Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, January 13, 2026

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

وصال محمدخان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوعہدہ سنبھالے تین ماہ مکمل،حکومتی امورکی بجائے توجہ بیرون دوروں پر

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوعہدہ سنبھالے تین ماہ کاعرصہ ہوچکاہے۔انہوں نے 13اکتوبر2025کوعلی امین گنڈاپورکے مستعفی ہونے پر عہدہ سنبھالاتھا۔انکے پیشروکی طرح سہیل آفریدی سے بھی کسی اعلیٰ کارکردگی کی زیادہ توقع نہیں تھی اوروہ ان توقعات پرپورااترنے کی بھرپورکوششیں کررہے ہیں۔اس دوران کئی بارصوبے میں نئے گورنرکی تعیناتی اورگورنرراج کے نفاذکی افواہیں گردش کرتی رہیں۔ سہیل آفریدی کی خوش قسمتی کہ اپوزیشن جماعتیں خصوصاًاے این پی اورجے یوآئی گورنرراج کے حق میں نہیں ان پرانی اورروایتی جماعتوں کا خیال ہے کہ حکومت کی رخصتی سے یہ سیاسی شہیدبن سکتی ہے اورعوام میں حکومت کیخلاف بننے والی موومنٹم ٹوٹ سکتی ہے۔اس سے قبل یہ جماعتیں اسی قسم کی صورتحال کاسامناکرچکی ہیں جب عمران خان کی مقبولیت نچلی سطح پرگرگئی تھی اور2021ء کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدواروں نے بلے کی بجائے جگ،تھرماس،پنکھے اورکولرکے انتخابی نشانات پرمیدان میں اترنے کوترجیح دی۔عمران خان کی وزارت عظمیٰ میں وہ اتنے غیرمقبول ہوگئے تھے کہ انکے اپنے کارکن اورعہدیدارپارٹی نشان پرانتخابات میں اترنے سے کترارہے تھے۔مگر حکومت کی رخصتی پروہ دوبارہ مقبول ہوگئے اورانہوں نے سائفرسمیت کئی ایسے کارڈزکھیلے جس سے 2024ء کے انتخابات میں الگ الگ نشانات پردوتہائی سے زائداکثریت حاصل کی گئی۔صوبے کی روایتی سیاسی جماعتوں کویہی خدشہ ہے کہ گورنرراج یاکسی دوسرے طریقے سے حکومت کی رخصتی ان جماعتوں کیلئے فائدے کی بجائے نقصان کاباعث بن سکتی ہے۔محمودخان،علی امین گنڈاپوراورسہیل آفریدی کی ناقص کارکردگی پرمظلومیت غالب آسکتی ہے۔اسلئے کچھ حلقے شدیدخواہش کے باوجودگورنرراج سے کنی کترارہے ہیں اورصوبہ ایک ایسے اناڑی حکومت یاوزیراعلیٰ کے حوالے ہوچکاہے جواپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بجائے سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں۔

وزیراعلیٰ کی سٹریٹ موومنٹ میں مصروفیت سے حکومتی امورمتاثر،لاہورکے بعدسندھ کادورہ

گزشتہ ماہ وزیراعلیٰ نے لاہورکادورہ کیا۔اس دورے کی خوب تشہیرکی گئی اورایساماحول بنایاگیاجیساکہ لاہوراورپنجاب کے دیگرشہروں میں عوام کاٹھاٹیں مارتاسمندرسہیل آفریدی کااستقبال کرے گا یہ دورہ بظاہرتویہ بتانے کیلئے کیاگیاتھاکہ پنجاب میں تحریک انصاف کی مقبولیت ابھی تک برقرارہے اورپنجاب میں پارٹی قیادت جوکہ تھک ہارکرکونوں کھدروں میں دبکی ہوئی ہے اسے بھی باہرنکلنے اورپنجاب حکومت کوٹف ٹائم دینے کی شہہ ملے گی مگر’اے بساآرزوکہ خاک شد‘کے مصداق پنجاب کادورہ کسی بھی حوالے سے قابل ذکرنہیں رہا۔ پنجاب اسمبلی میں پیش آنیوالے واقعے پراگرچہ حکمران جماعت سیخ پانظرآتی رہی مگرغیرجانبدارحلقوں نے اس مؤقف کوپذیرائی نہیں بخشی۔ صوبے میں عوام،سیاسی کارکنوں،سیاسی قیادت اورسنجیدہ وفہمیدہ حلقوں نے وزیراعلیٰ کے دورۂ لاہورکواچھی نظرسے نہیں دیکھا۔کیونکہ اس دورے کامقصد حکومتی امور یاصوبائی مفادات نہیں بلکہ سیاسی پروموشن تھا۔وزیراعلیٰ عہدہ سنبھالنے کے بعدشائدپی ٹی آئی کی قیادت سنبھالنے کے خواہاں ہیں اسلئے آجکل وہ کراچی کے دورے پرہیں۔سیاسی مقاصدکی حصول کیلئے کئے گئے ان دوروں پرسرکاری خزانے سے رقوم خرچ ہورہی ہیں حالانکہ گزشتہ برس کے آواخرمیں پشاورہائیکورٹ صوبائی حکومت کواپنی سیاست کیلئے سرکاری وسائل کے خرچ سے منع کرچکی ہے۔پی ٹی آئی حکومتوں کی ناقص کارکردگی سے صوبے میں تحریک انصاف کی مقبولیت روبہ زوال ہے۔سٹریٹ موومنٹ کے تحت جوجلسے کئے گئے ان میں حاضرین کی تعدادخاصی کم رہی.

بلدیاتی اداروں کی مدت تکمیل کے قریب،نمائندے فنڈزسے محرومی پرنوحہ کناں

ہری پورضمنی الیکشن میں واضح شکست بھی اس بات کاعین ثبوت ہے کہ صوبے میں تحریک انصاف کی وہ مقبولیت نہیں رہی۔ اب دیگرجماعتیں عوام کی توجہ حاصل کررہی ہیں۔اے این پی نے گزشتہ برس کے آخرمیں کئی مقامات پربڑے جلسے منعقدکئے اورنامورشخصیات کوشامل کروانے میں کامیاب رہی۔جے یوآئی اورجماعت اسلامی سمیت دیگرجماعتیں بھی متوقع بلدیاتی انتخابات کے پیش نظرسرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔بلدیاتی اداروں کی مدت مارچ میں ختم ہورہی ہے۔گزشتہ ہفتے بھی بلدیاتی نمائندوں نے فندزنہ ملنے کیخلاف مظاہرہ کیا۔ ان کاکہناتھاکہ مدت ختم ہورہی ہے مگرفنڈزنہیں ملے۔

ڈی جی آئی ایس پی آرکی پریس کانفرنس میں خیبرپختونخواکے حوالے سے اعدادوشمار

ڈی جی آئی ایس پی آرنے گزشتہ ہفتے جوپریس کانفرنس کی اس میں بتایاگیاکہ پورے ملک میں ہونیوالے دہشتگردی واقعات میں سے 80 فیصد خیبرپختونخوامیں ہوئے ہیں۔یہاں دہشتگردوں کوسازگارسیاسی ماحول فراہم کیاجاتاہے۔گزشتہ برس ملک بھرمیں 27 خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں 16خیبر پختونخوا،10بلوچستان جبکہ ایک حملہ اسلام آبادکچہری میں ہوا۔انہوں نے بتایاکہ خیبرپختونخوا میں ٹیرر اینڈ کریمنل گٹھ جوڑموجود ہے۔ دہشتگردوں کی سیاسی سہولتکاری بھی ہورہی ہے۔ گزشتہ برس خیبرپختونخوامیں 3ہزار 811 دہشتگر دی کے واقعات پیش آئے،صوبے میں 14ہزار658انٹیلی جنس بیسڈآپریشن کئے گئے،کہاجاتاہے کہ افغان طالبان سے مذاکرات کئے جائیں مگرزمینی حقائق کونظراندازنہیں کیاجاسکتا۔دہشتگردوں نے خیبرپختونخوامیں مسجدوں تک کونہیں بخشا،آرمی چیف نے اسی مسجدکے ملبے پر کھڑے ہوکردہشتگردوں کوللکارا، گزشتہ برس دہشتگردی کے10بڑے واقعات میں سے آدھے خیبرپختونخوامیں پیش آئے جن میں بنوں کینٹ،پولیس ٹریننگ سینٹرڈی آئی خان،واناکیڈٹ کالج اورایف سی ہیڈکوارٹر پشاور کے حملے قابل ذکرہیں بیشترحملوں میں افغان شہری ملوث پائے گئے۔فوج صرف دہشتگرد و ں اورانکے سہولت کاروں کونشانہ بناتی ہے کواڈ کاپٹرزکااستعمال صرف غیرآبادعلاقوں میں یانگرانی کیلئے کیاجاتاہے جبکہ دہشتگر د مساجدمیں بیٹھ کرکواڈکاپٹرزا.ستعمال کرتے ہیں کولیٹرل ڈیمیج (شہری نقصان)کے پروپیگنڈے میں حقیقت نہیں۔اپنے ہی شہریوں کے نقصان میں فوج کاکیافائدہ ہوسکتاہے؟ پریس کانفرنس کے جواب میں مشیراطلاعات شفیع جان اور وزیر اعلیٰ نے سوشل میڈیااکاؤنٹس پرفوج کیخلاف بیانات جاری کئے۔

دہشتگردی کے 80فیصدواقعات خیبرپختونخوامیں ہورہے ہیں،دس میں سے5بڑے واقعات

وادی تیراہ میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کے پیش نظر نقل مکانی کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں یہ عمل10سے25جنوری تک جاری رہیگا۔علاقہ عمائدین کیساتھ کئے گئے معاہدے کے مطابق آپر یشن 5اپریل تک مکمل کیاجائیگااس دوران نقل مکانی کرنیوالے متاثرین کے ہرخاندان کواڑھائی لاکھ روپے ایڈوانس میں فراہم کئے جائینگے جبکہ اسکے بعد 50ہزارروپے ہرماہ فراہم کئے جائینگے۔آپریشن کے دوران مکمل تباہ ہونیوالے مکان کے مالک کو30لاکھ جبکہ جزوی نقصان والے مکان کو10لاکھ روپے نقدفراہم کئے جائینگے۔یادرہے وادی تیراہ کے علاقے میدان کی آبادی ایک لاکھ تیس ہزارنفوس پرمشتمل ہے۔20دسمبرکومیدان کے عمائدین پرمشتمل 24رکنی جرگہ اورحکومت کے درمیان31نکات پرمشتمل معاہدہ عمل میں آیاتھاجس کے تحت علاقے کے پانی اوربجلی کے مسائل بھی حل کئے جائینگے۔یادرہے وادی تیراہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاآبائی علاقہ ہے جہاں سے وہ عشروں پہلے پشاورمنتقل ہوچکے ہیں۔وادی تیراہ بھنگ کی کاشت اورچرس کی پیداوار کیلئے شہرت رکھتاہے۔

بعض سبزیوں کی قیمتوں میں واضح کمی،وجہ پاک افغان بارڈر کی بندش

پاک افغان بارڈرکی بندش سے صوبے میں سبزیوں کی قیمتیں خاصی حدتک کم ہوچکی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے پشاورمیں آلو اور گوبھی20 روپے کلو،پیازاورٹماٹر50روپے،اربی40روپے،بینگن اورمٹر60روپے جبکہ ٹینڈے30روپے کلومیں دستیاب تھے۔ سبزی کی گرتی ہوئی قیمتوں پرعوام میں اطمینان کی لہردوڑچکی ہے جبکہ آڑھتیوں نے مایوسی کااظہارکیاہے۔یادرہے پاک افغان بارڈر دونو ں ممالک کے درمیان کشیدگی کے سبب گزشتہ تین ماہ سے بندہے۔برآمدبندہونے سے بعض اشیائے خوردنی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔

خیبرپختونخواراؤنڈاَپ

Shopping Basket