Wisal article 7 Aug 26

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان

پی ٹی آئی لانگ مارچ4اکتوبرکولکی مروت سے پشاورکیلئے روانہ ہوگا،اسلام آبادجانے کاامکان موجود
خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے27 ستمبرکالانگ مارچ 4 اکتوبرتک ملتوی کیاگیاتھا وزیراطلاعات شفیع جان کیمطابق 4 اکتوبر کو مارچ لکی مروت سے شروع ہوکرکوہاٹ سے ہوتے ہوئے پشاور جائیگا۔سہیل آفریدی نے اسلام آبادجانے کے سوال پر معنی خیز مسکرا ہٹ کیساتھ آگے جانے کابھی عندیہ دیاہے مگروفاقی حکومت کی تیاریوں کودیکھ کر اسلام آبادکی طر ف جانے کاامکان کم ہے۔ وفاق کی انہی تیاریوں کے سبب مارچ ایک ہفتے کیلئے ملتوی کیاگیاتھاجس پرحکمران جماعت تنقیدکی زدمیں ہے۔ وزیر اعلیٰ مارچ التوا کواپنی حکمت عملی قراردے رہے ہیں مگرواقفان حال جانتے ہیں کہ کنٹینرزکی بھرمار،پولیس کی بھاری نفری،رینجرزکی تعیناتی اوربلوائیوں سے نمٹنے کیلئے جدید آلات کی نمائش مارچ التوا کے اسباب ہیں۔ ناقدین نے حکمرانوں کامذاق اڑایاکہ وہ وفاقی حکومت کی تیاریاں دیکھ کرخوفزدہ ہوگئی مگرحکمران جماعت کاکہنا ہے کہ مارچ حکمت عملی کے تحت ملتوی کیاگیا۔پی ٹی آئی چیئرمین گوہرخان کے مطابق انکی کوشش ہے کہ گورنرراج یاایمرجنسی بھی نہ لگے اور مارچ بھی ہو جس سے یہی نتیجہ اخذکیاجارہاہے کہ حکومت اورپی ٹی آئی کے درمیان کسی نہ کسی سطح پربات چیت ہورہی ہے جس کے نتیجے میں مارچ صوابی تک جانے یاپھراسلام آبادکے قریب جلسہ کرکے پرامن طورپرمنتشرہونے کاامکان ہے۔اس طرح پی ٹی آئی کوفیس سیونگ مل جائیگی دوسری صورت میں قوی امکان ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی کانفاذہو۔گورنرراج محدودمدت کیلئے ہوتی ہے جبکہ ایمرجنسی کیلئے وقت مقرر نہیں وفاق جب تک چاہے صوبے کوایمرجنسی کے تحت چلاسکتاہے۔وفاق نے ایک جانب بڑی شاہراہیں اورموٹر ویزکھولنے کے احکامات دئے تو دوسری جانب تمام کنٹینرزہٹانے سے اجتناب کیاگیااورساتھ ہی صوبے میں ایمرجنسی یاگورنرراج کی بحث وتمحیص کا سلسلہ بھی شروع کروادیاگیا۔صوبے میں گورنرراج یاایمرجنسی کیلئے آئین میں دی گئی تمام شرائط خیبرپختو نخوا کی حد تک پوری ہورہی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 232سے236تک میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے صدر مملکت،وفاقی حکومت اورپارلیمنٹ کے اختیارات اورآئینی طریقہ کارواضح کیاگیاہے۔یہ پانچوں آرٹیکلزہنگامی حالات سے متعلق ایک مکمل آئینی فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔آرٹیکل232جنگ، بیرونی جارحیت یاقابو سے باہر داخلی بدامنی کی صورت میں قومی ایمرجنسی کاطریقہ بتاتاہے،آرٹیکل233ایمرجنسی کے دوران بعض بنیادی حقوق کے حوالے سے ریاستی اختیارات بیان کرتاہے،آرٹیکل234 صوبے میں آئینی مشینری ناکام ہونیکی صورت میں خصوصی انتظام کا طریقہ بتاتاہے، آرٹیکل235مالیاتی ایمرجنسی سے متعلق ہے جبکہ 236 ایمرجنسی سے متعلق اعلامئے کومنسوخ یاتبدیل کرنے کاطریقہ بتاتا ہے۔ یوں صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کامعاملہ آرٹیکل 234کے تحت آتاہے اگرصدرمملکت مطمئن ہوں کہ ایسی سنگین صورتحال پیداہوگئی ہے جس سے پاکستان یااسکے کسی حصے کی سلامتی کوجنگ، بیرونی جارحیت یاصوبائی حکومت کے قابو سے باہرداخلی بدامنی کا خطرہ لا حق ہے تو وہ ایمرجنسی کااعلان کرسکتے ہیں۔234کے تحت صدر صوبائی حکومت کے تمام یابعض اختیارات خودسنبھال سکتے ہیں یاگورنرکو ان اختیارات کے استعمال کی ہدایت دے سکتے ہیں۔صوبے میں مختلف اداروں اوراتھارٹیزکے بعض اختیارات بھی اس انتظام کے تحت لائے جاسکتے ہیں تاہم صوبائی اسمبلی اس اختیارسے مستثنیٰ ہے اور آرٹیکل234کے تحت صدرصوبائی اسمبلی کے اختیارات براہ راست اپنے پاس نہیں لے سکتے البتہ یہ اعلان کرسکتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی اختیارات پارلیمنٹ یا اسکی اتھارٹی کے تحت استعمال کئے جائینگے۔ہائیکورٹ کے اختیارات بھی اس آرٹیکل کے تحت صدریاگورنراپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتے اورہائیکورٹ سے متعلق آئینی دفعات معطل نہیں کی جا سکتیں 234کے تحت جاری اعلامئے کوپارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنا، اسکی مدت اورتوسیع کیلئے پارلیمانی منظوری ضروری ہے اور یہ انتظام مجموعی طورپرمقررہ آئینی حدسے تجاوزنہیں کرسکتا۔گزشتہ ہفتہ دس دن سے صوبے میں گورنرراج یاایمرجنسی کی قیاس آرائیوں کاسلسلہ جاری ہے مگر تاحال وفاق کی جانب سے ایساکوئی قدم نہیں لیاگیاایک ذریعے کایہ بھی دعویٰ ہے کہ وفاق محض صوبائی حکومت کوڈراکرراہ راست پر لا نے کی خواہاں ہے گورنرراج یاایمرجنسی کے نفاذمیں سنجیدہ نہیں۔ سابق حکمران جماعت اے این پی وفاق کی جانب سے ایسے کسی اقدام کی مخالف نظرآرہی ہے اے این پی گورنر راج کے اقدام کو غیرجمہوری قراردے رہی ہے حالانکہ یہ اقدام غیر آئینی نہیں اوراس حوالے سے آئین بالکل واضح ہے مگرشائد اے این پی کوخدشہ ہے کہ حکومت کی زورزبردستی سے رخصتی اسے عوام کی ہمدردیاں دلاسکتی ہے جبکہ حکومتی کار کردگی سے اسکی مقبولیت روبہ زوال ہے۔مارچ پرحکمران جماعت بھی تقسیم کاشکارنظرآرہی ہے۔مارچ کیلئے مقررکئے گئے ترجمان اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے چیئرمین کے نام لکھے گئے خط میں لانگ مارچ ملتوی کرنیکی درخواست کی ہے جس کا میڈیاپر چرچا ہونے کے بعدوزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کاکہناتھاکہ اگرایساکوئی خط ملاتومیں اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دوں گا۔اپنی پارٹی کے سوشل میڈیاٹرولنگ سے تنگ شوکت یوسفزئی ایک لائیوشومیں روپڑے۔دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف اورصدر مملکت کی ملاقات میں پی ٹی آئی سے مذاکرات کیلئے پیپلزپارٹی اورن لیگ کاایک مشترکہ وفدبنایاگیاہے جس میں محسن نقوی،راناثناء اللہ، امیرمقام، شیری رحمان، نوید قمراوراعجازجھکرانی شامل ہیں۔وفدنے جمعہ کوپی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کی۔صدرمملکت اوروزیراعظم کے اس اقدام سے گورنرراج یاایمرجنسی کے فوری امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔پی ٹی آئی کوہوشمندی،سیاسی تدبراوردانش کامظاہرہ کرتے ہوئے اس موقع سے فائدہ اٹھانے اورسیاسی معاملات کوسیاسی اندازسے حل کرنیکی ضرورت ہے۔

این ایف سی عدم اجرا،ہائیکورٹ نے قومی مالیاتی کمیشن سے جواب مانگ لیا، اٹارنی جنرل بھی طلب
پشاورہائیکورٹ نے نیاقومی مالیاتی ایوارڈجاری نہ ہونے پر اٹارنی جنرل آف پاکستان کوطلب کرتے ہوئے قومی مالیاتی کمیشن سے بھی جواب مانگ لیاہے۔سابق صوبائی وزیرتیمورسلیم جھگڑاکی درخواست پرسماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا،درخواست گزار کے وکیل اوراسسٹنٹ اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔درخواست گزاروکیل نے عدالت کوبتایاکہ فاٹاانضمام کے بعدصوبے کی آبادی میں نمایاں اضافہ ہواہے اسلئے این ایف سی پرنظرثانی کی ضرورت ہے،2017ء اور2023ء کی مردم شماری مکمل ہوچکی ہے جس کے مطابق صوبے کی آبادی خاصی بڑھ چکی ہے،16سال میں بہت کچھ تبدیل ہوچکاہے،مگر2010ء کے بعدنیااین ایف سی ایوارڈجاری نہیں کیا گیا،حالانکہ ٓآئین کے مطابق ہر5سال میں اس پرنظرثانی ضروری ہے۔عدالت نے استفسارکیاکہ وفاق میں درخوا ست گزارکی حکومت کے وقت نیا این ایف سی ایوارڈکیوں جاری نہیں ہوا؟جس پروکیل نے بتایاکہ وفاق کی ہر حکومت فاٹا کواس کاحصہ دینے میں کنجوسی کامظاہرہ کرتی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے کہاکہ فنڈزکی مساوی تقسیم اورترقی کاعمل یقینی بنانے کیلئے فاٹاکوصوبے میں ضم کیاگیاتھا،وفاق نے عدالت میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے جس کے مطابق سابق فاٹاکیلئے27ارب روپے جاری کئے گئے ہیں،فاٹا انضمام کے وقت وفاقی حکومت نے تین فیصد اضافی رقم دینے کی منظوری دی تھی جواین ایف سی سے الگ ہے۔ اس مدمیں تین سال پہلے 115ارب روپے کی رقم واجب الاداتھی جواب مزیدبڑھ چکی ہے۔عدالت نے دونوں جانب کے دلائل سننے پرسماعت11نومبرتک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کوطلب کیا اورقومی مالیاتی کمیشن سے جواب مانگ لیا۔