آرمی چیف کے خلاف مہم

آرمی چیف نے گزشتہ دنوں مختلف جامعات کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ‘‘فسادیوں کوسختی سے کچل دینگے، فتنہ الخوارج دین سے خارج افرادہیں یہ اللہ اوررسولؐ سے جنگ کررہے ہیں اوران سے قرآنی احکامات کے مطابق نمٹا جائیگا۔ پاک فوج روزانہ کی بنیاد پر فتنہ الخوارج سے لڑرہی ہے، قوم اپنی بہادرا فواج کیساتھ کھڑی ہے۔ اسلام نے خواتین کو جو حقوق دئے ہیں وہ دوسرے کسی مذہب نے نہیں دئے۔’’ آرمی چیف کے نوجوانوں سے خطاب کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے بجاطور پر سراہا ہے جس کی وجہ یہی ہے کہ اس خطاب میں اعتراض والی کوئی بات موجود نہیں بلکہ اس میں ان شرپسندوں کیلئے واضح پیغام ہے جنہیں فتنہ الخوارج کہاجاتاہے اور جو پاکستان کے معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز پر بزدلانہ حملوں میں ملوث ہیں اور آگ وخون کا بازار گرم رکھنا ان کا مشغلہ اور وزگار ہے۔

اگر کوئی پاکستانی آرمی چیف فتنہ الخوارج کوسخت پیغام نہیں دینگے تو کس کو دینگے؟ یہ وہ فتنہ ہے جس نے ایک لاکھ کے لگ بھگ پاکستانی شہری اور سیکیورٹی فورسز اہلکاروں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے، ان کا نظریہ خون و خابہ ہے اور بندوق کے زور پر اپنے مذموم ایجنڈے کا نفاذ ہے۔ پاک فوج ان کے مکروہ عزائم کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ خطاب فتنہ الخوارج کیلئے واضح پیغام ہے کہ جب تک اس فتنے کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، پاک فوج ان کے خلاف لڑرہی ہے اور لڑتی رہے گی۔ پیغام میں چونکہ اعتراض والی کوئی بات نہیں اسلئے ہر مکتبہء فکر نے اسے سراہا مگر ایک سیاسی گروہ یا ٹولہ ایسا ہے جسے نہ ہی آرمی چیف کی دہشت گردوں کو تنبیہ اور للکار اچھی لگتی ہے، نہ ہی ملکی معاشی ترقی ایک آنکھ بھاتی ہے اور نہ ہی آرمی چیف کا کوئی بیرونی دورہ اچھا لگتا ہے بلکہ پاکستان کے حوالے سے کوئی بھی مثبت خبر ان کے سینوں پر مونگ دلنے کیلئے کافی ہے۔

آرمی چیف کے خطاب پر اس سیاسی گروہ یا عرف عام میں انتشاری ٹولے کا ردعمل معقول ہے اور نہ ہی دورۂ برطانیہ پر اس کی جانب سے کئے گئے نام نہاد احتجاج کا کوئی جواز ہے۔ بدقسمتی سے پی ٹی آئی پاکستان کی سیاسی جماعت ہے، اس لحاظ سے اسے اپنی سیاست پاکستان کے اندر کرنا چاہئے جو وہ غلط سلط طریقوں سے کر بھی رہی ہے۔ مگر بیرون ملک احتجاج، خصوصاً آرمی چیف کے دورۂ برطانیہ کے دوران جو احتجاج کیا گیا یہ شرمناک ہے۔ ملک کا کوئی بھی اعلیٰ عہدیدار بیرون ملک پاکستان کا سفیر ہوتا ہے، اسی طرح بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ملک کے سفیر ہوتے ہیں مگر پی ٹی آئی چونکہ نہ سفارتکاری سے واقف ہے اور نہ ہی اسے سفیر کی اہمیت کا کوئی اندازہ ہے، اسلئے آرمی چیف کے دورۂ برطانیہ کے موقع پر لندن میں احتجاج کا اعلان کیا گیا۔

مقام شکر ہے کہ برطانیہ میں مقیم ڈیڑھ ملین پاکستانیوں نے یہ نامعقول احتجاج مسترد کیا۔ پی ٹی آئی کے چند رہنماؤں، خصوصی طور پر پاکستان کے بھگوڑے اور مفرور شہزاد اکبر نے ایڑھی چوٹی کا زور لگایا کہ برطانیہ میں آرمی چیف کے خلاف کوئی بڑا مظاہرہ ہو جو پاکستان کیلئے خفت اور ندامت کا باعث بنے مگر برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں نے اس بلاجواز احتجاج پر کان نہیں دھرے جس کے نتیجے میں بمشکل پچاس ساٹھ افراد اس نام نہاد احتجاج میں شریک ہوسکے۔

اسی طرح عمران خان، ان کی بہن علیمہ خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی اکثر و بیشتر آرمی چیف پر نت نئے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔ کبھی عمران خان کو زہر دینے اور انہیں قتل کرنے کے بے ہودہ الزامات لگائے جاتے ہیں تو کبھی بشریٰ بی بی کو اپنے شوہر نامدار سے توڑنے کا غیر معقول بیان سامنے آتا ہے۔ سوشل میڈیا پر پاک فوج اور آرمی چیف کے خلاف بیہودہ مہم چلائی جاتی ہیں، فوج اور اس کے سربراہ کو سیاسی بیان بازی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، الٹے سیدھے اور بے بنیاد الزامات لگائے جاتے ہیں، آرمی چیف کو خطوط لکھے جاتے ہیں جن میں ترلے منتیں کی جاتی ہیں کہ فیض حمید کی طرح سہولت کاری کر کے ججوں کو دباؤ میں لایا جائے، الیکشن کمیشن کو مینیج کیا جائے اور حکومت کو رخصت کر کے پی ٹی آئی کو برسر اقتدار لایا جائے۔

جب یہ بچگانہ، غیر جمہوری اور نامعقول مطالبات پورے نہیں کئے جاتے، سیاسی شعبدہ بازیوں کیلئے لکھے گئے خطوط کا جواب نہیں دیا جاتا تو آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائی جاتی ہیں، ان کی تضحیک کی جاتی ہے، انہیں سیاست میں ملوث کرنے اور امریکہ سمیت یورپی ممالک میں بدنام کرنے کی مذموم کوششیں کی جاتی ہیں۔ سیاست کے نام پر پاک فوج کا مورال گرانے کی کوششیں کی جاتی ہیں جو قابل مذمت ہیں۔ پی ٹی آئی کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ پاک فوج ایک منظم اور مضبوط ادارہ ہے۔ اسے ان اوچھی حرکتوں سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی امیج پر کوئی برا اثر پڑ سکتا ہے۔

پی ٹی آئی سے قبل دیگر سیاسی رہنماؤں اور جماعتوں پر بھی برا وقت آچکا ہے، دیگر قائدین بھی پابند سلاسل رہے ہیں مگر کسی نے فوج کی امیج پر اس طرح ضرب لگانے کی کوشش نہیں کی۔ اسلئے کہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ فوج ملکی سلامتی کی ضامن ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو بھی یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان حرکات سے پی ٹی آئی کو پہلے کوئی فیض حاصل ہوسکا ہے اور نہ ہی آئندہ اس کا کوئی امکان ہے۔ اسلئے ان مذموم حرکات سے باز آ جانا چاہئے۔

کسی سیاسی جماعت نے سیاست کرنی ہے تو ملک میں ایشوز کی کمی نہیں۔ آرمی چیف کے نام کو سیاست کیلئے استعمال کرنا قابل مذمت فعل ہے۔ اس قسم کی اوچھی حرکتوں سے اجتناب برتنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو بھی آرمی چیف کے خلاف سوشل میڈیا مہم اور سیاسی بیان بازیوں کا نوٹس لے کر ان مذموم حرکات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانا چاہئے۔ قوم اپنی بہادر افواج سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور آرمی چیف کے خلاف مہم چلانے والوں کا محاسبہ چاہتی ہے۔ امید ہے حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر توجہ دے گی اور ملک دشمن عناصر کی سرکوبی کیلئے اپنا بہترین کردار ادا کرے گی۔

وصال محمد خان

About the author

Leave a Comment

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Shopping Basket