وصال محمدخان
شہداکے حوالے سے مولانافضل الرحمان نے قصورجلسے میں جوالفاظ اداکئے تھے ان پرتاحال بحث وتمحیص کاسلسلہ جاری ہے۔جے یوآئی راہنمااورکارکن ان الفاظ کے دفاع میں زمین وآسمان کے قلابے ملارہے ہیں جبکہ اسکی مخالفت بھی زوروشورسے جاری ہے۔ابتدامیں سنجیدہ فکرطبقے کاخیال تھاکہ مولانااپنے الفاظ سے رجوع کرلینگے اورزیادہ نہیں توکم ازکم شہداکے حوالے سے اداکئے گئے الفاظ واپس لے لینگے۔ مگرمولانانہ صرف اپنے الفاظ کے دفاع میں ڈٹے رہے بلکہ انہوں نے فوج کوطعنے دینے کاسلسلہ بھی شروع کردیا۔ انہیں اچانک 27 سال قبل بھارت کیساتھ لڑی گئی کارگل جنگ کی یادآگئی اوران پرمنکشف ہواکہ اس جنگ میں خیبرپختونخواسے نشان حیدر کاپہلااعزاز پانے والے کرنل شیرخان کی میت بھارتی فوج لے گئی تھی۔حالانکہ اس حوالے سے خیبرپختونخوامیں زبان زدعام یہی ہے کہ کرنل شیرخان بھارتی فوجیوں کاتعاقب کرتے ہوئے انکے علاقے میں گھس گئے تھے اورجرات وبہادری کی تاریخ رقم کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیاتھا۔ بعد میں بھارتی فوجیوں نے بھی انکی جرات،شجاعت اوربے جگری کوخراج تحسین پیش کیاتھا۔انکی میت بھارتی فوجی پاکستانی علاقے سے اٹھاکر نہیں لے گئے تھے اوراگربفرض محال ایساہوابھی تھاتوجنگوں میں اس قسم کے حالات کاپیش آنا امعمول سمجھاجاتا ہے متمدن دنیامیں سوا ئے اسرائیل اورمولاناکے ممدوحین امارت اسلامیہ کے دعویدارالمعروف افغان طالبان کسی ملک نے دشمن فوجیو ں کی لاشوں کی بیحرمتی نہیں کی۔ مقام شکرہے بھارت نے بھی کرنل شیرخان کی میت کوتکریم دی۔کچھ ہی ماہ قبل افغان طالبان نے پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں کی میتوں کی شدیدبیحرمتی کی۔مولانانے شائدہی افغان طالبان کے سامنے اس حوالے سے کوئی احتجاج یاناراضگی کااظہار کیاہوکہ اس ظالمانہ،سنگدلانہ، جابرانہ،وحشیانہ اورغیرانسانی سلوک کی کیاضرورت تھی؟ حالانکہ پاکستان کے وہ سیکیورٹی اہلکارنہ صرف مسلمان بلکہ پختون بھی تھے۔ مولانا نے شائدکرنل شیرخان کاذکراسی حوالے سے کیاکہ انکی میت کابھارتی قبضے میں ہوناموجودہ فوجی قیادت کی کمزوری،کوتاہی یاغلطی تھی اوراس پرفوج کومطعون کرنالازم ہے۔اسی سلسلے میں انہوں نے 1971میں پاکستان کے دولخت ہونے کا ذکرخیربھی کردیاحالانکہ اس واقعے کو نصف صدی گزرچکی ہے۔نجانے مولاناجیسے اچھے بھلے اورزیرک سیاستدان کوبیٹھے بٹھائے کیاہواکہ انہیں پون اورنصف صدی پرانی باتیں یادآنے لگیں حالانکہ اس حوالے سے ایساکوئی ریکارڈموجودنہیں کہ مولانانے ان دوواقعات کاشدید نوٹس لیاہواوراس حوالے سے ترددمیں پڑے ہوں کہ پاکستان کیوں دولخت ہوایاکارگل جنگ موجودہ فوجی قیادت نے کیونکرہاری؟ مولانا کی یہ منطق بھی عجیب ہے کہ مشرقی پاکستان کوبنگلہ دیش بنے55سال جبکہ کارگل کو28سال کاعرصہ بیت چکاہے مگرانہیں 2026ء جولائی کی حبس زدہ موسم میں ان گزرے واقعات کی یادستانے لگی ہے۔ مولاناکونجانے کیاہواکہ انہوں نے گزشتہ ہفتے عشرے میں پاک فوج کووہ تمام طعنے دے ڈالے جنہیں مخالفین بروئے کارلاتے ہیں۔مولاناجیسے ”زیرک“سیاستدان کوآج اچانک نجانے کیوں 55 اور28 سال پرانے واقعات یادآرہے ہیں مگر ایک سال پہلے فوج کی وہ شاندارفتح انکی نظروں سے اوجھل ہے جس سے پاکستان کی تقدیربدل رہی ہے اوریہ دنیاکا واحد مسلمان ملک بن چکا ہے جس کیساتھ کئی مسلم ممالک دفاعی معاہدہ کرناچاہتے ہیں۔آج اگرسعودی عرب اورکویت پاکستان کواپنادفاع سونپ رہے ہیں اوردیگرکئی ممالک اسی قسم کے معاہدے کے خواہشمندہیں توپاکستان کیلئے یہ کامیابیاں کسی لبرل یامذہبی سیاستدان نے نہیں سمیٹی بلکہ اس کا مؤجب فوج کی وہ شاندارفتح ہے جس میں اس نے اپنے سے کئی گنابڑے دشمن کوشکست فاش سے دوچار کیا۔میدان جنگ میں فتح بھی ملتی ہے اورشکست بھی ہوتی ہے فتح پر شادیانے بجائے جاتے ہیں اورشکست پرحاسدین طعنہ زنی کرتے ہیں۔ مگر مولانافضل الرحمان کبھی پاک فوج کے حاسدین یامخالفین میں شمارنہیں ہوئے۔انکی سیاسی زندگی میں دومارشل لازلگے۔ ضیاء الحق مارشل لاکے دوران وہ سیاست میں نو آموزتھے مگر مخالف صف میں کھڑے تھے۔دوسری مشرف مارشل لا کیساتھ مولاناکی بہترین ورکنگ ریلیشن شپ قائم تھی انکی صدارت میں بنی اسمبلی کے وہ اپوزیشن لیڈرتھے اورخیبرپختونخوامیں مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی حکومت میں اکرم درانی وزیراعلیٰ تھے۔انہوں نے مشرف کوآئینی راستہ دیامگرمشرف نے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔جسے مولاناکے خلاف طعنے کے طورپر استعمال کیاجاتاہے۔انکی نیت نیک تھی ان کاخیال تھاکہ ایل ایف اوکوآئین کاحصہ بنانے اورمشرف کو باوردی صدرتسلیم کرنے سے مارشل لاکاخاتمہ ہوگااورمولانا کا نام تاریخ میں امرہوجائیگا مگراس معاملے میں انکی سیاسی بصیرت اوربصارت دونوں دغادے گئیں۔بہرحال مولانااب جوفوج کے کٹرمخالف بن کرابھرے ہیں تجزیہ کاروں کے مطابق اس کاسبب یہی ہے کہ گزشتہ انتخابات میں انہیں وہ کامیابی نہ مل سکی جس کے وہ متمنی تھے۔مولانا سمجھتے ہیں کہ خیبرپختونخواکی حکومت ان کاحق تھااسی لئے تومحمودخان حکومت کی رخصتی پرنگران حکومت میں انکے نصف درجن سے زائدوزرا نشامل تھے اورگورنربھی انکے سمدھی غلام علی تھے۔مگر2024ء کے انتخابات میں انہیں حکومت بنانے کیلئے درکارنشستیں نہ مل سکیں اوروہ خود بھی اپنے آبائی علاقے سے ہارگئے۔مولاناکاخیال ہے کہ فوج انہیں کامیابی دلاسکتی تھی جواس نے جان بوجھ کرنہیں دلائی۔ صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت ہے جسکی مقبولیت کرپشن الزامات، اقرباپروری اورناقص طرزحکومت کے باعث روبہ زوال ہے جبکہ مولاناکی مقبولیت بھی جنوبی اضلاع کی چندنشستوں تک محدودہوکررہ گئی ہے۔انکے مقابلے میں اے این پی،جماعت اسلامی،قومی وطن پارٹی اور دیگرجماعتوں کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔صوبے کے معروضی حالات سے باخبر تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ مولاناکے بیانات کا مقصد یہی ہے کہ گزشتہ انتخاابات میں توانہیں کامیابی نہ دلائی گئی اگرآئندہ بھی ایساہوا تووہ گڑھے مردے اکھاڑکرفوج کو تنقیدکانشانہ بنائیں گے۔ جوش خطابت میں انکے منہ سے شہداء کے بارے میں وہ الفاظ اداہوگئے جن سے رجوع کی بجائے وہ اب گڑھے مردے اکھاڑنے میں مصروف ہوگئے ہیں مگراس طرزسیاست سے انہیں کوئی فیض حاصل ہوناانتہائی مشکل ہے۔اسلئے انہیں ملکی دفاع کے ضامن ادارے کیساتھ محاذآرائی کی بجائے عوامی مفادکی سیاست کوترجیح دینی ہوگی۔ کھویاہوامقام عوامی حمایت کے بغیربیانات کے ذریعے ملناممکن نہیں۔ سیاست فوج اورشہداکی بجائے عوامی ایشوز پرہوتوکامیابی کے چانسزبڑھ جاتے ہیں۔
تھلو زوم سر کرنے والی فاتح ٹیم کو خراجِ تحسین
خیبرپختونخوا کے نوجوان کوہ پیماؤں نے تاریخ رقم کردی۔ خیبرپختونخوا حکومت صوبہ میں ایڈونچر ٹورازم کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے۔ خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی کا ایڈونچر ٹورازم کی جانب ایک بڑی کامیابیہے۔ خیبرپختونخوا کی 9 رکنی کوہ پیماؤں کی ٹیم نے 6,050 میٹر بلند تھلو زوم چوٹی کامیابی سے سر کرلی۔ آٹھ روزہ دشوار گزار مہم کے بعد خیبرپختونخوا کے کوہ پیماؤں نے تھلو زوم پر قومی پرچم لہرا دیا۔ تھلو زوم مہم کا آغاز 9 جولائی کو ہوا، ٹیم نے 17 جولائی کو چوٹی سر کی۔ تھلو زوم ہندوکش پہاڑی سلسلہ کی مشکل ترین اور کم سر کی جانے والی چوٹیوں میں شامل ہے۔ کوہ پیماؤں نے کمراٹ اور چترال کے دشوار گزار راستوں، گلیشیئرز اور برفانی دراڑوں کو عبور کیا۔ مشکل ترین حصوں پر آئس اسکروز نصب کر کے پیش قدمی کی گئی۔ کوہ پیماؤں نے تقریباً آٹھ گھنٹے کی مسلسل چڑھائی کے بعد تھلو زوم کی چوٹی سر کی۔ مہم میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 9 کوہ پیما شریک تھے۔
خیبرپختونخوا کی تکنیکی معاونت سے چوٹی سر کرنے میں مدد ملی۔ یہ کامیابی خیبرپختونخوا میں ٹیکنیکل ماؤنٹینئرنگ کے فروغ میں اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ تھلو زوم کو پہلی مرتبہ 1971 میں آسٹریلیا جبکہ 2019 میں اطالوی کوہ پیمائوں نے سر کیا تھا۔ کوہ پیماؤں میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے 9 کوہ پیما شامل تھے۔ ٹیم میں روح اللہ ، عمر خان ، انتخاب خان، نعمان سمیع، عزت اللہ شاہ، سعید اختر،نعیم خان، فواد خان اور رواز علی شامل ہیں۔ سوات، پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، بشام اور چترال کے کوہ پیما تاریخی مہم کا حصہ بنے۔
صوبائی حکومت کی ایک اور مہم جوئی؟
عقیل یوسفزئی
گزشتہ چند ہفتوں اور مہینوں سے خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے اور فورسز کی جانب سے بھی کسی وقفے کے بغیر کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت حسب معمول سیکیورٹی کے حالات سے لاتعلق دکھائی دیتی ہے بلکہ پارٹی اور صوبائی حکومت نے اس جنگی حالت میں بھی 5 اگست کو پشاور میں اپنے بانی کی رہائی یا ملاقاتوں کے معاملے پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک بڑے جلسے کا اعلان کردیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس اجتماع میں ایک ایسی ” روڈ میپ” کا اعلان کیا جائے گا جس سے بقول پارلیمانی لیڈر شاہد خٹک حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی دیواریں زمین بوس ہو جائیں گی ۔
دیواریں گرتی ہیں یا نہیں تاہم صوبائی حکمران اخلاقی اور سیاسی طور پر یہ بتانے کے پابند ہیں کہ کیا ان کے لیڈر کے لیے کسی ” احتجاج” کا ٹھیکہ صرف جنگ ذدہ خیبرپختونخوا نے لے رکھا ہے، باقی ملک میں خاموشی کیوں چھائی ہوئی ہے؟ دوسرا یہ کہ یہ حق آپ کو کس قانون یا اخلاقیات کے تحت حاصل ہے کہ آپ ایک جنگ ذدہ اور پسماندہ صوبے کے وسائل اور مشینری عوام کی فلاح وبہبود کی بجائے اپنے لیڈر کے لیے استعمال کریں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس مہم جوئی کے لیے ایک بار پھر پشاور ہی کا انتخاب کیوں؟
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر ایک جانب خیبرپختونخوا کے سسٹم کے اندر موجود بعض ” سابقین” اب بھی دہشت گردوں کی معاونت کررہے ہیں تو دوسری طرف یہ ” لوگ ” صوبائی حکومت کا سہارا لیکر جنگ زدہ صوبے کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی ایک مستقل پالیسی پر بھی عمل پیرا ہیں اور یہ بات اب بہت سے متعلقہ مگر معتبر حلقے آن دی ریکارڈ کہنے لگے ہیں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کے اہم فیصلے بعض اہم ” سابقین” ہی کرتے آرہے ہیں اور یہ طاقتور لوگ ہر رات اہم بیوروکریٹس کو ذاتی رہائش گاہوں میں طلب کرکے ان سے احکامات جاری کرواتے آرہے ہیں ۔
پورا خیبرپختونخوا اسی ” نیٹ ورک کے ذریعے چلایا جارہا ہے اور فی الحال ان عناصر پر کوئی ہاتھ ڈالنے کا امکان نظر نہیں آتا ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی آئی سمیت ہر سیاسی جماعت اور طبقے کو اظہار رائے اور اختلاف رائے کے علاؤہ قانون اور آئین کے تحت احتجاج کا حق بھی حاصل ہے تاہم جب ایک صوبے کے حکمران خود ہی ریاستی نظام کے بارے میں آن دی ریکارڈ یہ کہنا شروع کریں اور نوجوانوں کو ورغلانے کی پالیسی اختیار کریں کہ اب کے بار ” حکومت اور ریاست کی دیواروں کو گراکر رہیں گے ” تو ایسے طرزِ عمل کو کسی بھی لیول پر درست قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ یہ عوام کو بغاوت اور خون خرابے پر اکسانے کی ایک ایسی کوشش کہلائی جاسکتی ہے جس کو ایک حساس وفاقی یونٹ یعنی ایک صوبے کی حکومت کی سرپرستی اور سرمایہ کاری حاصل ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کسی سیاسی ایونٹ کو مزاحمت کا ذریعہ بنانے سے گریز کیا جائے اور صوبے کو درپیش سیکیورٹی اور انتظامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے ۔


