عقیل یوسفزئی
خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کو صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی نے ایک اور خطرے میں ڈال دیا ہے اور 4 اکتوبر کے اعلان کردہ مجوزہ لانگ مارچ پر سیکورٹی ماہرین اور تجزیہ کار سخت تشویش کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ آدھے خیبرپختونخوا کو دہشت گرد گروپوں کے حملوں کا سامنا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس مارچ کے ذریعے بعض حملہ آور گروپ اپنی پوائنٹ اسکورنگ کرسکتے ہیں اور دوسرا خدشہ یہ کہ وہ اس کی آڑ میں دیگر علاقوں تک پہنچنے کا راستہ اختیار کریں گے ۔
حماقت اور غیر ذمہ داری کا عالم یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کے ناتجربہ کار وزیر اعلیٰ نے ” کمال” کرتے ہوئے مجوزہ مارچ کا شورش زدہ علاقے لکی مروت سے آغاز کا اعلان کردیا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے اور اس کے پیچھے چند خطرناک مقاصد کار فرما ہوسکتے ہیں ۔
اگر ایک جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹویٹ میں کھل کر پی ٹی پر کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت اور سرپرستی کا الزام لگایا ہے اور کسی ” سانحے” کا خدشہ ظاہر کیا ہے تو دوسری جانب کور کمانڈرز کانفرنس کے اعلامیہ میں دوٹوک الفاظ میں وارننگ دی گئی ہے کہ کسی بھی سرگرمی کی آڑ میں 9 مئی جیسی صورتحال دہرانے کی اجازت اور رعایت نہیں دی جائے گی ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت اور افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے والے دہشت گرد عناصر کے ساتھ بھی سختی سے نمٹا جائے گا ۔
اس تناظر میں یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت کو خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال کا پورا ادراک ہے ورنہ صوبائی حکومت کی ترجیحات میں تو یہ معاملہ سرے سے شامل ہی نہیں ہے ۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر اب بھی پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے لیے صوبے اور ملک کو درپیش چیلنجز کا ادراک نہیں کرتیں تو کسی سیاسی مصلحت سے ہٹ کر سخت ترین ریاستی فیصلے کیے جائیں ۔
