ہے۔ گراؤنڈ فلور پر نئی تزئین و آرائش شدہ سہولت مکمل طور پر فعال ہو چکی ہے جہاں نیوروسرجری، تھوراسک سرجری، ایکیوٹ اسٹروک، انٹروینشنل ریڈیولوجی اور ہیپاٹو بیلیری سرجری کے شعبے ایک ہی مقام پر خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق لانڈری بلاک کی مکمل تزئین و آرائش اور جدید مشینری کی تنصیب مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ گائناکولوجی آپریشن تھیٹرز کی اپ گریڈیشن کا کام 75 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔ اسی طرح نیا ایکسیڈنٹ اینڈ ایمرجنسی بلاک 98 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے اور اسے فعال بنانے کے لیے افرادی قوت اور جدید بایومیڈیکل آلات کی فراہمی پر کام جاری ہے۔

مزید برآں جگر اور بون میرو ٹرانسپلانٹ پروگرام کے لیے حکومت خیبر پختونخوا کو پی سی ون جمع کرا دیا گیا ہے، جبکہ 150 بستروں پر مشتمل نئے اسپائن اینڈ آرتھوپیڈک یونٹ کے قیام کے لیے فنڈنگ کے حصول کی کوششیں جاری ہیں۔

مریضوں کی سہولت کے لیے آئی بی پی سروسز کے تحت آن لائن اپوائنٹمنٹ اور رجسٹریشن کا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے، جبکہ پیپر لیس ایس ایس پی ورک فلو اور ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے ہسپتال کے انتظامی امور کو مزید مؤثر اور شفاف بنایا جا رہا ہے۔

Local News

چترال میں طلبہ کے لیے فرسٹ ایڈ اور ایمرجنسی رسپانس ٹریننگ کا انعقاد

چترال: قومی کمیشن برائے انسانی ترقی (این سی ایچ ڈی) نے ریسکیو 1122 کے تعاون سے گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کے طلبہ رضاکاروں کے لیے فرسٹ ایڈ، ایمرجنسی ہینڈلنگ اور رسپانس ٹریننگ پروگرام کا انعقاد کیا۔

پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر این سی ایچ ڈی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور نوجوانوں میں رضاکارانہ خدمات کے فروغ اور ادارے کی جاری سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔

کالج کے پرنسپل نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کمیونٹی سروس اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے عمل میں فعال کردار ادا کریں۔ اس موقع پر اسسٹنٹ پروفیسر مفتی عتیق نے قدرتی آفات اور ہنگامی حالات میں انسانیت کی خدمت اور متاثرین کی مدد کی اہمیت اجاگر کی۔

پروگرام میں این سی ایچ ڈی کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر تنویرا کوثر سمیت کالج کے فیکلٹی ممبران نے بھی شرکت کی۔

تکنیکی تربیتی سیشن ریسکیو 1122 کے انچارج ٹریننگ ونگ عزیز اللہ نے منعقد کیا۔ تربیت کے دوران طلبہ کو فرسٹ ایڈ، سی پی آر (CPR)، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ کے مریضوں کی دیکھ بھال، سانس کی نالی میں رکاوٹ کی صورت میں فوری امداد، مریضوں کی محفوظ منتقلی، زخموں کی دیکھ بھال، پٹی باندھنے اور آفات سے نمٹنے کے معیاری طریقہ کار سے آگاہ کیا گیا۔

ٹریننگ میں عملی مظاہرے، مشقیں اور فرضی ہنگامی صورتحال پر مبنی مشقیں بھی شامل تھیں، جن سے طلبہ رضاکاروں کی عملی مہارتوں اور ہنگامی حالات میں بروقت ردعمل دینے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا۔

منتظمین کے مطابق یہ پروگرام این سی ایچ ڈی، ریسکیو 1122 اور گورنمنٹ ڈگری کالج چترال کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ایسے تربیت یافتہ نوجوان رضاکار تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا جو آفات اور ہنگامی حالات کے دوران اپنی کمیونٹیز کی مؤثر خدمت کر سکیں۔