Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Wednesday, January 7, 2026

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان

گزشتہ برس کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا

گزشتہ سال یعنی2025ء پورے ملک کی طرح خیبرپختونخواکے حوالے سے بھی تلخ وشیریں یادوں کیساتھ رخصت ہوا۔سال کے آغاز سے تاحال صوبے کے جنوبی اورقبائلی اضلاع میں دہشتگردی کاسلسلہ دوام پذیرہے۔اس دوران صوبے میں دہشتگردی کے رونماہونیوالے 1588 واقعات میں 137پولیس اہلکاروافسران شہیدہوئے، 8خودکش حملے بھی ہوئے،320حملے کلی یاجزوی طورپر ناکام بنائے گئے۔ پولیس،سی ٹی ڈی اورسیکیورٹی فورسزنے1244دہشتگردگرفتارکئے۔اکوڑہ خٹک نوشہرہ کے مشہورزمانہ مدرسہ حقانیہ کے مہتمم،سابق رکن قومی اسمبلی مولاناحامدالحق خودکش حملے میں شہیدہوئے انکے والدمولاناسمیع الحق بھی بحریہ ٹاؤن راولپنڈی میں قتل کئے گئے تھے۔صوبے میں ہونیوالے دہشتگردی کے واقعات گزشتہ برس کے مقابلے میں 50فیصدزائدرہے۔

سال کے آخری مہینے میں وانا کیڈٹ کالج پردہشتگردی کا خوفناک حملہ ہوا جو اگر سیکیورٹی فورسزکی مؤثرجوابی کارروائی سے ناکام نہ بنایاجاتاتوآرمی پبلک سکول جیساکوئی سانحہ رونماہوسکتاتھا۔

پاک افغان مذاکرات ناکام،سرحدات بند،تجارت معطل،افغان مہاجرین کی واپسی میں تیزی

افغانستان سے دراندازی کاسلسلہ جاری رہادوحہ اور استنبول میں ہونیوالے پاک افغان مذاکرات ناکامی سے دوچارہوئے جس سے صوبے کاامن منسلک سمجھاجارہاہے۔پاکستان کا افغانستان سے مطالبہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی روکی جائے اسی معاملے پرگزشتہ تین ماہ سے پاک افغان تمام سرحدات بندہیں اور تجارت بھی معطل ہوچکی ہے۔گزشتہ برس افغان مہاجرین کی واپسی میں تیزی لائی گئی۔خیبرپختونخوا حکومت بلاوجہ افغان مہاجرین واپسی کی مخالفت پرکمربستہ تھی گنڈاپوربھی اس سلسلے میں تعاون سے انکاری تھے جبکہ موجودہ حکومت نے بھی اسی قسم کے عزائم ظاہرکئے تھے مگراب اس نے افغان مہاجرین کی واپسی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پرتوجہ دی ہے۔

علی امین گنڈاپورکی رخصتی،سہیل آفریدی ضم قبائلی اضلاع سے پہلے وزیراعلیٰ منتخب

خیبر پختونخوا میں 2025ء ایک بارپھر وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کاسال رہا۔ علی امین گنڈاپوربانی پی ٹی آئی کے حکم پرمستعفی ہوئے جس کے بعدپہلی بارکسی قبائلی ضلع سے سہیل آفریدی کووزیر اعلیٰ نامزداورمنتخب کروالیا گیا۔سہیل آفریدی بانی کی مشاورت کے بغیرکابینہ تشکیل دینے پرتیارنہیں تھے۔اس طرح صوبہ تقریباًتین ہفتے تک کابینہ کے بغیرچلتا رہا جس پر کڑی تنقید کی گئی۔سہیل آفریدی کے حلف کامعاملہ بھی تعطل کاشکاررہاجس پروزیراعلیٰ سے حلف کیلئے ہائیکور ٹ کوحکم جاری کرناپڑا۔ تب کہیں جاکرگورنرفیصل کریم کنڈی نے سہیل آفریدی سے حلف لیا۔سہیل آفریدی سے قبل علی امین گنڈاپوربانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے تحریک چلاتے رہے انہوں نے اسلام آباد اورپنجاب میں کئی بارپاورشوزکرنیکی کوشش کی جوناکام ثابت ہوئی۔ حکمران جماعت کے اندرونی اختلافات کے باعث علی امین گنڈاپور کو رخصت ہوناپڑا۔ رخصتی سے چندروزقبل انہوں نے شہرام ترکئی اوراسد قیصر کے بھائیوں کوناقص کارکردگی کابہانہ بناکرکابینہ سے فارغ کیاتھاجس سے یہ تاثرابھراکہ علی امین گنڈاپورخاصے مضبوط ہیں مگریہ مضبوط پیڑ ذراسی تیزہوا چلنے پرجڑوں سے اکھڑگیا۔سہیل آفریدی 2013ء سے تا حال حکمران جماعت کے چوتھے وزیراعلیٰ ہیں ان سے قبل پرویز خٹک اورمحمودخان پارٹی چھوڑچکے ہیں۔علی امین گنڈاپور کے حوالے سے بھی کچھ اسی قسم کی خبریں سامنے آئیں وہ اگر چہ سیاسی منظرنامے سے غائب ہیں مگرتاحال اپنی پارٹی کیساتھ وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔صوبے کے ممتازقانون دان قاضی انورایڈوکیٹ گڈگورننس کمیٹی سمیت پی ٹی آئی کے دیگرعہدوں سے بھی مستعفی ہوگئے ہیں۔

گزشتہ برس صوبے میں تحریک انصاف کی مقبولیت روبہ زوال رہی ہری پور میں عمرایوب کی نااہلی سے خالی ہونیوالی قومی اسمبلی نشست پر ضمنی الیکشن میں مسلم ن کے بابرنوازخان نے واضح برتری کیساتھ کامیابی حاصل کی۔دیگرسیاسی جماعتوں میں اے این پی کی مقبولیت بڑھنے کے دعوے سامنے آرہے ہیں شمالی اضلاع میں کئی بڑی شمولیتی تقریبات منعقد کی گئیں جبکہ پشاورمیں بشیربلور شہادت کی مناسبت سے ہونیوالاجلسہ شرکاکے لحاظ سے متاثرکن تھا جس سے مخالفین کے کان کھڑے ہوچکے ہیں۔جے یوآئی کے مولانافضل الرحمان نیم دروں نیم بروں والی کیفیت سے دوچاررہے وہ ایکدن پی ٹی آئی کے قریب جاتے ہوئے نظر آئے تواگلے دن حکومت کے حامی بنے۔ جماعت اسلامی کادامن گزشتہ برس بھی کسی بڑی کامیابی سے خالی رہا۔صوبے میں پوراسال گورنر راج اور گورنرکی تبدیلی کی خبریں گرم رہیں۔نئے گورنرکیلئے سابق وزرائے اعلیٰ آفتاب شیرپاؤ،امیرحیدرہوتی اورپرویزخٹک سمیت کئی سابقہ فوجی افسران کے نام سامنے آئے مگرفیصل کریم کنڈی تاحال عہدے پربراجمان ہیں۔فیصل کنڈی کی علی امین گنڈاپورکیساتھ محاذ آرائی جاری رہی۔نئے وزیراعلیٰ نے عہدہ سنبھالتے ہی امن جرگہ منعقدکیاجس کے حوالے سے ان کادعویٰ تھاکہ اس سے صوبے میں امن قائم ہوجائیگامگرتاحال اس جرگے کاکوئی خاطرخواہ نتیجہ سامنے نہ آسکا۔

صوبے اوروفاق کے درمیان جاری محاذآرائی میں نئے سال کے دوران اضافہ متوقع

2025ء میں صوبائی حکمران جماعت نے وفاق کیساتھ محازآرائی اوراحتجاج کی کئی کوششیں کیں جو ناکامی سے دوچارہوئیں۔مجموعی طورپر2025ء کے دوران وفاق اورصوبے کے درمیان محاذ آرائی کی کیفیت رہی جو2026ء میں بھی بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے۔حکمران جماعت اب سٹریٹ موومنٹ چلانے کاعزم ظاہرکررہی ہے۔ جس سے وفاق اورصوبے کے درمیان مخاصمت میں اضافہ متوقع ہے۔ صوبے کے بلدیاتی نمائندے گزشتہ برس بھی فنڈزاور اختیارا ت کی حصول کے لئے سرگرداں رہے۔ نئے سال میں انکی چارسالہ مدت بھی ختم ہورہی ہے۔پوراسال پی ٹی آئی پنجاب کے سرگرم راہنما پشاورہائیکورٹ سے ضمانتیں لیتے رہے ان میں وہ راہنما بھی شامل ہیں جنہیں پنجاب میں سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔سال کے آخرمیں چیف کمشنر اسلاام آبادکی درخواست پرفیصلہ کیاگیاکہ اس قسم کے مقدمات کیلئے ہائیکورٹ کالارجربنچ تشکیل دیاجائے۔عمرایوب سزاپانے کے باوجودروپوش ہیں۔ مرادسعیدبھی اس پورے سال کے دوران منظرعام پرنہیں آئے۔

ریڈیوپشاورحملے کی تحقیقات کیلئے ارکان اسمبلی پرمشتمل کمیٹی قائم

9اور10مئی 2023ء کوریڈیوپاکستان پشاورکی عمارت پرپی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے کئے گئے حملے، توڑپھوڑ اورجلاؤ گھیراؤمیں ریڈیوپاکستان پشاورکی عمارت کوآگ لگائی گئی اوراسے شدیدنقصان پہنچایاگیا۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حلف اٹھانے کے بعد واقعے کی تحقیقات کااعلان کیاتھامگرحکومت کے پاس تحقیقات کیلئے کوئی قابل عمل پلان موجودنہیں تھا۔اسلئے کابینہ کی منظوری کے بعد یہ معاملہ ایک بارپھراسمبلی میں پیش کیاگیااور تحقیقات کیلئے ارکان صوبائی اسمبلی پرمشتمل ایک کمیٹی عمل میں لائی گئی۔کمیٹی واقعے کی تحقیقات کر کے اسمبلی میں رپورٹ پیش کریگی۔کمیٹی کے سربراہ وزیرقانون آفتاب عالم ہونگے جبکہ اس میں اپوزیشن ارکان بھی شامل کئے گئے ہیں۔

صوبے کی فلورملزانڈسٹری بحران کاشکار،آٹے کی قیمتیں بلند،صوبے کے پاس27دن کاذخیرہ باقی

فلورملزایسوسی ایشن کے چئیرمین نعیم بٹ نے کہاہے کہ خیبرپختونخوامیں گندم نہ ملنے کے سبب 80فیصدفلورملزبندپڑی ہیں۔20کلوتھیلے کی قیمت 2700روپے سے بڑھ چکی ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی ترسیل پرپابندی عائد نہیں مگراسکے باوجودصوبے کوگندم کی ترسیل نہیں ہورہی۔صوبے میں آٹے کی سالانہ ضرورت 52لاکھ جبکہ اپنی پیداوار12لاکھ ٹن ہے۔نعیم بٹ کے مطابق صوبے کے پاس محض 27 دن کیلئے گندم کاذخیرہ باقی بچاہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

Shopping Basket