وصال محمدخان
حکمران جماعت 27ستمبرمارچ کیلئے پرعزم،اسلام آبادہائیکورٹ کاحکم آنے کے باوجودمارچ کیاجائیگا
مارچ پرسرکاری وسائل استعمال نہیں ہونگے،نئے صوبے بنانے میں جلدبازی سے نقصان،بیرسٹرگوہر
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 27ستمبراسلام آبادمارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں سندھ کاپانچ روزہ دورہ مکمل کرلیاہے۔اس دورے سے قبل وزیراطلاعات شفیع جان نے انکے پنجاب اوربلوچستان دوروں کابھی عندیہ دیاتھامگرابھی اس حوالے سے کوئی شیڈول سامنے نہیں آیا۔دورۂ سندھ سے کیاحاصل ہوااوراس سے پارٹی کی سیاست پرکیااثرات مرتب ہوسکتے ہیں یہ جاننے کاپیمانہ 27ستمبرکامارچ ہے۔ سندھ سے واپسی پرسہیل آفریدی27ستمبرمارچ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔وزرااوروزیراعلیٰ کی احتجاجی سیاست میں مصروفیت سے حکومتی معاملات اورذمہ داریاں متاثرہوناقدرتی امرہے مگر ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کوعہدہ ہی احتجاجی تحر یک کیلئے دیاتھاجس کی ناکامی پرانہیں عہدے سے ہٹایاجاسکتاہے۔دوسری جانب وفاقی حکومت بھی اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت نہ دینے پرقائم ہے اسی لئے احتجاج اڈیالہ جیل کے باہرکرنے پربھی غورہورہاہے شائداسی کے پیش نظرگزشتہ دنوں اڈیالہ جیل کے قرب وجوار میں سیکیورٹی کانیاپلان نافذکیاجاچکا ہے۔پشاورسے ایک سینئرصحافی کاکہناہے کہ سہیل آفریدی دودھاری تلوار پر چل رہے ہیں وہ تحریک نہیں چلاتے توبانی فارغ کرسکتے ہیں اوراسلام آبادیاراولپنڈی میں احتجاج کرتے ہیں تو26نومبر سے زیادہ سختی ممکن ہے اور انہیں 9مئی واقعات میں سزابھی سنائی جاسکتی ہے جس سے وہ نااہل ہوکرعہدے سے ہاتھ دھوبیٹھیں گے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبا ئی حکومت پرشدیددباؤہے پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی ڈھکے چھپے نہیں پارٹی کے چندسنیئرراہنماؤں کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ،علی امین گنڈا پور کومنانے کی ناکام کوشش ہوئی جنہوں نے مستعفی ہونے کے بعدپارٹی سرگرمیوں میں حصہ لینا موقوف کردیا ہے، وہ اپنے طورپر ڈی آئی خان میں سٹریٹ موومنٹ چلارہے ہیں اورانکے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ وہیں سے اپنے جلوس کے ہمراہ مارچ میں شرکت کرینگے مگر سہیل آفریدی کیساتھ اکھٹے یاانکی قیادت قبول کرنے کوتیارنہیں۔مارچ کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخوا ست بھی دائر ہو چکی ہے۔ چیف جسٹس سرفرازڈوگرنے لارجربنچ تشکیل دیکرچاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز،آئی جیز،چیف کمشنر، ڈی سی اورآئی جی اسلام آباد اور ایڈوکیٹ جنرلزکوذاتی حیثیت میں پیش ہونے کاحکم جاری کردیاہے۔ دو روزقبل پارٹی کی کورکمیٹی کاآن لائن اجلاس منعقدہوا جس میں مرکز ی اورصوبائی راہنماشریک ہوئے۔اجلاس میں 27ستمبرکومجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے تفصیلی غوراورآئندہ کے لائحہء عمل پرمشاورت ہوئی جبکہ عدالتی پابندی،ممکنہ گرفتاریوں اورصوبائی حکومت کے تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں پربھی تبادلہ خیال ہواحیرت انگیزطورپر اجلا س میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی شریک نہیں ہوئے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ اگرہائی کورٹ کی جانب سے لانگ مارچ روکنے کے احکامات جاری ہوتے ہیں تواس صورتحال سے نمٹنے کیلئے مربوط متبادل حکمت عملی تیارکرنی ہوگی،پارٹی کامؤقف اوربیانیہ پیش کرنیوالے گنتی کے چندراہنماہی بچے ہیں اگرانہیں بھی گرفتارکیاگیا توپارٹی مزیدبحران کا شکارہوسکتی ہے۔اجلاس میں شریک راہنماؤں نے کہاکہ ماضی میں بھی عدالتوں کی جانب سے لانگ مارچ روکنے کے احکامات جاری ہو چکے ہیں تاہم پی ٹی آئی نے اسکے باوجوداپناپروگرام جاری رکھااوراس باربھی عمران خان کی ہدایات کے مطابق ہرصورت لانگ مارچ کیا جائیگا۔چیئرمین گوہرخان کاکہناتھاکہ27ستمبرکالانگ مارچ ہرصورت ہوگاہم تمام اپوزیشن جماعتوں کوبھی اس میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں،صوبے بنانے میں جلد بازی جیسے اقدامات سے وفاق کونقصان پہنچنے کااندیشہ ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی صوبوں کے بارے میں بیان کی مذمت کی اورمطالبہ کیاکہ وہ اپنابیان واپس لیں۔تحریک انصاف راہنماؤں کے بیانات سے ظاہرہورہاہے کہ اسلام آبادہائیکورٹ کی جانب سے مارچ روکنے کاکوئی حکم بھی سامنے آیاتوپارٹی رکنے والی نہیں اس سلسلے میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی بھی ممکن ہے۔ بہتر ہوتااگرتحریک انصاف کے سنجیدہ قائدین مارچوں اوراحتجاجی سیاست سے کنارہ کشی کاروئیہ اپناتے گزشتہ چار برسو ں سے احتجاجوں اورلانگ مارچزکا خاطرخواہ نتیجہ برآمدنہ ہوسکابلکہ اس سے نچلی سطح کے کارکن بری طرح متاثرہوئے انکے خلاف مقدما ت درج ہوئے اور قیدوبندکی صعوبتیں اورتکالیف برداشت کرنی پڑیں۔کیاہی اچھاہوتاکہ پارٹی قیادت اپنی سیاسی بصیرت اوربصارت کو بروئے کارلاکر سیاسی اندازمیں مسائل کاحل نکالتی باربارکے احتجاجوں سے صوبے کے حکومتی معاملات بھی متاثر ہوتے ہیں،سرکاری وسائل کاضیاع بھی ہوتاہے اگرچہ بیرسٹرگوہرنے کہاکہ سرکاری وسائل استعمال نہیں ہونگے مگریہ محض سیاسی بیان ہے سرکاری وسائل پہلے بھی استعمال ہوتے رہے ہیں اوراب بھی اگرمارچ ہوتاہے تویہ دھڑلے سے استعمال ہونگے۔پہلے بھی ریسکیو1122 اوردیگرمحکموں کی گاڑیا ں اسلام آباد پولیس نے تحویل میں لی تھیں مگراسکے باوجودسرکاری وسائل استعمال نہ کرنے کے دعوے ہوتے رہے اب بھی یہی امکان ہے کہ سرکاری وسائل استعمال بھی ہونگے اوراس سے انکاربھی ہوگاعین ممکن ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بھی اپنے پیشروعلی امین گنڈاپورکی طرح بارہ اضلاع سے ہوکرواپس پشاورپہنچیں۔
ہزارہ کوالگ صوبہ بنانے کے خلاف صوبائی اسمبلی میں اے این پی کی قرارداد،ہزارہ پختونخواکاحصہ ہے
گوہرخان نے صوبے بنانے میں جلدبازی سے کام نہ لینے کابیان تودیاہے مگروہ شائدبھول گئے کہ صوبائی اسمبلی صوبہ ہزارہ بنانے کی قرار دادمنظورکرچکی ہے۔اے این پی نے صوبائی اسمبلی میں ایک قراردادپیش کی ہے جس میں کہاگیاہے کہ فیڈریشن آف پاکستان کے اندر خیبر پختونخواایک قومی وحدت اوروفاقی اکائی ہے،صدیوں کی تاریخ،ثقافت،زبانیں،جغرافیہ اورعوام کے مشترکہ معاشی مفادات نے اس قومی وحدت کی تشکیل کی ہے،صوبے کی دھرتی پرہزاروں برسوں سے گندھارا،یونانی،باختری اوراسلامی تہذیبوں نے گہرے نقوش چھوڑ ے ہیں جوعوام کی شناخت،طرززندگی اوراقدارمیں نمایاں طورپرنظرآتے ہیں، ایک قومی وحدت کی حیثیت سے خیبرپختونخوا فیڈریشن آف پاکستان کی ایک وفاقی اکائی ہے اوریہ ایک تاریخی اورسیاسی حقیقت ہے کہ وفاقی اکائیوں نے مل کروفاق پاکستان کی تشکیل کی ہے۔سقوط بنگال کے بعدبھی صوبائی اکائیوں نے مل کرباہمی رضامندی سے 1973ء کے آئین کی شکل میں موجودہ فیڈریشن کوتشکیل دیاہے۔ فیڈر یشن آف پاکستان کاآئینی ڈھانچہ اورعمرانی معاہدہ تین ستونوں پرکھڑاہے پہلاجمہوریت،دوسرافیڈریشن اورتیسراستون بنیادی انسانی حقوق ہیں ان میں سے کسی بھی ستون کوچیڑنے کیلئے نیاعمرانی معاہدہ ضروری ہوگا۔ہزارہ خیبرپختونخواکاناقابل تقسیم حصہ ہے جوتاریخی ثقافتی اورتہذیبی طورپرصوبے کاایک عضواوراٹوٹ انگ ہے اسے کاٹنے کی کوشش کی گئی توبرے نتائج کی ذمہ داری کاٹنے والوں پر عائدہوگی۔ دستورپاکستان کے اندرآرٹیکل 1اورآرٹیکل239کے شق 4کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔
نرسنگ کالج میں احتجاجی طلبہ کیخلاف ایف آئی آردرج،دوذمہ داروں کیخلاف ایف آئی آر درج
گزشتہ ہفتے پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ پشاورمیں پیش آنیوالے واقعے کاخاصاچرچارہا۔اس حوالے سے محکمہ صحت کی جانب سے قائم کی گئی فیکٹ فائنڈ نگ کمیٹی کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ طلبہ کی شکایات کابروقت ازالہ نہیں کیاگیاجس کے باعث حالات کشیدہ ہوئے۔یادرہے مذکورہ کالج میں طلبہ نے مطالبات کیلئے احتجاج کے دوران مردوخواتین عملے کویرغمال بنایاجس پرانتظامیہ کوپولیس بلانا پڑی۔ پولیس اورطلبہ کے درمیان ہاتھاپائی ہوئی۔ جس پرسی سی پی اوپشاورنے ایس ایچ اواورڈی ایس پی کاتبادلہ کردیا۔فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے طلبہ کی شکایات کا بروقت ازالہ کرنے، انکے ساتھ مؤثررابطہ بحال رکھنے،ادارہ جاتی نظام کوبہتربنانے،پرنسپل وہاسٹل انتظامیہ میں رودوبدل کرنے اورذمہ دارطلبہ کیخلاف کالج قواعدکے مطابق کارروائی کرنیکی سفارش کی ہے۔ دوذمہ دارافرادکے خلاف ایف آئی آربھی درج کرلی گئی ہے۔
بی آرٹی بس میں مفت سفر،بزرگ شہریوں کیلئے صوبائی حکومت کامنصوبہ،اخراجات 935ملین روپے
صوبائی حکومت نے 60سال سے زائدعمرکے شہریوں کیلئے بی آرٹی بس سروس میں مفت سفری سہولت فراہم کرنے کیلئے احساس بزرگ کارڈجاری کرنے کافیصلہ کیاہے۔منصوبے پرسالانہ 935ملین روپے کے اخراجات آئینگے۔کارڈکے غلط استعمال پرکارڈہولڈر کو 500 روپے جرمانہ کیاجائیگا۔
