Wisal article 7 Aug 26

پی ٹی آئی اورجے یوآئی ف کے درمیان اتحادانتخابی اتحادمیں تبدیل ہوسکے گا؟

وصال محمدخان
خیبرپختونخواکی حکمران جماعت اورجے یوآئی ف کے درمیان اتحادموضوع بحث بنی ہوئی ہے۔اس اتحادکیلئے پی ٹی آئی راہنما گزشتہ برس سے سرگرم تھے اس دوران مولانافضل الرحمان اورپی ٹی آئی راہنماؤں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں۔پہلے یہ فریضہ اسدقیصرسرانجام دے رہے تھے انہوں نے مولاناکی رہائش گاہ کے کئی طواف کئے اس سلسلے میں 27ویں ترمیم کے دوران زیادہ تیزی دیکھنے کوملی مگرمولانا نے حکومت سے مل کر27ویں ترمیم پاس کروانے میں اہم کرداراداکیاتواس اتحادکی قیاس آرائیاں خودبخوددم توڑگئیں۔اس وقت اتحادکی راہ میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپورکے بیانات بھی رکاوٹ بنے جومولانافضل الرحمان کوآبائی حلقے سے شکست دے چکے ہیں۔علی امین اتحادکے مخالف تھے اورانہوں نے کئی مواقع پرمولاناکیلئے منافق کے الفاظ استعمال کئے اسلئے جے یوآئی راہنماؤں نے مولاناکواتحادنہ کرنے کامشورہ دیا۔گزشتہ ماہ جب مولانانے شہداکے حوالے سے ایک متنازعہ بیان جاری کیااوراسکے بعدپے درپے کارگل اوربنگلہ دیش جیسے معاملات پرفوج کومطعون کیا توحکومت اوراسٹیبلشمنٹ نے مولانا کے اس بیان کونہ صرف غیرضروری قراردیابلکہ اسکے خلاف بیانات کاایک سلسلہ شروع ہواتوپی ٹی آئی راہنماؤں کی دلی مرادپوری ہوگئی اورانہوں نے ایک بارپھرمولاناسے ملاقاتوں کاسلسلہ شروع کردیا۔ جس کے نتیجے میں مولانااورپی ٹی آئی کے درمیان پارلیمانی اتحادقائم ہوا۔اس حوالے سے مولاناکا کہناتھاکہ ہم اپوزیشن پارلیمانی اتحاد قائم کررہے ہیں۔کچھ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مولانانے اے این پی سے رابطہ کرکے اپوزیشن اتحادمیں شمولیت کی دعوت دی مگر اے این پی راہنماؤں نے پی ٹی آئی کیساتھ کسی اتحادمیں شامل ہونے سے معذرت کرلی۔ بعض ذرائع کایہ بھی دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی بھی اس اتحادکاحصہ بننے جارہی ہے مگراس حوالے سے ابھی کنفرم خبریں موجودنہیں۔جے یوآئی اورپی ٹی آئی کے درمیان پارلیمانی اتحاد قائم ہونے کے بعدسوشل میڈیاپرعمران خان اورپی ٹی آئی راہنماؤں کے وہ بیانات شیئرہورہے ہیں جن میں مولاناکی تضحیک کی گئی ہے یاانہیں برے القابات سے نوازاگیاہے۔اسی طرح مولاناکے ان بیانات کی بھی بھرمارہے جوانہوں نے پی ٹی آئی اورعمران خان کیخلاف دئے۔ صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں کاخیال ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی عداوت کی خلیج کوپارکرنابہت مشکل ہوگا۔کیونکہ 2013ء سے یہاں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی ہے تب سے ان دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات میں تناؤچلاآرہاہے جس کے اثرات کارکنو ں کی سطح پربھی محسوس کئے جارہے ہیں پھرپی ٹی آئی صوبائی سطح پرکئی گروہوں میں بٹی ہوئی ہے۔ علی امین گنڈاپورکابھی اتحاداورمولاناکی مخالفت میں بیان سامنے آچکاہے۔ابتدامیں جب سہیل آفریدی نے مولاناسے ملاقات کی تواس پرعلی امین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیاتھاجس سے کچھ حلقوں کاخیال تھاکہ سہیل آفریدی گنڈاپورکوستانے کیلئے مولاناسے ملے۔ مجوزہ اتحادکواسلئے ناپائیدار قرار دیا جارہا ہے کہ دونوں جماعتوں کے نظریات اورخیالات میں زمین آسمان کافرق ہے۔ اس پارلیمانی اتحاد کے سیاسی اتحادبننے میں کئی رکاوٹیں اور مشکلات درپیش ہیں سیاسی اتحاداس صورت میں بن سکتاہے جب پی ٹی آئی جنوبی اضلاع میں مولاناکے خلاف امیدوارنہ اتاریں مگرگنڈا پور کے پی ٹی آئی میں ہوتے ہوئے یہ ممکن نہیں۔یاتوعلی امین پی ٹی آئی میں رہیں گے یاپھر مولانافضل الرحمان اورپی ٹی آئی کے درمیان اتحادقائم ہوگا۔علی امین کے پارٹی چھوڑنے کی صورت میں پرویزخٹک،محمودخان اورعثمان بزدارکے بعد پی ٹی آئی کاساتھ چھوڑنے والے چوتھے وزیراعلیٰ ہوسکتے ہیں۔ بعض ذرائع کادعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی 27ستمبرکے اسلام آباد مارچ میں مولانااورانکی جماعت کو شریک کرنے کی خواہاں ہے مگرمولانانے پی ٹی آئی کے کنٹینرپرسوارہونے کے بارے میں سوال کامبہم جواب دیاہے۔
آزادی لینگے یاشہادت قبول کرینگے،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 27ستمبرکواسلام آبادمارچ کیلئے پرعزم
دوسری جانب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی 27ستمبرکواسلام آباد مارچ کیلئے پرعزم ہیں۔انہوں نے گزشتہ ہفتے ہنگومیں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ”27ستمبرکی تاریخ اٹل ہے،لانگ مارچ ضرورہوگا،کارکن بھرپورتیاری کریں،اس بارمیں خودقیادت کروں گا،ہم کشتیاں جلاچکے ہیں اسلئے کامیاب لوٹیں گے،اس بارآزادی پائیں گے یاشہادت قبول کرینگے،تیسراکوئی راستہ نہیں“ انکے خطابات اور سٹریٹ موومنٹ کی تیاریاں بھی صوبے میں زیربحث ہیں پہلے وہ 20لاکھ لوگوں کواسلام آبادلیکرجانے کے اعلانات کر رہے تھے اب انہوں نے یہ تعدادبڑھاکر40لاکھ کردی ہے۔صوبے میں عمران خان اورحکومت یااسٹیبلشمنٹ کے درمیان ڈیل کی خبریں بھی زیرگردش ہیں بعض حلقوں کاخیال ہے کہ عمران خان سے بہنوں اوراہلیہ کی ملاقاتیں اورگوہرخان کی سپیکرآفس آناجاناڈیل کی کہانی سنارہے ہیں۔
خیبرپختونخوامیں ریلوے ٹریکس کی بحالی، معاہدے پرحنیف عباسی اور سہیل آفریدی نے دستخط کئے
خیبرپختو نخوامیں ریلوے کی بحالی اورترقی کے حوالے سے وفاقی وزارت ریلوے اورصوبائی حکومت کے درمیان معاہدے پردستخط ہوگئے ہیں۔پختونخواہاؤس اسلام آبادمیں وفاقی وزیرریلوے حنیف عباسی اوروزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے معاہدے پردستخط کئے۔منصوبے کے تحت صوبے میں غیرفعال ریلوے لائنزکوفعال کیاجائیگا، تاریخی ریلوے سٹیشنزکی بحالی،مرمت اورتزئین وآرائش پرکام کیاجائیگا،اس مقصد کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 50کروڑروپے مختص کئے گئے ہیں۔معاہدے کے تحت نوشہرہ مردان اوردرگئی ریلوے لائن کو فعال کیا جائیگا،گریٹرپشاورسرکلرریلوے منصوبے کے تحت پشاور،نوشہرہ،مردان اورچارسدہ کوجدیدریلوے ٹریک کے ذریعے باہم منسلک کیاجائیگا، مردان،چارسدہ اورپشاورسے طورخم تک ریلوے روابط کوبھی منصوبے کے آئندہ مراحل میں شامل کیاجائیگا۔صوبے میں آمدو رفت کے ذرائع انتہائی محدودہونے کے سبب ڈیڈریلوے ٹریکس کی بحالی اچھافیصلہ ہے۔جن ریلوے لائنزکاذکرمنصوبے میں کیاگیاہے ان روٹس پر انگریزکے زمانے کی ریلوے لائن اورسٹیشنزموجودہیں مگرعدم توجہی کے سبب سٹیشنزکی عمارات ناقابل استعمال ہوچکی ہیں جبکہ ریلوے لائن کے اردگردشہری آبادی بڑھ چکی ہے اب ان ٹریکس کی دوبارہ بحالی اسی صورت ممکن ہے کہ ان ریلوے لائنزکے اردگردباڑ لگا ئی جائے یا دیواریں تعمیرکی جائیں۔نوشہرہ سے براستہ مردان ملاکنڈدرگئی،مردان تا چارسدہ اورپشاورسے طورخم ریلوے لائنز پہلے سے موجودہیں ان لائنزکی فعالیت پرکام ہوناچاہئے۔
لکی مروت اوربنوں میں پولیس امن کمیٹیوں کی من مانی،افسران کے احکامات ماننے سے انکار
آئی جی پولیس کونئے چیف کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی ہدایت،نئی تعیناتی کیلئے مشاورت جاری
لکی مروت اوربنوں میں پولیس نے امن کمیٹیاں قائم کی ہیں۔ابتدامیں یہ کمیٹیاں دہشتگردوں کیخلاف قائم کی گئی تھیں مگراب انکے ارکان من مانیوں پراترآئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان کمیٹیوں نے اب پولیس ٹرانسفرپوسٹنگ اوردیگرمعاملات میں مداخلت کرکے افسران بالا کے احکامات بھی ماننے سے نکارکردیاہے۔ ان کمیٹیوں نے تین ڈی پی اوزاورکئی ایس ایچ اوزکاتبادلہ کروادیا ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت ان کمیٹیوں کومن مانیاں کرنے سے روکے۔آئی جی پولیس ذوالفقارحمیدکاتبادلہ بھی فی الحال رک گیا ہے وفاق کی جانب سے پولیس سربراہ کیلئے دوبارہ نام مانگ لئے گئے ہیں اس سلسلے میں بیک ڈوررابطے اوربات چیت کاسلسلہ جاری ہے۔ ذوالفقارحمیدکی کمانڈ میں پولیس نظام میں بہتری اورپولیس کوجدیدٹیکنالوجی سے لیس کرنے پروفاقی حکومت اوراہم حلقوں میں انکی خدمات کوسراہاجارہاہے، انہوں نے خیبرپختونخوامیں پنجاب طرزکی پولیسنگ کاعمل شروع کیا،سی آراو،تھرمل ٹیکنالوجی،نائٹ وژن سمیت لیزر گنز اورحساس اضلاع کیلئے بلٹ پروف گاڑیوں کاحصول ممکن بنایااورپولیس کیلئے وفاقی اورصوبائی حکومتوں سے فنڈزکی فراہمی یقینی بنائی۔نئے پولیس چیف کی تعیناتی تک ذوالفقارحمیدکوکام جاری رکھنے کی ہدایات دی جاچکی ہیں۔