وصال محمدخان
خیبرپختونخوامیں سردی کازورٹوٹ رہاہے،18فروری کویکم رمضان متوقع،آٹے کی قیمتیں بے قابو،
سرکاری آٹاسکیم مافیاکے ہتھے چڑھ گیا،آٹامنتخب ڈیلرزکی بجائے بازارمیں مہنگے داموں دستیاب
برف پگھل گئی،وزیراعظم شہبازشریف اوروزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات
وزیراعلیٰ سے نشترہال میں ایک طالبہ کاسوال،وزیراعلیٰ کاغیرتسلی بخش جواب
حکمران جماعت 8فروری کے پہیہ جام ہڑتال کی کامیابی کیلئے پرامید،کامیابی کے چانسزکم
حاجی غلام احمدبلورکی پشاورسے اسلام آبادہجرت،اے این پی کیلئے بڑانقصان
خیبرپختونخواکے میدانی علاقوں میں سردی کازورٹوٹ رہاہے۔ رمضان کی بھی آمدآمد ہے متوقع طورپر18فروری کوپہلاروزہ ہونے کا امکان ہے۔اس رمضان میں عوام کودیگراجناس سمیت آٹابھی مہنگے داموں خریدناپڑیگا۔حکومت نے سرکاری آٹاسکیم متعارف کروائی ہے جس کی قیمت 2220روپے مقررکی گئی تھی اورکہاگیاتھاکہ یہ آٹامنتخب ڈیلرزفروخت کرینگے۔ مگراب یہ آٹاعام دوکانوں اورریڑھیوں پر مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ یعنی 26سوروپے میں دستیاب ہے۔مارکیٹ میں 20کلوتھیلے کاریٹ3ہزارسے اوپرہے۔حکومت نے اگر سرکاری آٹے کی سکیم شروع کردی ہے تواسکی کڑی نگرانی بھی ہونی چاہئے۔ عدم توجہی سے مافیااس سکیم کوبھی ہائی جیک کرچکاہے۔
وزیراعلی سہیل آفریدی کی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات ہوچکی ہے۔گزشتہ ہفتے انہی صفحات پرذکرکیاجاچکاہے کہ وزیراعلیٰ نے وزیر اعظم کوخط لکھاتھاجس میں انکی توجہ واجبات کی عدم ادائیگی کی جانب مبذول کروائی گئی تھی۔شائداسی خط کے جواب میں وزیراعظم نے انہیں ملاقات کی دعوت دی۔مجموعی طورپردونوں جانب سے ملاقات کو خوشگوار قرار دیاگیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاکہناتھاکہ سیاست پرکوئی بات نہیں ہوئی مگرکچھ ذرائع کادعویٰ ہے کہ ملاقات میں سیاسی باتیں ہوئی ہیں، معاملا ت کوبتدریج نارمل کرنے پراتفاق ہواہے اور یہ ملاقات کسی ڈیل کاپیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ ملاقات پرپی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں کامبہم مؤقف سامنے آیا ہے۔ ابھی سہیل آفریدی پر کھل کر کوئی تنقیدتونہیں ہوئی مگرکچھ حلقے معترض ہیں کہ اس بڑے اقدام سے قبل پارٹی کواعتمادمیں لیناضروری تھا۔مسلم لیگ ن کے صوبائی حلقے اس بات پرشاداں و فرحاں ہیں کہ جو لوگ وفاقی حکومت کوجعلی حکومت کہتے تھے اب اسی وزیراعظم سے ملاقا ت کررہے ہیں۔بہرحال وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کو وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کیساتھ رابطے میں رہنے کی ہدایت کردی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی خد مت میں پہلے بھی بارہاعرض کیاجاچکاہے کہ وفاق سے تناؤبڑھانے میں صوبے کانقصان ہے۔ صوبائی بجٹ کا90 فیصدسے زائدانحصار وفاق پرہے۔رواں برس 2165 ارب کے صوبائی بجٹ میں صوبے کی اپنی آمدن 115ارب روپے متوقع ہے وفاق پراس قدر انحصار کرنیوا لے صوبے کوبے جامحاذآرائی زیب نہیں دیتی صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں نے ملاقات کواہم پیشر فت قراردیا ہے اورکہاگیاہے کہ وزیراعلیٰ کووفاق کیساتھ سینگ آزمائی کی بجائے افہام وتفہیم سے معاملات حل کرنے کی کوشش کرتے رہناچاہئے۔
نشترہال پشاورمیں ینگ لیڈرزکنونشن کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیداہوگئی جب ایک طالبہ نے وزیراعلیٰ سے سوال کیاکہ جعلی حکومتیں ترقی کررہی ہیں لیکن خیبرپختونخوامیں 13سال سے اصلی حکومت ہونے کے باوجودصوبہ پسماندہ ہے؟آپ ِادھراُدھرکی باتوں کی بجائے یہ بتائیں کہ تیرہ سال میں صوبے کوکیادیا؟جوبھی ترقی ہوئی وہ ایم پی ایز،ایم این ایزکے گھروں اورحجروں تک محدودکیوں ہے؟ آپ نے صوبے میں ہونیوالی کرپشن پرکیاقدامات کئے؟دیگرصوبوں سے موازنہ میں ہماراصوبہ کہاں کھڑاہے؟جس کے جواب میں وزیر
اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہاکہ”میری بہن کاتعلق شائداے این پی یاکسی دیگرجماعت سے ہے،پہلے آپ ترقی کی تعریف واضح کریں،ہم نے صوبے کے نوجوان کوپندرہ سال میں یہ شعوردیاکہ وہ چیف ایگزیکٹیوسے سوال کررہے ہیں،اے این پی کی حکومت میں یہاں دھماکے ہو رہے تھے،نشترہال بندتھاجسے ہم نے کھلوایا،جنوبی پنجاب اورسندھ کی حالت بہت خراب ہے وہاں سکولوں میں مویشی باندھے جاتے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں آوارہ کتے گھومتے نظرآتے ہیں“۔وزیراعلیٰ کے اس جواب پرصوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقو ں نے نا پسندیدگی کااظہارکیا ہے۔ وزیراعلیٰ کی طالبہ کیساتھ نوک جھونک کاواقعہ قومی میڈیاپر زیربحث رہنے کیساتھ سوشل میڈیاپربھی ٹاپ ٹرینڈرہا۔ 1948ء میں باچا خان کے بھائی ڈاکٹرخان صیب وزیراعلیٰ تھے توچارسدہ میں ایک شہری نے انکا گریبان پکڑکرپوچھاکہ آپ نے صوبے کیلئے کیاکیا؟ جس پر ڈاکٹر خان نے جواب دیا تھاکہ یہ کیاکم ہے کہ تم نے وزیراعلیٰ کاگریبان پکڑرکھا ہے؟ سہیل آفریدی نے اسی جواب کی بھونڈی نقالی کرنیکی کوشش کی ہے۔اے این پی ذرائع نے ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ”وزیراعلیٰ اے این پی سے خائف بھی ہیں مگر ہمارے اکابرین کی مثالیں بھی چربہ کررہے ہیں۔اے این پی کے دورمیں نشترہال بندنہیں تھاہال کاریکارڈملاحظہ کیاجائے تواس دورمیں دہشتگردی کے واقعات بڑھنے پرنشترہال میں سیاسی پروگرام منعقدہوتے تھے اسکے علاوہ ثقافتی پروگرامزبھی جاری رہے۔یہ امرقابل افسوس ہے کہ دہشتگردوں کوبھتہ دینے والے دہشتگردی کادلیری سے مقابلہ کرنیوالی جماعت اے این پی کیخلاف بیان بازی میں مصروف ہیں، دہشتگر د ی اوربم دھماکے اے این پی دورسے پہلے بھی تھے اوراب بھی جاری ہیں حالانکہ اب طالبان کی سیاسی ونگ برسراقتدارہے“۔
حکمران جماعت کی جانب سے 8فروری کے پہیہ جام اورشٹرڈاؤن ہڑتال کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔پارٹی اندازوں کے مطابق 8فروری کوپورے ملک کی طرح خیبرپختونخوامیں بھی ہڑتال ہوگی اس سلسلے میں پارٹی تنظیموں کوہدایات جاری کی جاچکی ہیں جنہوں نے تاجراورٹرانسپورٹ تنظیموں سے رابطے کئے ہیں۔وزیراعلیٰ نے سٹریٹ موومنٹ کاجوسلسلہ شروع کیاتھاوہ بھی مکمل ہوچکاہے۔ حکمران جماعت پرامیدہے کہ 8فروری کی ہڑتال کامیاب ہوگی مگریہ توقع ملک بھرمیں پوری ہوتی ہوئی نظرنہیں آرہی۔پنجاب کے بڑے شہروں میں اس دن بسنت منائی جائیگی جبکہ سندھ اوربلوچستان میں پارٹی کی تنظیمیں متحرک اورفعال نہیں۔ خیبر پختونخوامیں بھی پارٹی تنظیمی طورپر بکھری ہوئی نظرآرہی ہے مگریہاں کچھ جان ہے تویہ حکومت کے دم سے ہے ورنہ تنظیمی طورپرپارٹی کا یہاں بھی براحال ہے۔ایک اجلاس میں پارٹی کے اہم قائدین نے خیبرپختونخوابندکرنے پرتنقیدکی اورکہاکہ حکومتی معاملات غلط سمت میں جارہے ہیں ان حالات میں عوام پر ہڑتال کا بوجھ ڈالنااوریہ توقع رکھناکہ ہڑتال کامیاب ہوگی خام خیالی ہے۔بہرحال توقع کی جارہی ہے کہ پہیہ جام اورشٹرڈاؤن ہڑتال خیبر پختونخوا میں کسی حدتک کامیاب ہوگی جبکہ دیگرصوبوں سے وہ رسپانس ملنامشکل ہے جس کی توقع پارٹی قائدین لگائے بیٹھے ہیں۔
اے این پی کے سنیئرراہنمااوربزرگ سیاستدان حاجی غلام احمدبلورنے عملی سیاست سے کنارہ کش ہونے اورپشاورمیں اپنی رہائشگاہ فرو خت کرکے اسلام آبادمنتقل ہونے کااعلان کیاہے۔غلام احمدبلورکاشمارباچاخان اورعبدالولی خان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتاہے۔انکی عمر 86برس ہے اوروہ پشاورکے تاریخی حلقے (سابقہ این اے ون)سے چارمرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔اسی حلقے سے وہ سا بق وزیراعظم بینظیربھٹوکوبھی شکست سے دوچارکرچکے ہیں۔انکے بھائی بشیراحمد بلور کواس وقت خودکش حملے میں شہیدکیاگیاجب وہ صوبائی حکومت میں سنیئروزیرتھے۔انکے بھتیجے ہارون بلورکو2018انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے میں شہیدکیاگیاجبکہ انکے اکلوتے بیٹے شبیر بلور1997ء انتخابات میں ایک لڑائی کی نذرہوگئے۔حاجی غلام بلورچارمرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ وہ 1997ء میں نوازشریف اور 2008ء میں یوسف رضاگیلانی کابینہ میں وفاقی وزیررہے۔انکی پشاورسے ہجرت کواے این پی کیلئے بڑا دھچکا تصور کیا جارہاہے۔حاجی غلام بلورکاایک پوتاعظیم بلورہے جوگوہرایوب کانواسہ بھی ہے۔بشیربلورکی بہواورہارون بلورکی بیوہ ثمربلورمسلم لیگ ن میں شامل ہوچکی ہیں اس طرح سیاسی طورپرپانچ عشروں سے متحرک خاندان کا سیاسی شیرازہ بکھرچکاہے جو اے این پی کیلئے بہت بڑانقصان ہے۔


