Local News Grand Jirga

ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ میں ٹیکس نفاذ بارے گرینڈ جرگہ

پشاور: وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں خیبرپختونخوا حکومت کے زیر اہتمام ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن (سابق پاٹا) میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف گرینڈ جرگہ منعقد ہوا، جس میں تمام بڑی سیاسی جماعتوں، پارلیمنٹیرینز، تاجر تنظیموں اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔

جرگے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، صوبائی کابینہ کے ارکان، سینیٹرز، قومی و صوبائی اسمبلی کے اراکین، مختلف سیاسی جماعتوں کے صوبائی صدور و جنرل سیکرٹریز اور ضم شدہ اضلاع و مالاکنڈ ڈویژن کی تاجر برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرینڈ جرگے کا مقصد ضم شدہ اضلاع اور مالاکنڈ ڈویژن میں وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اور مشترکہ حکمت عملی مرتب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ضم شدہ اضلاع میں کوئی ٹیکس وصول نہیں کر رہی، جبکہ حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن میں سیلز ٹیکس آن سروسز واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبے کے مسائل پر تمام سیاسی جماعتوں کے اتحاد کا خیرمقدم کرتے ہیں اور وفاق سے مذاکرات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد تشکیل دیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا تو اس پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے صوبائی ایکشن پلان تیار کیا ہے، جس پر مؤثر عمل درآمد سے چند ماہ میں امن کی صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے امن و امان کے حوالے سے الگ جرگہ بلانے اور خیبرپختونخوا کے مالی حقوق کے لیے اسلام آباد میں بھی جرگہ منعقد کرنے کا اعلان کیا۔

اس موقع پر گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سابق فاٹا اور پاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کا یکجا ہونا خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے آئینی اور معاشی حقوق کے حصول کے لیے حکومت اور اپوزیشن ایک صفحے پر ہیں۔

گورنر نے کہا کہ وفاق نے سابق فاٹا کے لیے 100 ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، جو تاحال پورا نہیں کیا گیا، لہٰذا وعدے پورے کیے بغیر ان علاقوں میں ٹیکس نافذ کرنا مناسب نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سابق فاٹا کے تاجروں کو بھی ملک کے دیگر شہروں کے تاجروں کے برابر سہولیات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام سیاسی جماعتیں پہلے صوبے کے مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کریں گی، جس کے بعد وفاق کے سامنے خیبرپختونخوا کے حقوق کے لیے مؤثر اور مضبوط مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

Editorial Aqeel

درپیش چیلنجز اور قومی قیادت کی ذمہ داریاں

عقیل یوسفزئی
بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف منظم اور مربوط کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے جبکہ دوسری جانب نہ صرف یہ کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہوگئی ہے بلکہ ان گروپوں کو اب کھل کر بھارت اور اسرائیل کی سرپرستی حاصل ہوگئی ہے بلکہ دہشت گرد گروپوں کی مختلف قوتوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر فنڈنگ کے شواہد بھی ملے ہیں اور معتبر ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک بار پھر ایک نئی گریٹ گیم کے گھیرے میں آگیا ہے ۔
کراچی میں رینجرز پر ہونے والے خود کش حملے کے لیے افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ریکروٹمنٹ ہوئی اور اس کے بعد قندھار اور کویٹہ کا روٹ استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد کراچی پہنچ گئے ۔ اس کے بعد بلوچستان کی بلوچ بیلٹ کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے ذریعے اس صوبے کی پشتون بیلٹ کو بڑے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ جس کے ردعمل میں ” آپریشن شعبان ” کا آغاز کیا گیا جس کے نتیجے میں تادم تحریر 130 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے ۔
ایک منظم پلاننگ کے تحت افغانستان ،بھارت اور دیگر پاکستان مخالف پراکسیز کو اسی تسلسل میں خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں ، جنوبی اضلاع اور ملاکنڈ ڈویژن کے متعدد علاقوں میں متحرک کردیا گیا جس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف بنوں اور جنوبی وزیرستان میں بیک وقت پولیس اور فورسز کے مراکز کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کے دیر اور سوات میں بھی دہشت گرد کارروائیاں کی گئیں جس کے ردعمل میں فورسز کو آپریشنز کا آغاز کیا گیا جو کہ تاحال جاری ہیں ۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور بعض سیاسی، مذہبی جماعتوں نے جہاں ایک طرف ریاست مخالف بیانیہ اور پروپیگنڈا کے ذریعے فورسز پر سوالات اٹھائے بلکہ کوشش کی گئی کہ دہشت گرد گروپوں اور ان کے سرپرستوں کے بیانیے کو تقویت دی جائے ۔ اس ضمن میں حال ہی میں مولانا فضل الرحمان ، محمود اچکزئی، سہیل آفریدی، اختر مینگل اور متعدد دیگر کے ان بیانات اور سرگرمیوں کی مثال دی جاسکتی ہے جن کے ذریعے سیاسی مخالفت میں ریاست مخالف قوتوں کی مدد کی گئی اور کوشش کی گئی کہ عوام کو ریاست سے متنفر کردیا جائے ۔
اس تمام تر صورتحال کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی شکایات ، ناراضگی اور خدشات سے قطع نظر ایسی کوششوں سے گریز کیا جائے جس کے نتیجے میں پاکستان مخالف قوتوں کو فایدہ پہنچے۔