عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اپنی کیچن کیبنٹ کے ہمراہ ” سٹریٹ موومنٹ” کی مہم جوئی کے سلسلے میں سندھ کے دورے پر نکل چکے ہیں جہاں اپنی پہلی ہی تقریر میں میزبانی اور مہمان داری کی پرواہ کئے بغیر پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو ناکارہ ، کرپٹ اور نااہل قرار دیتے ہوئے اپنی حکومت کو ” مثالی ” ثابت کرنے کی پوری کوشش کی حالانکہ ان کے پچھلے دورہ سندھ کے دوران سندھ حکومت نے ان کی بہت اچھی طرح میزبانی کی تھی ۔
عادت اور مخصوص سیاسی تربیت سے مجبور پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ یہ نہ صرف مخالفین کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتی ہیں بلکہ اس پارٹی کے رہنما ایک دوسرے کو بھی معاف نہیں کرتے اور اسی رویے نے اس پارٹی کو برباد اور تنہا کرکے رکھ دیا ہے ۔
وزیر اعلیٰ ایک ایسے وقت میں دورہ سندھ پر نکل چکے ہیں جبکہ ان کے اپنے صوبے میں بدامنی کی آگ لگی ہوئی ہے اور پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں 36 گھنٹے کے ایک نان سٹاپ آپریشن کے نتیجے میں افغانستان سے دراندازی کرنے والے 15 دہشت گردوں کو ہلاک کرتے ہوئے مجوزہ بڑی دہشت گردی کی سازش اور منصوبہ بندی کو ناکام بنادیا اور پشاور سمیت متعدد دیگر مختلف علاقوں میں بھی مختلف کارروائیاں کی گئیں ۔
اپر سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوگئی ہے جس سے براہ راست خیبرپختونخوا اور بلوچستان ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتے آرہے ہیں مگر پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت نہ صرف ان چیلنجز سے لاتعلقی کی پالیسی پر گامزن ہیں بلکہ یہ افغان اور پاکستانی دہشت گردوں اور طالبان کی حمایت اور ترجمانی میں بھی مصروف عمل ہیں ۔
پی ٹی آئی نے اس کے باوجود 27 ستمبر کے مارچ کی تیاریاں شروع کردی ہیں کہ اس سے قبل اس پارٹی کی ایسی تمام کوششیں ناکام رہی ہیں تاہم اس پریکٹس کی ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عدم استحکام پیدا کرنے والی ان تمام کوششوں میں جنگ زدہ خیبرپختونخوا کے وسائل ، کارکن اور عوام استعمال کیے جارہے ہیں ۔
