Foreigners in Takhtbhai Mardan 3

چھ ممالک کے سیاحوں کا تخت بھائی کے تاریخی آثار کا دورہ

مردان — امریکہ، برطانیہ، جاپان، تھائی لینڈ، پولینڈ اور ہالینڈ کے سیاحوں کے وفد نے تخت بھائی میں واقع یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا دورہ کیا۔ سیاحوں نے قدیم گندھارا تہذیب کی بدھ مت باقیات میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق غیر ملکی سیاحوں کے ایسے دورے خیبر پختونخوا کے تاریخی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

Maulana Tayyab Qureshi met with Young Parliament members

ریاست کے خلاف مسلح سرگرمیاں اور دہشت گردی حرام ہیں، مولانا طیب قریشی

مشیر اوقاف، مذہبی و اقلیتی امور اور زکوٰۃ و عشر مولانا طیب قریشی نے کہا ہے کہ ریاست کے خلاف مسلح سرگرمیاں اور دہشت گردی حرام ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان سمیت تمام سیکیورٹی و سول اداروں کی حمایت کرتے ہیں۔

ینگ لیڈر پارلیمنٹ کے وفد سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ وفد میں سینئر نائب صدر سمیع اللہ، جنرل سیکرٹری آصف خان، ہاشم خلیل اور عامر سہیل سمیت دیگر اراکین شامل تھے۔

مولانا طیب قریشی نے بتایا کہ مدارس کے طلبہ کی تعلیمی و پیشہ ورانہ صلاحیتیں بڑھانے کے لیے لیپ ٹاپ اسکیم اور ڈیجیٹل اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی کردار سازی اور قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ میں ینگ لیڈر پارلیمنٹ کے کردار کو سراہا اور ایسے فورمز میں مدارس کے طلبہ کی شرکت یقینی بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پیغامِ امن کمیٹی، پیغامِ پاکستان کا قومی بیانیہ جامعات اور کالجوں تک پہنچائے گی۔ ان سرگرمیوں میں علمائے کرام، نوجوانوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو شریک کیا جائے گا۔

مشیر اوقاف نے جبری مذہبی تبدیلی کی مخالفت کرتے ہوئے ملکی ترقی میں اقلیتی برادریوں کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے خواتین کی تعلیم، مذہبی رواداری اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ پر بھی زور دیا۔

Peshawar Sheikh Muhammadi School

پشاور میں گرلز پرائمری سکول 14 ماہ سے بند، طالبات کھلے میدان میں پڑھنے پر مجبور

پشاور — نواحی گاؤں شیخ محمدی کے محلہ حاجی خیل میں گرلز پرائمری سکول نمبر ایک کی عمارت گزشتہ 14 ماہ سے بند ہے۔ اہلِ علاقہ کے مطابق عمارت کے نیچے تہہ خانہ دریافت ہونے اور دیواروں میں دراڑیں پڑنے سے اس کی حفاظت کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ عمارت کی بندش کے بعد طالبات کو کرائے کے گھروں میں منتقل کیا گیا، تاہم سرد موسم میں بھی بچیاں کھلے میدان میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

اہلِ علاقہ نے شکایت کی کہ 14 ماہ گزرنے کے باوجود سکول کی بحالی یا نئی عمارت کی تعمیر کے لیے مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے مسئلے کا نوٹس لینے اور نئی عمارت کی تعمیر کے احکامات جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔