Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, January 29, 2026

تیراہ آپریشن اورغیرسنجیدگی (آخری قسط)

وصال محمدخان
وزیراعلیٰ اوروزراکے بیانات سے صوبے کے عوام کنفیوژن کاشکارہیں کسی کی سمجھ میں نہیں آرہاکہ ماجراکیاہے؟حقیقی صورتحال کوچھپانے کی کوشش میں تیراہ کامعاملہ متنازعہ بنانے کی بچگانہ کوششیں ہورہی ہیں جس کافائدہ شدت پسندوں کوہورہاہے اوریہ سب کچھ محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے ہورہاہے۔فورسزنے نقل مکانی میں مددبھی کی موسمی شدت کے سبب نقل مکانی کیلئے دی گئی ڈیڈلائن میں دودن کی توسیع بھی دی گئی تازہ اطلاعات تک وہاں سے نقل مکانی جاری ہے جو 80فیصدسے زائدمکمل ہوچکی ہے کسی وجہ سے رہ جانیوالے بھی نکلناچاہتے ہیں کیونکہ یہ لوگ گزشتہ دوعشروں سے شدت پسندوں کوبرداشت کررہے ہیں پہلے وفاقی حکومت انہیں نظراندازکرتی رہی اب صوبائی حکو مت سیاست کاایندھن بنارہی ہے۔اس دوران بارشیں اوربرفباری بھی ہورہی ہے اورپوری وادی تیراہ میں جمانے والی سردی کاراج ہے۔فورسزآپریشن اوروہاں سے دہشتگردوں کے صفائے کیلئے پرعزم ہیں مگرسیاسی میدان میں اس پربیانات کاایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا گیاہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے تیراہ کادورہ کرکے لوگوں کی مشکلات پرمگرمچھ کے آنسوبہائے اورآپریشن کووفاق اورفوج کے سرتھوپ دیا۔صوبائی حکمران جماعت کے قائدین اوروزرا اپنے بیانات میں یہ تاثردینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے آپریشن قیام امن کیلئے نہیں بلکہ کسی اورمقصدکیلئے کیاجارہاہو۔ وزیراعلیٰ کی جانب سے بارہایہ بیانات جاری ہوئے کہ اب تک 14ہزارسے زائدآپریشنزہوئے مگراس سے امن قائم نہیں ہوا۔اسلئے امن کیلئے آپریشن کی بجائے مذاکرات کاراستہ اپنایاجائے۔مگر وہاں پرتوہمہ اقسام کے دہشتگردگروہوں نے ڈیر ے جمالئے ہیں مقامی اورغیرملکی گروہ وہاں دندناتے پھررہے ہیں اور وفاقی یاصوبائی حکومتوں کوخاطرمیں نہیں لارہے۔شہریوں کی جان،مال اورعزت محفوظ نہیں مگرحکومتی غیرسنجیدگی سے معاملہ گھمبیر بنتاجارہاہے۔ایک بہت بڑے علاقے سے نقل مکانی خاصی حدتک مکمل کی جا چکی ہے،یہ کوئی کھیل تونہیں کہ اسے جیسے ہے جہاں ہے کی بنیادپرواپس لیاجائے۔اگروزیراعلیٰ آپریشن سے اتنے ہی الرجیک تھے تویہ رقم منظوری کے وقت روکاجاسکتاتھا۔4ارب روپے کی رقم کابینہ سے منظوری کے وقت انہیں معلوم نہیں تھاکہ یہ رقم کس مقصدکیلئے منظورکی جا رہی ہے اگروہ تیراہ کے نمائشی دورے کے بعدجان گئے ہیں کہ آپریشن تونقصان دہ ہے اوریہ نہیں ہوناچاہئے توچارسدہ،پشاور،کوہاٹ،ہری پور،ہزارہ،ایبٹ آباد،نوشہرہ مردان،لاہوراورکراچی کے دوروں کی بجائے تیراہ کابروقت دورہ کیاجاتاتومعلوم ہوجاتاکہ آپریشن نہیں ہوناچاہئے۔اب پلوں کے نیچے سے بہت ساپانی بہہ چکاہے اب آپریشن روکنے کے دھمکیاں بے وقت کی راگنی ہے۔2018ء تک یہ علاقہ وفاق کے زیرانتظام تھامگراسکے بعدیہ صوبے میں ضم ہوچکاہے اگروہاں پہلے شدت پسندی کاراج تھاتواس میں وفاقی حکومتیں قصور وارہیں اوراگر ضم ہونے کے بعدشدت پسنددندناتے پھر رہے ہیں تویہ صوبائی حکومت کی ناکامی اورناقص طرزحکومت کاشاخسانہ ہے۔اب زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس علاقے میں دہشتگردقابض ہیں جنہیں وہاں کے باشندے مزیدبرداشت کرنے کیلئے تیارنہیں۔اسلئے تووہاں کے نمائندہ جرگہ ازخود نقل مکانی اور آپریشن پرآمادہ ہوا۔ جس سے واضح ہورہاہے کہ تیراہ کے لوگ ا ب شدت پسندی سے تنگ آچکے ہیں اور وہ بھی ملک کے دیگرحصوں کی طرح پرامن اورآسودہ زندگی گزارنے کے خواہاں ہیں۔وہ بھی اپنے علاقے میں سڑکیں،سکول،ہسپتال اور سرکاری دفاترچاہتے ہیں مگرصوبائی حکومت کے بیانا ت سے یوں لگ رہاہے جیسے وہاں کامسئلہ دہشتگردنہیں آپریشن ہے جسے رکناچاہئے۔ حالانکہ ایسانہیں صوبائی حکومت محض فوج کیخلاف سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش میں قومی سلامتی سے کھیلنے کی مرتکب ہورہی ہے۔وادی تیراہ کودہشتگردوں سے پاک کرنے کیلئے صوبائی حکومت کواپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئے۔کسی علاقے کی قسمت سے کھیلتے ہوئے شہریوں کے مصائب کو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرنا ایک نارواطرزعمل ہے۔جیساکہ میں نے اوپرعرض کیاعلاقے کے حالات بگاڑنے میں وفاقی اورصوبائی حکومتوں کابرابرحصہ ہے اب اسے سنوارنابھی دونوں کی ذمہ داری ہے۔اب جبکہ آپریشن کافیصلہ کیاگیاہے تواسے بیان بازی کی بجائے سنجیدہ لیاجائے اورپوری قوت سے آپریشن کرکے علاقے کوصاف کیاجائے۔ آپریشنزہمیشہ کامیاب رہے ہیں اب تک ہونیوالا کوئی
فوجی آپریشن ناکام نہیں ہوا۔دہشتگردعام لوگوں پراپنی دھاک بٹھاسکتے ہیں انہیں یرغمال بناسکتے ہیں اوران پراپنی ناجائزرٹ قائم کرسکتے ہیں مگر پاک فوج اورسیکیورٹی فورسزکے سامنے انکی ایک نہیں چلتی۔اسلئے ہرآپریشن کے فوری بعدیہ فرارہوجاتے ہیں،گرفتارہوتے ہیں یا پھر مار دئے جاتے ہیں۔آپریشن کے بعدحالات معمول پرآنے تک محدودمدت کیلئے فورسزوہاں موجودرہتی ہیں اسکے بعدصوبائی حکومت اورسول انتظامیہ کاکام شروع ہوجاتاہے۔سوات اورملاکنڈڈویژن میں آپریشن کے بعدصوبائی حکومت نے ذمہ داری کامظاہرہ کیا۔ آپریشن کے فور ی بعدوہاں سول انتظامیہ کی رٹ بحال کی گئی،پولیس سٹیشنزتعمیرکئے گئے اورچیک پوسٹ بنائے گئے مگرپی ٹی آئی کی حکومتیں اول تو آپریشن کیخلاف پروپیگنڈاکرتی ہیں اوربعدمیں اپنی رٹ قائم کرنیکی بجائے علاقے کوحالات کے رحم وکرم پرچھوڑدیاجاتاہے۔ جس کے نتیجے میں دہشتگرددوبارہ آکر ریاست کوچیلنج کرنے لگ جاتے ہیں۔شمالی اورجنوبی وزیرستان میں یہی ہوااورتیراہ میں بھی یہی ہورہاہے جبکہ کچھ علاقوں میں تودہشتگردلاکرباقاعدہ آبادکئے گئے۔فوجی ترجمان کی بات بالکل درست ہے کہ یہاں دہشتگردوں کوسیاسی تعاون حاصل ہے۔ہم اگراس صوبے کودہشتگردی سے پاک دیکھناچاہتے ہیں،یہاں امن وامان کے قیام کے خواہاں ہیں توصوبائی حکومت کواپنی ذمہ داریا ں پوری کرنی ہونگی۔آپریشن کے بعدعلاقے میں ترقیاتی کام کرنے ہونگے،سڑکیں،سکولز،ہسپتال اورپولیس مراکزقائم کرنے ہونگے سرکاری دفاتربنانے ہونگے اورصوبائی حکومت کی رٹ بحال کرنی ہوگی اورخصوصاٍایسے اقدامات انتہائی ضروری ہیں جن سے دہشتگردوہاں دوبارہ آنے کی جرات نہ کریں۔یہ سب زیادہ مشکل نہیں بس صوبائی حکومت تیراہ آپریشن کوغیرسنجیدگی کی نذرنہ کرے۔ (ختم شد)

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

تیراہ آپریشن اورغیرسنجیدگی (آخری قسط)

Shopping Basket