Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Saturday, August 30, 2025

خیبرپختونخوامیں سیلاب کی تباہ کاریاں

وصال محمدخان
حضرت انسان کوازل سے قدرتی آفات کاسامنارہاہے اوریہ سلسلہ یقینا تاابد جاری رہیگا۔ان آفات کاراستہ روکنایاانکے آگے بند باند ھنا انسان کے بس سے باہرہے۔ازل سے قدرتی آفات انسانوں کی بسی بسائی بستیاں تاخت وتاراج کرتی ہیں کہیں زلزلے آتے ہیں،کہیں طوفانی بارشیں ہوتی ہیں،کہیں بادل پھٹتے ہیں توکہیں انسانی آبادیوں کوآندھی وطوفان کے غیض وغضب کاسامناکرناپڑتاہے۔ جس خطے نے زیادہ ترقی کی ہے وہاں قدرتی آفات کے نتیجے میں بڑی تباہی ہوتی ہے۔ یعنی قدرتی آفات کے سامنے جدیددورکاترقی یافتہ یاپتھرکے زمانے کاغیرترقی یافتہ ہر انسان بے بس ہے۔ خیبرپختونخواکے شمالی اضلاع بونیر،دیر،سوات،شانگلہ،ضم قبائلی ضلع باجوڑ،ہزارہ کے مانسہرہ، بٹگرام اورصوابی میں مون سون کی طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔ بونیر،باجوڑاورسوات میں بادل پھٹنے،لینڈسلائیڈنگ،ندی نالوں میں طغیانی اوردیگرحادثات سے تادم تحریر400سے زائدافرادلقمہ ء اجل بن چکے ہیں،سینکڑوں افراد زخمی ہوچکے ہیں،ہزاروں مکانات تباہ ہوئے ہیں اوربعض علاقوں میں پوری کی پوری بستیاں نیست ونابود ہو چکی ہیں۔سب سے زیادہ تباہی بونیرمیں ہوئی ہے جہاں 12سے زائد بستیاں مکمل طورپرپانی میں بہہ چکی ہیں اوران کانام ونشان تک مٹ گیا ہے جہاں کے باسیوں کی اکثریت جاں بحق ہوچکی ہے۔ بونیر میں اموات کے حوالے سے جو اندازے لگائے گئے ہیں انکے مطابق تاحال سینکڑوں لاشیں ملبے اوربھاری پتھروں تلے دبی ہوئی ہیں حقیقی نقصان کااندازہ لگانے میں توخاصاوقت لگ سکتاہے مگر دستیاب معلومات کے مطابق تین300سے زائدافراد کی لاشیں ملی ہیں اور جناز ے پڑھے جاچکے ہیں۔ ابتدائی رپورٹ کیمطابق اڑھائی ہزارسے زائدمکانات مکمل تباہ ہوچکے ہیں جبکہ500گھروں کوجزوی نقصان پہنچاہے۔ کلاؤڈ برسٹ کے باعث سیلابی پانی میں بھاری پتھربہہ جانے سے بہت زیادہ نقصان ہواہے۔مندرجہ بالاعلاقوں میں دلخراش مناظردیکھنے کومل رہے ہیں کہیں کسی بچے کی لاش کیچڑمیں دبی، کہیں کسی خاتون کی میت بھاری پتھرتلے،کہیں کسی بچے کی لاش درختوں اور جھاڑیوں میں پھنسی ہوئی توکہیں کسی جوان کی لاش ملبے تلے دب کرناقابل شناخت بن چکی ہے۔بعض علاقوں میں اموات کی تعدادزیادہ ہونے کے سبب کفن کم پڑگئے جو دیگرعلاقوں سے منگوانے پڑے ہر طرف رقت آمیزاورالمناک مناظرہیں موت کاخاموش رقص ہے لوگ اپنے پیاروں کوپتھروں کے نیچے اورکیچڑمیں تلاش کرتے پھررہے ہیں۔بازارپانی اترجانے کے بعدآٹھ آٹھ فٹ کیچڑ میں دبے ہوئے ہیں۔سڑکیں،پل اورشاہراہیں ٹوٹ پھوٹ چکی ہیں،سکول پانی میں بہہ گئے ہیں ابتدائی معلومات کے مطابق متاثرہ اضلاع میں 385 سکولوں کونقصان پہنچاہے جن میں 61سکول مکمل تباہ ہوئے ہیں ان میں 50پرائمری6مڈل اور2ہائی سکولزشامل ہیں جبکہ 324سکولوں کوجزوی نقصان پہنچاہے جن میں 227پرائمری، 33مڈل،40ہائی اور 12ہائیرسکینڈری سکولزشامل ہیں۔مون سون کی بارشوں کایہ 7 واں سپیل تھااس سے قبل ہونیوالی بارشوں سے بھی نقصانات ہوئے تھے مگروہ اس بڑے پیمانے پرنہیں تھے حالیہ سپیل نے سابقہ تمام ریکارڈ توڑدئے ہیں ایک جانب بارشیں بے حساب ہوئی ہیں اورابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔تودوسری جانب کلاؤڈبرسٹ اورلینڈسلائیڈنگ نے طوفانی بارشوں کودوآتشہ بنادیاہے۔ بازاروں میں پانی بھرگیا ہے بلکہ کئی شہروں کے بڑے بازارکسی برساتی بپھرے ہوئے نالے کا منظر پیش کررہے تھے بہت سی مارکیٹوں میں دوکانات منہدم ہوئے اور قیمتی سامان یا توپانی میں بہہ گیایاپھرملبے تلے دب کرناقابل استعمال بن گیا۔ مال مویشی سیلابی ریلوں میں بہہ گئے،کھیت کھلیان،کھڑی فصلیں اورباغات کوشدیدنقصان پہنچادیوقامت درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور فلک بوس عمارتوں کاملبہ تک ریلوں میں بہہ گیا۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق صرف بونیرمیں املاک اورمال واسباب کی مدمیں 20ارب روپے سے زائدکانقصان ہوچکاہے۔تباہی کے بعدامدادی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں نجی فلاحی ادارے انتظامیہ کے شانہ بشانہ بلکہ حکومتی اداروں سے دوقدم آگے کام کرہے ہیں پاک فوج بھی ریلیف،ریسکیواوردیگرامدادی سرگرمیوں میں بھرپورحصہ لے رہی ہے۔ حکو مت اور اسکے اداروں کی کارکردگی حالیہ سیلاب کے دوران بھی حسب سابق ڈانواں ڈول رہی۔بیانات کی حدتک توحکومتی ادارے فعال کردار ادا کر رہے ہیں مگردرحقیقت اصل کام غیرسرکاری فلاحی تنظیمیں کررہی ہیں۔اس سلسلے میں الخدمت فاؤنڈیشن اورخدائی خدمتگارتنظیم سمیت ان گنت تنظیمیں متاثرین کی بھرپورمددکررہی ہیں ریلیف اورریسکیوآپریشنزمیں بھی یہی تنظیمیں سرگرم ہیں جوعوام سے چندہ اکھٹا کرکے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین تک پہنچارہی ہیں۔ان فلاحی تنظیموں کے علاوہ مردان،نوشہرہ،چارسدہ،پشاوراوردیگرعلاقوں سے نوجوان بھی بطور رضاکاراپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔خیبرپختونخواکے باشندے اگرچہ گوناگوں مسائل سے دوچارہیں مگراپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی امدادکیلئے کوشاں ہیں جوسراہنے کے لائق ہے۔وفاق اورصوبائی حکومتیں اپنے طورپراچھا کام کررہی ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی اورمواصلات کانظام درہم برہم ہے جس کی بحالی کیلئے حکومتی ادارے شب روزکام کررہے ہیں۔تازہ اطلاعا ت کے مطابق اب تک بجلی بحالی کا50فیصدتک کام مکمل ہوچکاہے۔اس طرح سڑکوں اورپلوں کی بحالی اورراستوں کی بندش سے متاثرین تک رسائی مشکل تھی جس پربھرپورکام ہورہاہے آرمی کی انجیئنرنگ کورنے کئی رابطہ پلوں کی جگہ عارضی پل تعمیرکردئے ہیں لینڈسلائیڈنگ سے بندہونیوالی سڑکوں کی بحالی پربھی تندہی سے کام جاری ہے۔حکومتی دعوے کے مطابق 90فیصدمگرآزادذرائع کے مطابق 60فیصدرابطہ سڑکیں بحال ہوچکی ہیں۔جس پرجوش اندازمیں حکومتی ادارے،پاک فوج،فلاحی تنظیمیں اوررضاکارکام کررہے ہیں اس سے توقع کی جاسکتی ہے کہ بہت جلد سیلاب زدہ علاقوں میں زندگی کی رونقیں بحال ہونگیں۔سیلاب ایک قدرتی آفت ہے جسے روکناانسان کے بس کی بات نہیں مگر خدمت اوراخوت کے جس جذبے سے کام کیاجارہاہے اس سے متاثرین کے زخموں پرمرہم رکھناممکن ہے۔حکومتی مشینری کوبھی مزیدفعال کرداراداکرناہوگا تاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں کامداواہو۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخوامیں سیلاب کی تباہ کاریاں

Shopping Basket