وصال محمدخان
پاک بھارت کرکٹ شائقین کیلئے یہ خبریقیناًخوش کن نہیں کہ پاکستان نے ٹی ٹوینٹی ورلڈکپ میں بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کافیصلہ کیاہے۔ اس فیصلے سے کرکٹ شائقین کے چہرے مرجھاچکے ہیں جسکی ذمہ داری بھارتی انتہاپسندقیادت پرعائدہوتی ہے۔پاک بھارت میچ سے محض بھارت میں چارہزارکروڑروپے کانقصان ہوگا۔یہ میچ 500ملین ڈالرزمالیت کاہوتاہے اوراس میچ کے دوران بھارت میں ٹی وی اشتہار کی قیمت 25سے40لاکھ بھارتی روپے فی 10سیکنڈز ہوتی ہے۔جس سے یہ چینلز 138کروڑبھارتی روپے کماتے ہیں ایک انداز ے کے مطابق حالیہ آئی سی سی ورلڈکپ کے 63فیصدریونیواسی ایک میچ سے حاصل ہوناتھا۔بھارتی براڈ کاسٹرز کی چیخیں نکل رہی ہیں کہ انہیں یہ میچ نہ ہونے سے بہت بڑانقصان ہوگا مگریہ نقصان کیوں ہوتاہے اس پرانکی گزبھرلمبی زبانیں خاموش ہیں آج بھارتی تجزیہ نگار کھیل کو سیا ست سے دوررکھنے باتیں کررہے ہیں مگراس وقت انکی زبانوں کولقوہ ہوجاتاہے جب بھارت پاکستان کیساتھ باہمی سیریز کھیلنے سے انکار کرتا ہے۔ پاکستان اوربھارت کے درمیان آخری سیریز2011-12میں ہوئی تھی یعنی ڈیڑھ عشرے سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی سیریزبندہیں اوراسکی وجہ محض بھارتی انتہاپسندقیادت کی جھوٹی انا ہے۔کھیل ہمیشہ محبتوں کوپروان چڑھانے اورنفرتیں مٹانے کاکام کرتے ہیں مگربھارتی روئیوں نے کھیلوں کوبھی نہ صرف سیاست زدہ کردیاہے بلکہ اس میں نفرتوں کوبھی شامل کردیا ہے اوریہ نامعقول روئیے کئی عشروں سے جاری ہیں۔پاکستان میں آکرنہ کھیلنے کانارواوطیرہ توطویل عرصے سے ہے مگردنیاکے دیگرمیدانوں میں بھی مختلف طریقوں سے نفرت آمیز روئیے روارکھے جاتے ہیں۔دو ٹیموں کے ارکان کاایکدوسرے سے ہاتھ ملانے کی روایت صدیوں پرانی ہے۔ جسے گزشتہ برس بھارتی کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملاکر توڑدیا۔میدان میں انفرادی طورپرکھلاڑیوں کے نامناسب رو ئیے اور فقرہ بازی توعام سی بات ہے مگر ہاتھ ملانے سے انکارنے کرکٹ کے متوالوں کوبدمزہ کردیاہے۔ کرکٹ جوکہ جنٹلمین گیم کہلاتا ہے اسے بھارتی انتہاپسندہندوؤں کے نامناسب روئیوں نے نفرتوں کے کھیل میں تبدیل کردیاہے۔پاک بھارت میچ سے اگرآئی سی سی کو خطیر آمدن ہوتی ہے تواسکی وجہ صرف یہی ہے کہ بھارتی انتہاپسندقیادت کے روئیوں سے دونوں ممالک کے عوام ایکدوسرے سے اس قدرنفرت کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان کھیلا جانیوالا میچ لڑائی یاجنگ میں تبدیل ہوجاتاہے۔ دونو ں ممالک کے شہری کرکٹ سے بے انتہا رغبت رکھتے ہیں دونوں جانب کی آبادی بھی پونے دوکروڑکے قریب ہے اسلئے براڈکاسٹرز کو اشتہا ر ا ت کی مدمیں بہت بڑی رقم ہاتھ آتی ہے اوریہ انکے مفادمیں ہے کہ دوونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اورتناؤموجودہواوردونوں جانب سے گرماگرم بیانات کا سلسلہ جاری ہو یہ سلسلہ جاری رہیگاتومیچ کی ویلیوآسمان سے باتیں کریگی اورآئی سی سی سمیت براڈکاسٹرزاوربھارتی کرکٹ بورڈکواس مد میں بڑی رقم ملے گی یعنی ایک طرح سے پاکستان کیخلاف نفرت کوبھارت اورآئی سی سی دونوں کمائی کاذریعہ بنائے ہو ئے ہیں دونوں نفرت کے سوداگربنے ہوئے ہیں جوبھارت میں پاکستان کیخلاف نفرت بیچتے ہیں جس سے دونوں کے اکاؤنٹس بھرتے ہیں۔ پاکستان نے حالیہ ورلڈکپ میں بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کاجواعلان کیاہے اس کیلئے پاکستان کے پاس ٹھوس قانونی جوازموجودہیں اگر پاکستان ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلتااورآئی سی سی جوکہ اس وقت بھارت کے زیراثرکیابلکہ اسکے گھرکی باندی بن چکی ہے دونوں بھارتی میڈیاکے الوؤں کی خواہش پر پاکستان کیخلاف کوئی اوچھی حرکت کرتے ہیں،کوئی پابندی یاجرمانہ عائدکرتے ہیں تو اسکے خلاف عالمی فورمز پربھرپور اورمؤثر قانو نی جنگ لڑنے کیلئے پاکستان کاکیس مضبوط ہے۔دوعشروں سے بھارتی ٹیم پاکستان نہیں آرہی، ڈیڑھ عشرے سے دونوں ٹیسٹ ممالک کے درمیان باہمی سیریزنہ ہوسکی،آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بھارتی ضدپراسکے میچ یواے ای منتقل ہو چکے ہیں،بھارتی کپتان کی پاکستانی کپتان اورکھلاڑیوں سے ہاتھ نہ ملانے اورپاکستانی عہدیدارسے ٹرافی وصولی سے انکاراوراس جیسے ان گنت دستاویزی ثبوت موجودہیں جن کے بل بوتے بھارت اورآئی سی سی کودھول چٹائی جاسکتی ہے۔آئی سی سی اگربھارتی روئیے کیخلاف سخت ایکشن لیتااوراس پرباہمی سیریزسے انکار پرپابندی عائدکی جاتی یااسکے رینکس کی تنزلی ہوتی یااسے بھاری جرمانہ عائدکیاجاتاتوآج پاکستان کوبھارت کیخلاف میچ سے انکارنہ کرناپڑتا۔پاکستان نے گزشتہ دوعشروں میں بھارت کیخلاف پہلی بارکوئی میچ کھیلنے سے انکارکیاہے جبکہ بھارت اسی عرصے سے پاکستان کیساتھ مختلف موواقع پرمیچ کھیلنے سے انکارکرچکاہے۔پاکستان نے خراب معاشی حالات میں ایک معقول رقم سے ہاتھ دھونے کادلیرانہ فیصلہ کیاہے۔اسکی وجہ اگرچہ بنگلہ دیش بنامگربھارت اسی قسم کاروئیہ پاکستان کیساتھ پہلے سے اپناتا چلا آرہاہے۔اسکے لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں پرپابندی ہے اسکے کھلاڑی پاکستانی لیگ نہیں کھیلتے اب انہوں نے بنگلہ دیش کیساتھ بھی وہی نفرت آمیزاورتحقیرآمیزروئیہ اپنانا شروع کردیاہے پہلے جن روئیوں کانشانہ صرف پاکستان بنتاتھااب اسکے ساتھ بنگلہ دیش کوبھی شامل کردیا گیاہے کوئی بعیدنہیں کہ مستقبل قریب میں سری لنکایادیگرممالک کوبھی اس کلب میں شامل کیاجائے۔یہ معاملہ محض پاکستان اوربنگلہ دیش تک محدودنہیں رہیگا اس کے دائرۂ کارمیں مزیدممالک کاآنایقینی ہے۔اسلئے آئی سی سی کے دیگرممبران بھی بھارتی روئیوں کے خلاف ٓآواز اٹھائیں اورپاکستان اوربنگلہ دیش کاساتھ دیں ان سب کی متحدہ آوازمؤثرہوگی اورآئی سی سی کویہ باورکروائیگی کی وہ انڈین کرکٹ کونسل نہیں، انٹر نیشنل کرکٹ کونسل ہے۔


