Aqeel Yousafzai

درپیش چیلنجز اور قومی قیادت کی ذمہ داریاں

عقیل یوسفزئی
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف منظم اور مربوط کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے جبکہ دوسری جانب نہ صرف یہ کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہوگئی ہے بلکہ ان گروپوں کو اب کھل کر بھارت اور اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہوگئی ہے بلکہ دہشت گرد گروپوں کی مختلف قوتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کے شواہد بھی ملے ہیں اور معتبر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک نئی گریٹ گیم کے گھیرے میں آگیا ہے ۔
کراچی میں رینجرز پر ہونے والے خود کش حملے کے لیے افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ریکروٹمنٹ ہوئی اور اس کے بعد قندھار اور کویٹہ کا روٹ استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد کراچی پہنچ گئے ۔ اس کے بعد بلوچستان کی بلوچ بیلٹ کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے ذریعے اس صوبے کی پشتون بیلٹ کو بڑے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ جس کے ردعمل میں ” آپریشن شعبان ” کا آغاز کیا گیا جس کے نتیجے میں تادم تحریر 130 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔
ایک منظم پلاننگ کے تحت افغانستان ،بھارت اور دیگر پاکستان مخالف پراکسیز کو اسی تسلسل میں خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں ، جنوبی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن کے متعدد علاقوں میں متحرک کردیا گیا جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف بنوں اور جنوبی وزیرستان میں بیک وقت پولیس اور فورسز کے مراکز کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کے دیر اور سوات میں بھی دہشت گرد کارروائیاں کی گئیں جس کے ردعمل میں فورسز کو آپریشنز کا آغاز کیا گیا جو کہ تاحال جاری ہیں ۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور بعض سیاسی، مذہبی جماعتوں نے جہاں ایک طرف ریاست مخالف بیانیہ اور پروپیگنڈا کے ذریعے فورسز پر سوالات اٹھائے بلکہ کوشش کی گئی کہ دہشت گرد گروپوں اور ان کے سرپرستوں کے بیانیے کو تقویت دی جائے ۔ اس ضمن میں حال ہی میں مولانا فضل الرحمان ، محمود اچکزئی، سہیل آفریدی، اختر مینگل اور متعدد دیگر کے ان بیانات اور سرگرمیوں کی مثال دی جاسکتی ہے جن کے ذریعے سیاسی مخالفت میں ریاست مخالف قوتوں کی مدد کی گئی اور کوشش کی گئی کہ عوام کو ریاست سے متنفر کردیا جائے ۔
اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی شکایات ، ناراضگی اور خدشات سے قطع نظر ایسی کوششوں سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں پاکستان مخالف قوتوں کو فایدہ پہنچے ۔

درپیش چیلنجز اور قومی قیادت کی ذمہ داریاں

عقیل یوسفزئی
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف منظم اور مربوط کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے جبکہ دوسری جانب نہ صرف یہ کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہوگئی ہے بلکہ ان گروپوں کو اب کھل کر بھارت اور اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہوگئی ہے بلکہ دہشت گرد گروپوں کی مختلف قوتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کے شواہد بھی ملے ہیں اور معتبر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک نئی گریٹ گیم کے گھیرے میں آگیا ہے ۔
کراچی میں رینجرز پر ہونے والے خود کش حملے کے لیے افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ریکروٹمنٹ ہوئی اور اس کے بعد قندھار اور کویٹہ کا روٹ استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد کراچی پہنچ گئے ۔ اس کے بعد بلوچستان کی بلوچ بیلٹ کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے ذریعے اس صوبے کی پشتون بیلٹ کو بڑے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ جس کے ردعمل میں ” آپریشن شعبان ” کا آغاز کیا گیا جس کے نتیجے میں تادم تحریر 130 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔
ایک منظم پلاننگ کے تحت افغانستان ،بھارت اور دیگر پاکستان مخالف پراکسیز کو اسی تسلسل میں خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں ، جنوبی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن کے متعدد علاقوں میں متحرک کردیا گیا جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف بنوں اور جنوبی وزیرستان میں بیک وقت پولیس اور فورسز کے مراکز کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کے دیر اور سوات میں بھی دہشت گرد کارروائیاں کی گئیں جس کے ردعمل میں فورسز کو آپریشنز کا آغاز کیا گیا جو کہ تاحال جاری ہیں ۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور بعض سیاسی، مذہبی جماعتوں نے جہاں ایک طرف ریاست مخالف بیانیہ اور پروپیگنڈا کے ذریعے فورسز پر سوالات اٹھائے بلکہ کوشش کی گئی کہ دہشت گرد گروپوں اور ان کے سرپرستوں کے بیانیے کو تقویت دی جائے ۔ اس ضمن میں حال ہی میں مولانا فضل الرحمان ، محمود اچکزئی، سہیل آفریدی، اختر مینگل اور متعدد دیگر کے ان بیانات اور سرگرمیوں کی مثال دی جاسکتی ہے جن کے ذریعے سیاسی مخالفت میں ریاست مخالف قوتوں کی مدد کی گئی اور کوشش کی گئی کہ عوام کو ریاست سے متنفر کردیا جائے ۔
اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی شکایات ، ناراضگی اور خدشات سے قطع نظر ایسی کوششوں سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں پاکستان مخالف قوتوں کو فایدہ پہنچے۔