کمشنر ہزارہ ڈویژن شاہ رخ علی کی زیرِ صدارت فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی ہزارہ ڈویژن کی کارکردگی کا جائزہ اجلاس جمعرات کے روز ان کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل)، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ سیفٹی اینڈ حلال فوڈ اتھارٹی اور ایبٹ آباد، مانسہرہ اور ہریپور کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر نے فوڈ سیفٹی اتھارٹی کی کارکردگی، جاری اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی۔کمشنر ہزارہ نے اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ، غیر معیاری خوراک اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آٹا ملوں، دودھ، گوشت، ہوٹلوں اور دیگر غذائی مراکز کی باقاعدہ جانچ پڑتال یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع کی حدود میں دودھ اور دیگر اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کی روک تھام کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر مؤثر نگرانی کی جائے، جبکہ تمام ڈپٹی کمشنرز مذبحہ خانوں کا خود دورہ کرکے رپورٹ کمشنر آفس کو ارسال کریں۔ ہوٹلوں اور دکانوں کے مستند لائسنس، ملازمین کی طبی جانچ اور خوراک کے معیار پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے ماڈل ریڑھیوں کے منصوبے کو مؤثر بنانے اور حطار صنعتی علاقے میں خوردنی اشیاء کی خصوصی نگرانی کی ہدایت بھی کی۔شاہ رخ علی نے کہا کہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے ملاوٹ اور جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے فوڈ سیفٹی اتھارٹی ہزارہ ڈویژن کی عوامی مفاد میں جاری سرگرمیوں کو ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کے ذریعے اجاگر کرنے اور ادارے کو درپیش مسائل کے حل کے لیے کمشنر آفس کو باضابطہ آگاہ کرنے کی ہدایت بھی کی۔
سلمیٰ علی نے نیشنل ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ایک گولڈ، دو سلور میڈلز جیت لیے
خیبر پختونخوا کی بہادر اور باصلاحیت خاتون کھلاڑی سلمیٰ علی نے کراچی کے این ای ڈی یونیورسٹی اتھلیٹکس ٹریک اور پی این ایس کارساز میں منعقدہ لوک سہائتا 54ویں نیشنل ایتھلیٹکس چیمپئن شپ 2026 میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک گولڈ اور دو سلور میڈلز اپنے نام کر لیے ہیں۔ سلمیٰ علی اپنی تعلیمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ کھیلوں کی دنیا میں بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی نمائندگی کر رہی ہیں اور اس وقت یونیورسٹی سنٹرل آف پنجاب سے سپورٹس سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے قومی سطح کے اس بڑے مقابلے میں ایک گولڈ میڈل اور دو سلور میڈلز جیت کر نہ صرف اپنے تعلیمی ادارے اور خیبرپختونخوا بلکہ پورے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ کھیلوں کے حلقوں کا کہنا ہے کہ سلمیٰ آفریدی جیسی باصلاحیت خواتین کھلاڑی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی ، صوبائی محکمہ کھیل خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل اور دیگر اداروں کے حکام کو چاہیے کہ وہ اس ہونہار کھلاڑی کی مکمل سرپرستی کریں اور انہیں مزید آگے بڑھنے کے لیے بہترین سہولیات فراہم کریں تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان اور صوبے کا پرچم بلند کر سکیں۔

