Wisal M Khan 23 Oct 2026

خیبرپختونخواراؤنداپ

وصال محمدخان

وزیراعظم،فیلڈمارشل اوروفاقی وزراکادورۂ پشاور،اپیکس کمیٹی کااجلاس،160ارب کاپیکیج

خیبرپختونخوامیں ایمرجنسی اورگورنرراج کے نفاذکو دوہفتے گزرچکے ہیں۔نئی حکومت کیلئے دوہفتے کاوقت کوئی معنی نہیں رکھتامگر گورنر راج محدود مدت یعنی صرف دوماہ کیلئے ہوتاہے اسے ہردوماہ بعد پارلیمنٹ کی منظوری درکارہوگی تبھی یہ 180دن یاچھ ماہ تک قائم رہ سکتا ہے۔ بعض حلقے موجودہ حکومتی سیٹ اپ کے آئندہ انتخابات تک چلنے کا دعویٰ کر رہے ہیں اگروفاق پرکوئی مؤثرسیاسی یاعدالتی دباؤنہ آیا،گورنر کی سربرا ہی میں گیارہ رکنی مشاورتی کونسل کی کارکردگی تسلی بخش رہی اورحالات موافق رہے توعین ممکن ہے کچھ ردوبدل کیساتھ یہ حکومت آئندہ انتخابا ت تک قائم رہے۔خیبرپختونخوامیں ایمرجنسی اورگورنرراج کے بعدنئی حکومت نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور فوری اقدامات کے تحت 100اور180 روزہ ایکشن پلان کامسودہ تیارکیا ہے جس میں 27محکموں کے تحت37اضلاع کیلئے206 اقدامات تجویزکئے گئے ہیں دستاویزمیں عوامی اعتمادکی بحالی،بہترطرزحکمرانی اورسماجی ومعاشی ترقی کوبنیادی ترجیحات قراردیاگیاہے جبکہ ضم اضلاع پرخصوصی توجہ دینے کی تجویزبھی شامل ہے۔پشاور،نوشہرہ اوردیگراضلاع میں ناجائزتجاوزات کے خلاف آپریشنزبھی زور وشور سے جاری ہیں۔بعض حلقوں نے حکومت کی توجہ تجازات کی بجائے امن وامان اوردیگرمعاملات کی جانب دلائی مگرحکومت کسی کو خاطرمیں لائے بغیرٹی ایم ایزاور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے تجاوزات کیخلاف بلاتفریق آپریشن جاری رکھی ہوئی ہے۔ ایمرجنسی والے بارہ اضلاع کی حالت میں بھی تا حال کوئی جوہری تبدیلی رونمانہیں ہوئی گزشتہ ہفتے ایک واقعے میں ڈی ایس پی سمیت چارپولیس اہلکارجام شہادت نوش کرگئے اوراب بلوچستان طرزپربس سے اتارکراغواکرنے کامعاملہ بھی سامنے آیاہے۔مگروہاں دہشتگردوں کیخلاف ٹارگٹڈآپریشنزمیں تیزی لائی گئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف،فیلڈمارشل عاصم منیر،نائب وزیراعظم اسحا ق ڈاراوروفاقی وزرانے پشاورکادورہ کرکے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، دہشتگردی سے نمٹنے کے طریقوں پرغورکیاگیااوروزیراعظم کی جانب سے صوبے کیلئے 160ارب روپے پیکیج کا اعلان کیاگیا۔ گورنرفیصل کریم کنڈی سیاسی قیادت کواعتمادمیں لینے کے حوالے سے بھی سرگرم ہیں۔اسی سلسلے میں انہوں نے ولی باغ چارسدہ جاکراے این پی کے صدرایمل ولی خان سے ملاقات کی۔ایمل ولی خان ایمرجنسی اورگورنرراج کی مخالفت میں پیش پیش ہیں وہ اس اقدام کوآئین کے مطابق مگرغیرجمہوری قراردے رہے ہیں۔گورنرسے ملاقات میں بھی انہوں نے یہی مؤقف اپناکرگورنرکوہرممکن تعاون کایقین دلایا۔ فیصل کریم کنڈی دیگرسیاسی راہنماؤں سے بھی مشاورتی ملاقاتوں کاسلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف اندرونی اختلافات اورانتشارکاشکار،سہیل آفریدی حکومت خاتمے کے ذمے دارقرار
گورنرراج سے متاثرہ حکمران جماعت شکست وریخت،انتشاراورشدیداندرونی اختلافات کاشکارنظرآرہی ہے۔چیئرمین گوہرخان جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ،علی امین گنڈاپور،مشال یوسفزئی، بیرسٹرسیف،شوکت یوسفزئی،شاہ فرمان اوراسدقیصرسمیت دیگرقائدین بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں۔پارلیمانی پارٹی کے نام پرصوبائی اسمبلی ارکان کاایک اجلاس منعقدہواہے جس میں وفاق سے مذاکرات اور اسمبلی کی بحالی کے طریقوں پرغورہوا۔اجلاس میں شریک ارکان کی تعدادسلمان اکرم راجہ نے آشکاراکرکے 68بتائی انہوں نے سوشل میڈیاپوسٹ میں کہاکہ سازشی بیانئے پریقین نہ کیاجائے،وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اورسنپولیوں کوشکست ہوگی،پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پرغیرجمہوری فیصلہ سازوں نے حملہ کیاہے،شنیدہے کہ 68ارکان کاایک گروپ عمران خان اورسیاسی کمیٹی کی اجازت کے بغیرنئے صوبائی صدراوروزیراعلیٰ کے امیدوارکااعلان کرنیوالا ہے،مبینہ طورپراسی گروپ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اورانکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر،ایمرجنسی اورگورنرراج کی راہ ہموارکی۔جس پارلیمانی گروپ کاآن لائن اجلاس منعقدہواہے مبینہ طورپراس گروپ کی سربرا ہی علی امین گنڈاپورکررہے ہیں اوراس نے علی امین کوہی وزیراعلیٰ کامیدوارنامزدکرنے کافیصلہ کیاہے۔اجلاس میں اکثریتی ارکان کی رائے تھی کہ وفاق کیساتھ مذاکرات میں ارکان اسمبلی کی نمائندگی ہونی چاہئے۔ سلمان اکرم راجہ نے ٹویٹ کرکے 68 ارکان کوتنبیہ کی ہے کہ سہیل آفریدی ہی وزیراعلیٰ اورعلی اصغرصوبائی صدرہیں کچھ اسی قسم کابیان بیرسٹر گوہرکی جانب سے بھی دیاگیاہے یعنی پارٹی کے چیئرمین اورجنرل سیکرٹری دونوں سہیل آفریدی کووزیراعلیٰ تسلیم کرتے ہیں جبکہ پارٹی کے کوراورسیاسی کمیٹی کے اجلاسوں میں سہیل آفریدی کوکڑی تنقیدکانشانہ بنایاگیالانگ مارچ کی ناکامی،کوئی پلان نہ دینے اورحکومت کے خاتمے کی تمامترذمہ داری سہیل آفریدی پرڈال دی گئی۔ حکومت کے خاتمے پرپی ٹی آئی کئی گروپوں میں بٹ چکی ہے۔ایک گروپ بیرسٹرسیف کودوبارہ فعال کرنے کاخواہاں ہے سینیٹرمشال یوسفزئی نے کہاہے کہ مذاکرات اوربانی سے ملاقا توں کا معاملہ بیرسٹرسیف کے سپردکیاجائے۔انہوں نے بھی سہیل آفریدی کوگورنرراج کا ذمہ دارٹھہرایااورلانگ مارچ کیلئے 85 کروڑ روپے چندے کی رقم کامعاملہ بھی اٹھایا۔مشال یوسفزئی کوبھی متنازعہ بیانات جاری کرنے پر نوٹس جاری کیاگیاہے مگر مشال سے ملتے جلتے خیالات کااظہارارکان اسمبلی اورسیاسی کمیٹی نے بھی کیاہے۔سلمان اکرم راجہ اور بیرسٹرگوہر نے 68ارکان کو خلاف ورزی کامرتکب قراردیاہے جبکہ اس خیال پر سب متفق ہیں کہ گورنر راج کی ذمہ داری سہیل آفریدی پرعائدہوتی ہے بفرض محال اگر اسمبلی بحال بھی ہوجاتی ہے توسہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ رہنے کاامکان خاصاکم ہے۔گورنرراج نے اگرایک جانب پی ٹی آئی کی مقبولیت کا بھانڈا پھوڑدیاہے تودوسری جانب پارٹی اراکین اور عہدیداربھی دست وگریباں نظرآرہے ہیں۔ان حالات میں اسمبلی اور حکومت بحالی کے امکانات معدوم ہوجاتے ہیں۔پی ٹی آئی سیاسی دباؤڈالنے سے تقریباًقاصرہوچکی ہے،قیادت مذاکرات سے نتائج حاصل کرنیکی اہلیت سے عاری ہے۔ بس عدالت سے موہوم سی امیدباقی ہے۔

پشاورہائیکورٹ۔ایمرجنسی اورگورنرراج کے خلاف درخواستوں پر10نومبرتک جواب طلب
غیرفعال وزیراعلیٰ،سپیکر،صوبائی صدر اوردیگرقائدین کی حراست پر3نومبرکوجواب طلب
پشاورہائیکورٹ میں ایمرجنسی اور گورنرراج کے خلاف دائردرخواستوں پرایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوااوراٹارنی جنرل کونوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 10نومبرتک ملتوی کر دی گئی۔رٹ پیٹیشنزکے مطابق ایمرجنسی صوبائی اسمبلی کی منظوری کے بغیرنافذہوئی،،صدرمملکت کے پاس اس اقدام کیلئے کوئی ٹھوس شواہدموجودنہیں،صوبے میں آرٹیکل 245کے تحت فوج طلب کی گئی ہے جبکہ فوج سول اتھارٹی کی مددکیلئے صوبائی حکومت طلب کرتی ہے۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پراعتراض اٹھایا۔ جسٹس اعجازانور اور جسٹس فہیم ولی پرمشتمل بنچ نے اٹارنی جنرل اورایڈوکیٹ جنرل کونوٹس جاری کرتے ہوئے 14دن کے اندرجواب جمع کروانے کاحکم دیااور سماعت 10نومبرتک ملتوی کردی۔جسٹس سیدارشدعلی اورجسٹس فرح جمشیدپرمشتمل ہائیکورٹ کے دورکنی بنچ نے غیرفعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی،سپیکربابرسلیم سواتی،جنیداکبر،خالدخورشیداورارکان اسمبلی کی مبینہ حراست اور بازیابی سے متعلق درخواست پربھی تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے آئی جی پولیس،سی سی پی اوپشاور،چیف سیکرٹری اورسیکرٹری محکمہ داخلہ سے 3نومبرتک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔