Wisal article 7 Aug 26

افغانستان کی جانب سے 8ڈرونزکی آمد،پاک فضائیہ نے ناکارہ بنادیا،افغان رجیم کومنہ توڑجواب

وصال محمدخان
خیبرپختونخواکی صورتحال
خیبرپختونخواکے سلگتے ہوئے اورسنگین مسائل پس پشت ڈال کرصوبائی حکومت 27ستمبر اسلام آبادمارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ کوہاٹ اولڈپولیس لائن میں گزشتہ ہفتے نمازجمعہ کے دوران ہونیوالے حملے میں 17پولیس اہلکاروافسران سمیت دودرجن افرادجام شہاد ت نوش کرچکے ہیں جس کے جواب میں پاکستان نے افغانستان کے دہشتگردٹھکانوں پربمباری کی اس کارروائی کے نتیجے میں سرحدوں پر بھی حالات کشیدہ ہوئے اور افغانستان کی جانب سے پاکستان کی طرف8ڈرونز بھیجے گئے جنہیں پاک فضائیہ نے ناکارہ بنادیا۔بدھ کے روز 8ڈرون پاکستان کی فضائی حدودمیں داخل ہوئے جن کامقصدعوامی مقامات کونشانہ بناناتھاتاہم ملکی دفاعی نظام نے فوری رد عمل دیتے ہوئے اس بزدلانہ حملے کوپیشہ ورانہ اندازمیں ناکام بنادیا،4ڈرونزطورخم بارڈرسے ملحقہ علاقوں جبکہ چارکوہاٹ کے قریب مارگرائے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ فضائی دراندازی افغان رجیم کی جانب سے دہشتگردوں کی براہ راست معاونت اورسرپرستی کاواضح ثبوت ہے۔ اس سے ایک رات قبل پاک فوج نے کرم سیکٹرپربلااشتعال فائرنگ کے جواب میں سرحدپار افغان رجیم کے متعددٹھکانوں اورمورچوں کوتباہ کیاتھا۔ایک جانب صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات ہیں جس کے جواب میں ریاست کی جانب سے افغانستان میں فتنۃ الخوار ج کے ٹھکانوں پرحملے کئے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب صوبے سے ملحقہ سرحدوں پرکشیدگی اورجنگ کاماحول ہے۔صوبائی حکومت ان معاملا ت سے لاتعلقی اختیارکرتے ہوئے اسلام آبادمارچ کی تیاریوں میں مگن ہے۔گزشتہ ہفتے سے صوبے میں گورنرراج کی افواہیں بھی زوروں پرہیں بااعتمادذرائع کا دعویٰ ہے کہ صوبے میں گورنرکی تبدیلی اوراسکے نتیجے میں گورنرراج خارج ازامکان نہیں نئے گورنر کیلئے جنرل ریٹائرڈ احسان اور پرویزخٹک کے نام لئے جارہے ہیں۔ایک ذریعے کایہ بھی دعویٰ ہے کہ اگرمارچ کے شرکااسلام آبادکی طرف بڑھے تو صوبے میں گورنر راج لگ جائیگا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اورکابینہ وزراوفاقی حکومت کوبارہاگورنرراج لگانے کا چیلنج دے چکے ہیں حالانکہ اگروفاق چاہے تواس امرمیں کوئی آئینی رکاوٹ موجودنہیں بلکہ صوبائی حکومت اس کیلئے تمام لوازمات پورے کرچکی ہے۔ صوبے میں امن وامان کے حالات مخدوش ہیں،دہشتگردی کے حملوں میں روزافزوں اضافہ ہورہاہے، صوبے سے ملحقہ سرحدپرجنگ کا سماں ہے،افغانستان کی جانب سے صوبے میں ڈرون حملے ہورہے ہیں،صوبے کی سلامتی کوبیرونی خطرہ لاحق ہے،صوبے کے اندرونی حالات، حکومتی معاملات اورصوبائی حکومت کے الٹے سیدھے اقدامات،صوبائی اسمبلی کوربڑسٹیمپ بناکر متنازعہ قانون سازی،صوبائی اسمبلی میں وزیراعلیٰ کی ناقابل اشاعت تقریریں اوروزراکی اخلاق سے گری ہوئی بیان بازی گورنرراج کیلئے کافی موادفراہم کررہے ہیں مگروفاقی حکومت صبروتحمل کامظاہرہ کررہی ہے ان دگرگوں حالات کے پیش نظرگورنر راج نافذہونیکی صورت میں اسے عدالتی توثیق بھی مل سکتی ہے۔صوبے میں وزرااورپارٹی راہنماؤ ں کی گرفتاری کاسلسلہ بھی جاری ہے اب تک تین سے زائدصوبائی وزرا گرفتارہوچکے ہیں جن کے بارے میں حکومتی دعویٰ ہے کہ یہ وفاقی حکومت اورفوج نے اغواکئے ہیں جبکہ ناقدین کاخیال ہے کہ یہ خودساختہ گرفتاریاں ہیں جوبھی نمایاں فردلانگ مارچ سے فرارچاہتاہے وہ خودساختہ طورپرگرفتارہوجاتاہے۔ ایک ذریعے کے مطابق پولیس بھی اب حکومتی احکامات ماننے سے اجتناب برت رہی ہے اسی لئے پی ٹی آئی راہنماؤں کوبلاخوف وتردد گرفتارکیاجارہاہے۔
کابینہ نے پولیس ایکٹ2026کی منظوری دے دی،وفاقی افسران واپس کرنے کااختیارحاصل
کابینہ نے پولیس ایکٹ 2026ء کی منظوری دی ہے جس کے تحت صوبائی حکومت کو وفاقی افسران کی غیرتسلی بخش کارکردگی پر انکی خدمات واپس کرنے کااختیارحاصل ہوگا،پولیس پالیسی بورڈقائم کیا جائیگاجس کی سربراہی وزیراعلیٰ کرینگے،جبکہ آپریشنزبورڈکی سربراہی آئی جی کے پاس ہوگی،صوبے میں ریجنل انویسٹی گیشن افسران تعینا ت کئے جائیں گے،ریجنل اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی تقرری اورتبادلے خیبرپختونخوارولزآف بزنس1985ء کے تحت کئے جائینگے، پولیس کے پالیسی اورآپریشنل امورکوالگ کیاجائیگا،موجودہ تمام ڈسپیوٹ ریزولوشن کونسلزتحلیل کرکے نئے قانون کے تحت ازسرنوتشکیل کی جائیگی۔حکومت کے مطابق مجوزہ قانون کے تحت پولیس کوعوام کے سامنے مزیدجوابدہ بنانے کیساتھ تفتیشی نظام کومضبوط،افسران کی پیشہ ورانہ ترقی کوبہتراورپولیس کے پالیسی اورعملی امورکوالگ کیاجائیگا۔علی امین دورمیں بھی پولیس ایکٹ2017ء میں ترامیم منظورکی گئی تھیں جنہیں پشاورہائیکورٹ نے کالعدم قرار دیاتھا۔جبکہ موجودہ حکومت بھی پولیس کوتابع بنانے کیلئے ایڑھی چوٹی کازورلگارہی ہے جس سے پولیس ڈیپارٹمنٹ میں کھلبلی مچ چکی ہے۔یادرہے پرویزخٹک دورمیں پولیس کوتقرریوں اورتبادلوں کے حوالے سے باختیاربنایاگیاتھاجس کاذکرپرویزخٹک اورعمران خان فخریہ اندازمیں کرتے تھے کہ انہوں نے صوبے کو مثالی پولیس بناکردی ہے مگرموجودہ حکومت پولیس کو سونپے گئے اختیارا ت واپس لینے کیلئے سرگرم ہے۔یعنی جس اعلیٰ کارکردگی پردادسمیٹی گئی تھی اب اسے ریورس گیئرمیں ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے۔اس نئی قانون سازی سے پولیس بھی خوش نہیں جبکہ عوامی حلقے بھی اسے تنقیدکانشانہ بنارہے ہیں۔ ایک اعلیٰ پولیس افسرنے نام ظاہرنہ کرنیکی شرط پربتایاکہ دہشتگردی سے نبردآزماپولیس فورس کوحوصلہ افزائی کی ضرورت ہے مگرصوبائی حکومت اسکی بجائے پولیس کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہے یاتوحکومت دہشتگردی کاخاتمہ نہیں چاہتی یاپھراسے سیاسی سرگرمیوں کیلئے پولیس کی ضرورت ہے موجودہ قانون کے مطابق پولیس کوسیاسی سرگرمیوں میں استعمال نہیں کیاجاسکتاجبکہ نئی ترامیم کے بعدپولیس مکمل طورپروزیراعلیٰ اورحکومت کوجوابدہ ہو جائیگی۔
مارچ سے نمٹنے کے لئے وفاقی حکومت کی تیاریاں مکمل،موٹرویزجی ٹی روڈاوراہم پل بند،رینجرزتعینات
دوسری جانب اسلام آبادمارچ کے حوالے سے کہاجارہاہے کہ اگرمارچ کے شرکاصوابی تک محدودرہتے ہیں اوروہاں جلسہ وغیرہ کرکے واپس چلے آتے ہیں تووفاق کسی قسم کاتعرض نہیں کریگالیکن اگراٹک پل کراس کیاگیاتومارچ کے شرکاکوروکنے کیلئے کسی بھی حدتک جایاجا سکتا ہے۔خیبرپختونخواسے ملحقہ صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں رینجرزکی 5کمپنیاں اور30ہزارپولیس اہلکارتعینات کئے گئے ہیں جبکہ راولپنڈ ی اسلام آبادمیں بھی رینجرزکی تین کمپنیاں اورہزاروں پولیس اہلکار تعینات کئے گئے ہیں۔وفاق کی جانب سے تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر شرکانے اٹک پل پارکرنیکی کوشش کی توسختی سے نمٹاجائیگا۔موٹروے ایم ون دونوں طرف سے جبکہ اٹک،خوشحال گڑھ پل بند ہیں جس سے صوبے کازمینی رابطہ منقطع ہوچکاہے۔ذمہ دارذرائع کادعویٰ ہے کہ مارچ سے نمٹنے کیلئے وفاق اورپنجاب حکومتوں کے غیرلچکدارروئیوں کے پیش نظرپی ٹی آئی مذاکرات پرتیارہوچکی ہے جس کے تحت بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پرعائدپابندی اٹھائی جاسکتی ہے اوربانی کی ہمشیراؤں سمیت پنجاب میں گرفتارراہنماؤں کی رہائی بھی ممکن ہے مگر اس کیلئے پی ٹی آئی کواپنے روئیے تبدیل کرنے ہونگے۔ ایک جانب مارچ کی تیاریاں اور بیان بازی کاسلسلہ جاری ہے مگردرپردہ مذاکرا ت کی کوشش بھی ہورہی ہے کوئی ایساراستہ تلاش کیاجارہا ہے جس سے حکومت اورپی ٹی آئی دونوں کابھرم قائم رہے اورکسی کی ہاریاجیت کا تاثرپیدانہ ہو۔اب دیکھتے ہیں 27ستمبرکوپرتشددمارچ ہوتا ہے یا معاملات خوش اسلوبی سے طے پاتے ہیں۔ضرورت اس امرکی ہے کہ فریقین صبروتحمل،بردباری،ملک کی خاطرایثاروقربانی اور مدبرانہ روئیوں کامظاہرہ کریں دنیاخصوصی طورپرخطے کے مخدوش حالات کسی ایڈونچر کے متحمل نہیں ہوسکتے۔