عقیل یوسفزئی
ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق رواں برس خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں دہشتگردی کے 2460 واقعات ہوئے ۔ ان واقعات یا حملوں کے نتیجے میں 472 افراد شہید جبکہ 1584 زخمی ہوئے جن میں 35 فی صد وہ ہیں جو کہ عمر بھر کے لیے معذور ہوگئے ہیں یعنی ان کے جسم کے مختلف اعضاء کو کاٹ دیا گیا اور ایسے افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق پاکستان کے سیکورٹی اداروں یعنی پاک فوج ، پولیس اور ایف سی سے ہے کیونکہ زیادہ تر حملے ان اداروں ہی پر کیے گئے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق اس تناسب سے خیبرپختونخوا میں روزانہ 10 حملے کیے جاتے رہے جس کے نتیجے میں اوسطاً 7 افراد شہید ہوتے گئے ۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے جن علاقوں یا اضلاع کو پچھلے اور اس برس کے دوران سب سے زیادہ دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے ان میں بنوں ، ڈیرہ اسماعیل خان ، شمالی وزیرستان ، کرم ، جنوبی وزیرستان ، ہنگو ، ٹانک ، کرک ، لکی مروت ، باجوڑ ، خیبر ، مہمند ، سوات ، کوہاٹ ، پشاور ، اپر دیر ، لویر دیر اور نوشہرہ شامل ہیں ۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آدھا خیبرپختونخوا مسلسل حملوں کی ذد میں رہا ہے ۔
رپورٹ کے مطابق صرف رواں برس کے 9 مہینوں کے دوران خیبرپختونخوا میں 21 خود کش حملے کیے گئے جن میں اکثر کے دوران سیکیورٹی فورسز خصوصاً پولیس فورس کو نشانہ بنایا گیا ۔ ان میں رواں مہینے کی اگر مثال دی جائے تو بنوں ، کوہاٹ اور گزشتہ روز کے ڈی آئی خان خود کش حملوں کی تفصیلات سب کے سامنے ہیں جن کے دوران نہ صرف فورسز اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا بلکہ زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینسز پر بھی حملے کیے گئے ۔
اس تمام منظر نامے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ تیرہ برسوں سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی جو حکومتیں برسر اقتدار چلی آرہی ہیں وہ ان معاملات سے نہ صرف لاتعلق رہی ہیں بلکہ یہ صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے پلیٹ فارمز سے دہشت گرد گروپوں کی سہولت کاری اور حمایت کرنے کی پالیسیوں پر بھی عمل پیرا رہی ہیں ۔
دوسری جانب پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت ایک مستقل پالیسی کے تحت افغانستان پر مسلط اس افغان حکومت کی بھی ترجمانی اور حمایت کرتی رہی ہیں جس نے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان پر حملوں میں ملوث ایک درجن سے زائد مختلف گروپوں کو محفوظ ٹھکانوں کے طور پر استعمال کرنے کی کھلی اجازت دے رکھی ہے ۔
اس تمام تر تشویش ناک صورتحال کے دوران پاکستان کی ریاست اور امن پسند سیاسی قوتیں بار بار پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ وہ اپنی سیاسی اور انتظامی زمہ داریاں پوری کریں مگر پی ٹی آئی کی تمام تر توجہ ریاست مخالف سرگرمیوں ، کرپشن اور اپنے بانی سے متعلق معاملات پر پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ پر مرکوز رہی جس کے نتیجے میں سیکیورٹی مسائل ناقابل برداشت حد تک بڑھتے گئے تاہم اب لگ یہ رہا ہے کہ اس پارٹی کی حکومت سے جان چھڑائی جائے اور خیبرپختونخوا، بلوچستان سمیت پورے پاکستان کو درپیش چیلنجز کا راستہ روکا جائے ۔
