کیپیٹل سٹی پولیس پشاور نے مبینہ طور پر جعلی صحافتی شناختی کارڈز کے ذریعے پولیس اہلکاروں پر دباؤ ڈالنے اور انہیں بلیک میل کرنے والے افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام کی ہدایات پر حیات آباد پولیس نے خود کو کرائم رپورٹر ظاہر کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کرکے اس کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق گرفتار شخص مبینہ طور پر سی آئی ڈی نامی ایک غیرمعروف ادارے کا شناختی کارڈ استعمال کرکے مختلف تھانوں میں اپنا اثرورسوخ ظاہر کرتا اور پولیس اہلکاروں کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ حیات آباد پولیس نے کارروائی کے دوران مذکورہ شخص کو گاڑی اور پستول سمیت حراست میں لے کر تفتیش کی تو اس کے صحافتی شناختی کارڈ کی اصلیت مشکوک پائی گئی۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گرفتار شخص کا تعلق ضلع اورکزئی اور حال پشاور تاج اباد سے ہے، تاہم وہ پشاور میں خود کو کرائم رپورٹر اور صحافی ظاہر کررہا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ پشاور پریس کلب کا ممبر بھی نہیں تھا۔ پولیس نے مبینہ جعل سازی اور جعلی شناختی کارڈ کے استعمال کے الزامات کے تحت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 419، 468 اور 471 سمیت دفعہ 15-اے کے تحت مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق پشاور کے اہم تھانوں کے بعض ایس ایچ اوز کی جانب سے بھی شکایات موصول ہورہی تھیں کہ کچھ افراد خود کو بیورو چیف یا کرائم رپورٹر ظاہر کرکے پولیس افسران کے خلاف مختلف سوشل میڈیا گروپس میں خبریں شائع کرواتے ہیں۔ تاہم جب ان افراد کے شناختی کارڈز، رابطہ نمبرز اور متعلقہ اداروں کی تفصیلات کی تصدیق کی جاتی ہے تو مبینہ طور پر ان کے اداروں کی مستند شناخت سامنے نہیں آتی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ حکام نے کیپیٹل سٹی پولیس پشاور کے اہلکاروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ مشکوک صحافتی شناخت رکھنے والے افراد کے کارڈز اور متعلقہ اداروں کی تصدیق کی جائے اور جعل سازی، دھمکی یا بلیک میلنگ کے شواہد ملنے پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں بھی اس نوعیت کے مبینہ جعلی صحافتی شناختی کارڈز کے خلاف کارروائیاں ہوچکی ہیں، جبکہ پشاور میں مزید مشتبہ افراد کی جانچ پڑتال کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ پولیس ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بعض نام نہاد رپورٹرز کے جرائم پیشہ عناصر کو مبینہ طور پر سہولت فراہم کرنے کے پہلو کا جائزہ لیا جاسکتا ہے. پولیس ذرائع کے مطابق پشاور پریس کلب کے رجسٹرڈ ممبران اور حقیقی صحافیوں کا احترام کیا جاتا ہے، تاہم صحافت کی آڑ میں مبینہ بلیک میلنگ یا جعلی شناخت استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔