وصال محمدخان
تحریک انصاف کی بانی کی رہائی کیلئے احتجاجی تحریک چلانے کاعندیہ
صوبے کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے ایک بارپھربانی کی رہائی کیلئے سڑکوں پرنکلنے کافیصلہ کیاہے۔وزیراعلیٰ ہاؤس پشاورمیں پی ٹی آئی راہنماؤں کے ہونیوالے اجلاس میں 5اگست کوعمر ان خان سٹیڈیم پشاورمیں بڑے جلسہء عام کااعلان کیاگیاہے۔پارٹی چیئرمین گوہر خان نے اجلاس کے بعدمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ”اجلاس کاون پوائنٹ ایجنڈابانی کی رہائی کیلئے تحریک چلانے پرمشاورت تھی، انہیں ناحق جیل میں رکھاگیاہے،ہم نے رہائی کیلئے ہرقانونی اورجمہوری راستہ اپنایا،آئینی،جمہوری اورقانونی حقوق کیلئے جدوجہد کرنا، تحریک چلانااوراحتجاج کرناہماراحق ہے،26نومبرکواسلام آبادمیں پرُامن احتجاج کے شرکاکوتشددکانشانہ بنایاگیا،ہماری ایف آئی آر تک درج نہیں کی گئی،انصاف کیلئے عدالت سے رجوع کیاتوسماعت اوروکلاکوسنے بغیردرخواست خارج کردیگئی ہمیں انصاف سے محروم کیاجارہا ہے،انصاف کے دروازے بندکرنے پرمعاشرے اورملک تباہ ہوجاتے ہیں.
5اگست کاجلسہ بانی کی قیدکوپانچ سال پورے ہونے کی مناسبت سے ترتیب دیاگیاہے،جلسے میں بانی کی رہائی کیلئے تحریک کاعلان کیاجائیگا،ہم خیال سیاسی قوتوں کوبھی اعتماد میں لیا جائیگا“۔ اجلاس میں جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ،اسدقیصراوردیگرراہنماؤں نے شرکت کی۔کرکٹ سٹیڈیم میں جلسہ رکھنے کے فیصلے کو اپوزیشن حلقوں اورنوجوانوں نے شدیدتنقیدکانشانہ بنایاہے۔وزیراطلاعات شفیع جان نے سٹیڈیم کونقصان پہنچنے کے خدشات مسترد کرتے ہوئے کہاکہ 5 اگست کے جلسے میں وزیراعلیٰ آئندہ کے لائحہء عمل کااعلان کرینگے۔ حکمران جماعت کھیل کے میدانوں کو سیاسی اجتماعات کیلئے استعمال کرنیکی نارواروش پرعمل پیرا ہے۔آج حکومت صوبے کے واحد بین الاقوامی کرکٹ سٹیڈیم میں جلسہ کررہی ہے کل اپوزیشن بھی یہی کچھ کرناچاہے گی۔تین ارب روپے کی خطیررقم سے تعمیرشدہ سٹیڈیم میں اسمبلی اجلاس اورجلسے منعقدکرنانامناسب طرز عمل ہے۔کرکٹ سٹیڈیم میں اسمبلی کابے مقصداجلاس بھی صوبے کے خانماں بربادعوام کونصف ارب روپے میں پڑاتھا۔کرکٹ سٹیڈیم میں جلسے کاشوشہ چھوڑ نے کے بعداس فیصلے کوواپس لینے کے امکانات بھی روشن ہیں۔20ہزاروالی نشستوں کاسٹیڈیم شرکاسے بھرناخا صا مشکل ہے۔ گزشتہ جلسو ں میں حاضرین کی تعدادخاصی کم رہی۔بچگانہ طرز سیاست کے سبب پی ٹی آئی کارکن مایوسی کاشکار ہے جبکہ عام آدمی بھی ناقص طرزحکمرانی سے شاکی ہے۔ حکمران جماعت کامؤقف بانی کی قیداورسزاکے حوالے سے خاصاکمزورہے۔ڈیڑھ سوسے زائد سماعتو ں، ساٹھ گواہوں کے بیانات،ان پرجرح اوروکلاکے طویل بحث ومباحثے کے نتیجے میں جوسزاسنائی گئی ہے، جس کے خلاف اپیل ہائیکور ٹ میں زیرسماعت ہے، جہاں بار بارسماعتیں ملتوی کروانے کے باوجودوکلافرارکے راستے ڈھونڈتے ہیں۔ بانی کورہاکروانے کا قانو نی اور آئینی عمل بیرسٹر گوہر جیسے چوٹی کے وکیل سے بہترکون جانتاہوگا؟مگرسیاسی مفادکیلئے یہ تاثرقائم کرنے کی کوشش ہورہی ہے جیسے بانی کو سز اقانونی عمل کے بغیردی گئی ہے۔اس بے بنیادبیانئے کیلئے جتنی بھی احتجاجی تحریکیں چلائی جائیں گی وہ بے نتیجہ ثابت ہونگیں۔ صوبے اور قوم کے بہترین مفاد میں ماضی کے ناکام احتجاجوں سے سبق سیکھنے،طرزِسیاست اورطرزِحکمرانی پرنظرثانی کرنیکی ضرورت ہے۔
مولانافضل الرحمان کے فوج مخالف بیانات پرسیاسی میدان گرم
گزشتہ ہفتے خیبرپختونخواکے سیاسی اورصحافتی حلقوں میں مولانافضل الرحمان کے اس بیان کی گونج سنائی دیتی رہی جس میں انہوں نے شہدا اورتنخواہوں کے حوالے سے گفتگوکی تھی انہوں نے قصورجلسے کے دوران شہداکے حوالے سے جوش خطابت میں جو الفاظ اداکئے اسکے حق اور مخالفت میں بیانات سے سیاسی میدان پرگرم موسم میں شدیدگرمی کاراج رہا۔جے یوآئی ف کے راہنمااورکارکن مولاناکے اس نامعقول بیان کادفاع کرتے رہے جبکہ مخالفت میں بھی قابل ذکرآوازیں سنائی دیتی رہیں۔سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں سمیت مسلم لیگ ن اوردیگرسیاسی قوتوں نے مولاناکے بیان کونامعقول قراردیا۔مگرمولانا کے پرستاراس بیان کودرست اوربروقت سٹروک قراردینے میں تندہی سے مصروف رہے۔اس بیان کی اہمیت اوراسے ملنے والی پذیرائی کودیکھتے ہوئے مولانانے فوج کیخلاف باقاعدہ ایک محاذقائم کیااورپے درپے اس قسم کے بیانات جاری کئے۔صوبے کے معروضی حالات سے باخبرحلقوں کاخیال ہے کہ ان بیانات کے ذریعے شائد مولانا سٹیبلشمنٹ سے فوائد حاصل کرنیکی کوشش کررہے ہیں۔بلدیاتی انتخابات کے انعقادکی خبریں بھی زیرگردش ہیں۔سال کے اواخرتک بلدیاتی انتخابات کاانعقاد ممکن ہے۔ اسلئے مولانا ان اتخابات میں اپنے جثے سے زیادہ حصہ حاصل کرنیکی خاطرفوج کیخلاف محاذگرم کئے ہوئے ہیں ورنہ اظہرمن الشمس ہے کہ مولاناہمیشہ سے فوج یاسٹیبلشمنٹ کے اتحادی رہے ہیں۔ صوبے کے کئی اضلاع میں شدت پسندوں کی کارروائیاں بڑھ گئی ہیں جن کے خلاف فوجی آپریشن کے سواچارہ نظرنہیں آرہا۔جنوبی اورضم قبائلی اضلاع کے بیشترعلاقوں میں شدت پسندوں نے اودھم مچایاہوا ہے۔ شورش زدہ علاقوں میں فوجی آپریشن ناگزیرہوچکاہے۔جہاں فوجی آپریشن ہوتا ہے وہاں کے شہری نقل مکانی کے عذاب سے دوچار ہوتے ہیں انکی ہمدردیاں سمیٹنے کی خاطرمولانانے ابھی سے بیانات کاسلسلہ شروع کردیا ہے مگرملکی سلامتی کے ضامن ادارے فوج کے خلاف بیانات کسی طورمعقول طرزعمل قرارنہیں دیاجاسکتا۔مولانا میڈیاکی توجہ حاصل کرنے پرشاداں نظرآرہے ہیں مگرعوام میں اس سیاسی حکمت عملی کوپذیرائی ملنامشکل ہے۔دوسرحدوں پرکشیدگی اوربین الاقوامی مخدوش حالات کے پیش نظرسیاسی راہنماؤں کوسنجیدہ رویئے اختیارکرنے اوردانشمندانہ طرزِعمل اپنانے کی ضرورت ہے۔
صوبے میں مون سون بارشوں کے باعث مختلف حادثات سے 18افرادجاں بحق19زخمی
ہفتہء گزشتہ کے دوران مون سون بارشوں نے کئی اضلاع میں تباہی مچادی۔لنڈیکوتل میں سرکاری سکول سیلابی ریلے میں بہہ گیا۔مقامِ شکر ہے چھٹیاں ہونے کے سبب وہاں بچے موجودنہیں تھے۔ٹانک کے گاؤں رغزہ میں مدرسے کی چھت گرنے سے متعددبچے زخمی ہوگئے۔ حادثے کے فوری بعدمقامی شہریوں نے امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے زخمی طلبہ کوٹانک ہستپال پہنچایا جہاں سے آمدہ اطلاع کے مطابق تمام بچوں کی حالت خطرے سے باہرہے۔جنوبی وزیرستان اپرکے علاقے سراروغہ میں مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی اوردوبچے جاں بحق ہو گئے۔ شمالی اضلاع میں درجنوں مکان سیلابی ریلوں سے متاثرہوئے،لینڈسلائیڈنگ سے کئی علاقوں کارابطہ منطقع ہواہے جبکہ برساتی نالوں میں پانی کابہاؤبڑھ چکا ہے۔ریسکیو1122کی ٹیمیں مستعدی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہیں۔دریاؤں میں صورتحا ل معمول کے مطابق ہے جس پرنظررکھی جارہی ہے انتظامیہ کے مطابق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق چارروزہ بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 18 افراد جاں بحق جبکہ19زخمی ہوگئے ہیں، جاں بحق افرادمیں 7مرد، 3خواتین اور8بچے شامل ہیں۔30سے زائدمکانات متاثرہوئے ہیں،23مکانات کوجزوی نقصان پہنچاجبکہ7مکانات مکمل طورپرتباہ ہوگئے ہیں۔
