وصال محمدخان
دنیاکے جن ممالک میں جمہوری نظام رائج ہے وہاں مفاہمت اور مخاصمت کے مسائل لازمی جنم لیتے ہیں۔جہاں اس نظام کوچلانے والے متعلقہ افرادوسیع القلبی کامظاہرہ کرتے ہیں اورایکدوسرے کوبرداشت کرنے کے روئیے اپناتے ہیں وہاں کے عوام جمہوریت کے ثمرات سے مستفیدہوتے ہیں مگر جہاں جمہوریت صرف اپنی حکومت کوسمجھاجاتاہے،دیگرتمام جماعتوں یاافرادکوقابل گردن زدنی قراردیاجاتاہے اورسیاسی اختلاف کو ذاتی عنادمیں تبدیل کیاجاتاہے وہاں لوگوں کاجمہوریت سے یقین اٹھ جاتاہے ہمارے ہاں بھی لولی لنگڑی جمہور یت موجودہے مگر اسے سب سے زیادہ نقصان سیاسی قوتوں نے ہی پہنچایاہے۔ وطن عزیزپاکستان میں ایک سیاسی جماعت ایسی بھی ہے جس نے تمام جمہوری تقاضوں کوپاؤں تلے روندنے کانارواوطیرہ اپنارکھاہے یہ جماعت خصوصاًاسکے بانی نہ ہی کسی سیاسی مخالف کواہمیت دینے پرتیارہیں اورنہ ہی اپنے سواکسی دوسرے کومحب وطن سمجھتے ہیں۔جس کالازمی نتیجہ یہی نکل رہاہے کہ یہاں سیاسی عدم استحکام ہے اورسیاسی عدم استحکام والے ممالک نہ ہی توترقی کرسکتے ہیں اورنہ ہی دنیامیں کوئی اونچامقام حاصل کرسکتے ہیں۔پی ٹی آئی نے گزشتہ عام انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیاایک صوبے میں دوتہائی سے زائداکثریت حاصل کی جبکہ مرکزاورملک کے سب سے بڑے صوبے میں دوسرے نمبر پررہی۔ دانش وتدبر،عقل وفہم کاتقاضاتھاکہ یہ جماعت تعمیری اپوزیشن کاکرداراداکرتی،ملکی مفادمیں حکومت وقت کے اقدا ما ت کاساتھ دیتی اورقومی مفادکیخلاف ہونیوالے فیصلوں پرتنقیدکرتی۔جس صوبے کی حکومت ملی ہے وہاں عوامی فلاح وبہبودکے کام کئے جاتے اوراسے ملک کے دیگرصوبوں میں بطورمثال پیش کیاجاتا۔اگر2018ء کے انتخابات”صاف وشفاف“تھے تو بہترطرزعمل سے 2028ء کے انتخابات میں اسی طرح طوفانی کامیابی حاصل کی جاسکتی تھی اور”فلاح وبہبود“کے جومنصوبے2023ء میں ادھورے رہ گئے تھے انہیں پایہء تکمیل تک پہنچایاجاتا۔ مگریہاں چونکہ شکست تسلیم کرنے کارواج ہی نہیں اسلئے دھاندلی کا واویلا مچامچاکر دو سال گزاردئے گئے اورظاہرکردہ عزائم کے مطابق یاتوخدانخواستہ یہاں عراق،لیبیااورشام کی طرح انقلاب برپا کیاجائیگا یاپھر خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ (پہلے علی امین گنڈاپوراوراب سہیل آفریدی)لاکھوں افرادکے ہمراہ سیڑھی لگاکراڈیالہ جیل سے بانی کی رہائی یقینی بنائیں گے۔ بہتر طرزعمل سے جمہوریت کی خدمت کرنیکی بجائے اسکی جڑیں کاٹنے کی منصوبہ بندیاں ہورہی ہیں مینڈ یٹ چوری کاایک ایسالغوبیانیہ ترتیب دیاگیاہے جسے اگر معیاربناکراس کی کسوٹی پر2018ء کے انتخابات پرکھے جائیں تویہ تیسری سزاکا مؤ جب بھی بن سکتے ہیں۔ شکسپئرکے قول پرعمل پیرا ہوکر جھوٹ اس کثرت سے بولاجاتاہے کہ یہ سچ لگے۔پی ٹی آئی کادعویٰ ہے کہ گزشتہ انتخابا ت میں اسے 180 نشستیں حاصل ہوئی ہیں مگرٹریبونلزمیں محض تیس نشستوں پراعتراضات دائر کئے گئے ہیں جواس دعوے کی تردید اورفارم 45و47کے غبارے سے ہوا نکا لنے کے مترادف ہے۔گزشتہ پونے دوبرسوں میں کئی مرتبہ مذاکرا ت کی کوشش ہوئی جوپی ٹی آئی کی جانب سے یکطرفہ طورپر ناکام بنادی گئی۔ حکومتی کمیٹی کے سامنے تحریری مطالبات پیش کر نیکی بجائے مذاکرات ختم کرنے کااعلان کردیاگیا۔ درحقیقت پی ٹی آئی نامی جماعت کو شدید قحط الرجال کابھی سامناہے کبھی ایک توکبھی دوسرے راہنماکو مذاکرا ت کارمقررکیاجاتاہے مگرمطلوبہ نتائج کے حصول سے پہلے ہی تیسرے فرد کونامزدکردیاجاتاہے جس کمیٹی کومذاکرات کیلئے نامزدکیاجاتاہے وہ شب وروزاڈیالہ میں ملاقات کیلئے بضدرہتی ہے اگر اس کمیٹی نے لمحہ بہ لمحہ جیل سے ہدایات ہی لینی ہیں تویہ مذاکرا ت براہِ راست قیدی سے ہی کیوں نہ کئے جائیں؟۔ایک راہنمامذاکرات کی دعوت دیتاہے تو دوسراتردیدکردیتاہے۔اس طرح گزشتہ دوبرسوں سے کبھی ہاں کبھی ناں والامعاملہ چل رہاہے۔حکومت کومذاکرات کی پیشکش کی جاتی ہے جسے قبول کرکے حکومت کمیٹی تشکیل دیتی ہے مگربہت جلدیہ پیشکش واپس لے لی جاتی ہے۔ملک میں ایک خودساختہ سیاسی بحران کاماحول بنا دیا گیاہے اورمصنوعی طورپریہ تاثرقائم کرنیکی کوشش ہورہی ہے کہ جیسے پورے ملک کامسئلہ نمبرون عمران خان کی رہائی ہے۔حالانکہ یہ حقائق کے برعکس ہے یہ تاثرمحض سوشل میڈیاپروپیگنڈے کی حدتک ہے اصل حقیقت کے مطابق عوام کی غالب اکثریت سمجھتی ہے کہ بانی اپنے مقدمات کاسامنامیرٹ پرکریں۔انکے وکلاہرمقدے میں کوئی صفائی دینے یابیگناہی ثابت کرنیکی بجائے ٹیکنیکل بنیادوں پرکیس کوغلط ثابت کرنیکی کوششوں میں غلطاں رہتے ہیں۔جوبھی عدالتی کار روائی باہرآئی ہے اس میں واضح دیکھا جاسکتاہے کہ وکلا ججز کے سوالات کے جوابات دینے کی بجائے یاتوبغلیں جھانکتے رہتے ہیں،التوامانگتے رہتے ہیں یاپھر ٹیکنیکل معاملات میں الجھے رہتے ہیں۔ انتخابات کے نتیجے میں اسمبلیاں وجودپاچکی ہیں وزیراعظم،وزرائے اعلیٰ اوروزرااپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہیں اورحکومتیں چل رہی ہیں اسکے باوجودسیاسی بحران اورسیاسی عدم استحکام کاراگ الاپاجارہاہے۔بحران کی گردان کرنیوالوں کاخیال ہے کہ وہ بحران بحران پکارتے رہیں گے توحکومت پردباؤہوگااوروہ نہ ہی کوئی ڈھنگ کاکام کرسکے گی اورنہ ہی ملک کی بہتری کیلئے کوئی منصوبہ ترتیب دے سکے گی۔یعنی سیاسی مفادات کیلئے ملکی مفادات سے کھلواڑ کیاجارہاہے۔ایک قیدی سے ملاقا ت بری بات نہیں مگرملاقات کے بعد انتشارپرمبنی پیغامات سے انارکی پیداکرنیکی کوششیں کی جاتی ہیں۔ جس ملاقات سے ملک میں عدم استحکام کا خدشہ ہویہ ملاقات کیونکر ممکن ہے؟ایک جانب فوج کیخلاف بے جااور بے مقصدبیان بازی کی جاتی ہے دوسری جانب اگرفوجی ترجمان وضاحت کریں توکہاجاتا ہے کہ فوج نے سیاست میں مداخلت کی۔ حالا نکہ فوج کوسیاست میں مداخلت پرمجبورکیاجاتاہے آئے روزفوج کیخلاف بیانات جاری ہوتے ہیں جیل میں ملاقات کے بعداعلیٰ عہدید ا روں کوذہنی مریض،ہٹلر اورنجانے کیاکیاخطابات سے نوازا جاتا ہے مگرجب فوجی ترجمان انتہائی حسین پیرائے میں ان الٹے سیدھے القابا ت کاجواب دیتے ہیں تو سیاست میں مداخلت کاکفرہوجاتاہے۔ ان حرکات وسکنات سے واضح ہورہاہے کہ ایک نام نہادسیاسی جماعت بہرصورت اپنی مخاصمت جاری رکھناچاہتی ہے کیونکہ اسے اپنی سیاسی زندگی مفاہمت میں نہیں مخاصمت میں نظرآتی ہے اسلئے مفاہمت کی ہرپیشکش پائے حقارت سے ٹھکراکرمخاصمت کوہوادی جاتی ہے۔ مفاہمت اورمخاصمت کایہ کھیل ملکی سلامتی کیلئے نقصان دہ ہے۔


