Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, April 3, 2026

خیبرپختونخواکی صورتحال

وصال محمدخان

خیبرپختونخوامیں بارشوں کی تباہ کاریاں،خواتین اوربچوں سمیت21افرادجاں بحق،60سے زائدزخمی

گزشتہ ہفتے صوبے کے میدانی اضلاع میں ہونیوالی بارشوں سے خاصاجانی اورمالی نقصان ہوا۔5روزتک جاری رہنے والی بارشوں سے 21 افرادجاں بحق جبکہ60سے زائدزخمی ہوئے۔جاں بحق ہونیوالوں میں 16بچے،4خواتین اورایک مردجبکہ زخمیوں میں 25 مرد، 7 خوا تین اور28بچے شامل ہیں۔جبکہ12مکانات بھی منہدم ہوئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق یہ نقصانات بنوں،ایبٹ آباد،شمالی وزیرستان، بٹگرام،باجوڑ،اپردیراورکوہاٹ میں ہوئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق ریسکیواوردیگرٹیمیں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق حالیہ بارشیں 4اپریل تک جاری رہنے کاامکان ہے۔

عمران خان رہائی فورس رہائی موومنٹ میں تبدیل،وزیراعلیٰ کی جانب سے رجسٹریشن کاآغاز
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران رہائی موومنٹ کیلئے رجسٹریشن کاباقاعدہ آغازکردیاہے گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے صوبائی دفتر پشاورمیں ایک اجتماع کاانعقادکیاگیاجس میں کارکنوں کی قابل ذکرتعدادنے شرکت کی۔تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاکہناتھاکہ ہمارے قائدناکردہ گناہوں کی سزاکاٹ رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ رہائی موومنٹ میں 10لاکھ افرادرجسٹرکئے جائیں گے جوبانی کی رہائی یقینی بنائیں گے۔ گزشتہ ہفتے بھی انہی سطورمیں عرض کیاگیاتھاکہ پی ٹی آئی اوروزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی کی رہائی کیلئے مروجہ طریقہ کارکی بجائے انہیں زبردستی رہاکروانے کیلئے کوشاں ہیں۔اس سے قبل صوبائی حکومت کی نگرانی میں کئی باراسلام آباد اورپنجاب پرچڑھائی کی ناکام کوششیں ہوئیں جن کا کوئی نتیجہ کیابرآمدہوناتھااُلٹادرجنوں کارکن یاتوزخمی ہوئے یاپھرپنجاب اوراسلام آبادپولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئے مگرپارٹی اورچندراہنما اب بھی بضدہیں کہ وہ بانی کوکسی احتجاج یازورزبردستی کے ذریعے رہاکروائیں گے۔

رہائی فورس کیخلاف وفاقی آئینی عدالت میں درخواست،وزیراعلیٰ اوروفاق سے جواب طلب

مجوزہ فورس یا موو منٹ پرپارٹی کے اندرسے بھی اختلافات کی خبریں سامنے آئیں جبکہ اب وفاقی آئینی عدالت نے بھی فورس کی تشکیل پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوروفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیاہے۔درخواست گزارکے وکیل نے رہائی فورس کے حوالے سے دستاویزا ت پیش کیں اور عدالت کوبتایا”سہیل آفریدی کہتے ہیں کہ ہمارامقابلہ ڈاکوؤں سے ہے،جس قسم کے بیانات دئے جارہے ہیں اس سے واضح ہورہاہے کہ یہ فورس امن عامہ اورعوام کی جان ومال کے لئے خطرہ ہے“۔آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دئے کہ سزا یافتہ فردکی رہائی کیلئے ایسی فورس نہیں بننی چاہئے، جبکہ جسٹس باقرنجفی نے استفسار کیا کہ کیا صوبائی کابینہ فورس تشکیل کی اجازت دے چکی ہے؟جس پروکیل نے بتایاکہ کابینہ نے اجازت نہیں دی۔ تین رکنی آئینی بنچ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوروفاق کونوٹس جاری کرتے ہوئے 10 روز میں جواب طلب کیااور کہا”وفاقی حکومت یقینی بنائے کہ فورس کی تشکیل میں آئین وقانون کی خلاف ورزی نہ ہو“۔رہائی فورس جس کانام اب تبدیل کرکے رہائی موومنٹ رکھ لیاگیاہے اس پرپارٹی کے اندرونی اختلافات بھی کھل کرسامنے آچکے ہیں پی ٹی آئی کے اندرونی حلقے سوال اٹھارہے ہیں کہ کیافورس کیلئے جمع کیاگیا ڈیٹامحفوظ ہے؟اگریہ ڈیٹاغلط استعمال ہواتواسکی ذمہ داری کس پرعائدہوگی اور اس کیلئے کون جواب دہ ہوگا؟ جس طرح وزیراعلیٰ سہیل آفریدی فورس کانام تبدیل کرکے موومنٹ رکھنے پرمجبورہوئے اسی طرح یہ منصوبہ ختم ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ پی ٹی آئی اوراسکے قائدین کواب سمجھ لیناچاہئے کہ عمران خان کی رہائی کسی پرتشدداحتجاجی تحریک سے نہیں قانونی اورعدالتی راستے سے ممکن ہے۔چونکہ بانی کی قانونی پوزیشن کمزورہے اسلئے پارٹی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہے۔

صوبے کومحاصل میں 100ارب روپے شارٹ فال کاسامنا،مشیرخزانہ مزمل اسلم
مشیرخزانہ مزمل اسلم نے کہاہے کہ صوبے کے محاصل میں 100ارب روپے تک کاشارٹ فال متوقع ہے اسلئے بجٹ میں جو157ارب روپے کاسرپلس ظاہرکیاگیاتھااب یہ رقم بچاناممکن نہیں۔صوبائی اسمبلی میں پری بجٹ2026-27ء پر بحث کاآغازکرتے ہوئے مشیر خزانہ کا کہناتھاکہ جاری بجٹ میں آمدن کاتخمینہ2119ارب جبکہ اخراجات کاتخمینہ1962ارب روپے لگایاگیاتھا۔ہم بجٹ وفاق سے مشاور ت کے بغیراپنے اخراجات اوروسائل کے تحت تیارکرتے ہیں آئی ایم ایف نے محاصل کی مدمیں پنجاب کو750،سندھ کو 370، بلو چستان کو 155 جبکہ خیبرپختونخواکو220ارب روپے کاٹارگٹ دیاتھااگرہم آئی ایم ایف کی مرضی سے بجٹ بناتے تو ہمارا سرپلس 220 ارب روپے ہوتا۔صوبے کا93فیصدریونیووفاق سے آتاہے وفاق کی کارکردگی متاثرہوئی اسلئے صوبے کے محاصل بھی متاثرہوئے۔ وفاق نے امسال 14ہزار130ارب روپے کاٹیکس ٹارگٹ رکھاتھامگریہ ٹارگٹ پوراہوتاہوانظرنہیں آرہااسلئے صوبے کوبھی40ارب روپے کم ملے مجموعی طورپر9ماہ میں 75ارب روپے کم ملے ہیں۔پری بجٹ بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن کیساتھ حکومتی ارکان نے بھی حکومت کوآڑے ہاتھوں لیاارکان اسمبلی کاکہناتھاکہ”بیوروکریسی کابنایاہوابجٹ ایوان میں پیش کرکے منتخب ارکان سے منظوری لی جاتی ہے، نجا نے حکومت کون چلارہاہے؟ترقیاتی بجٹ کابینہ میں تقسیم ہوجاتاہے جبکہ دیگرارکان محروم رہ جاتے ہیں، دیرموٹروے کیلئے گزشتہ برس بھی رقم مختص کی گئی مگرمنصوبہ مسلسل تاخیرکاشکارہے،صوبے کومالی طورپرمستحکم کرنے کیلئے اپنے وسائل اورآمدن میں اضافے کی ضرورت ہے، ہائیڈ رو پراجیکٹس پرکام کاآغازہوناچاہئے،گزشتہ برس سوات بائی پاس کیلئے45کروڑروپے مختص کئے گئے مگرسڑک کانام ونشان موجود نہیں، ترقیاتی منصوبوں میں پہلے محکمے والے کمیشن لیتے تھے اب پشاورمیں ہی کمیشن لیاجاتاہے،خواتین ارکان نے کہاکہ گرلزسکولوں اور کالجوں کو سنگین مسائل کا سامنا ہے، نئے گرلزسکولز اورکالجز بنانے کی اشدضرورت ہے،آئندہ بجٹ میں خواتین کیلئے سکیموں کوشامل کیا جائے، ووکیش نل سینٹرز اور کمیونٹی سکولز قائم کئے جائیں اورزراعت پرتوجہ دیکرکاشتکاروں کوسبسڈی دی جائے“۔مشیرخزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں خواتین ارکان کی تجاویز شامل کئے جائینگے،حکومتی ارکان کی تنقیدپرخوشی ہورہی ہے رمضان پیکیج کی تقسیم پراعتراضات سامنے آئے ہم نے رمضان پیکیج کے تحت 10لاکھ63ہزارافرادکی مددکی۔

خیبرپختونخواکی معیشت بھی خلیج جنگ سے متاثر،محکموں کے25ارب سے زائدکے فنڈزروک لئے گئے
خلیج جنگ کے بداثرات سے خیبرپختونخوابھی محفوظ نہ رہ سکا۔ صوبائی حکومت نے مختلف محکموں کے اے ڈی پی اورجاری اخراجات کی مد میں 25ارب روپے سے زائدکے فنڈزروک لئے ہیں۔محکمہ خزانہ ذرائع کے مطابق مارچ میں وفاق سے55تا60ارب روپے ملنے تھے مگرصرف17ارب روپے موصول ہوئے۔پاک افغان سرحدکی بندش سے بھی صوبے کو9ارب روپے کی آمدن سے محروم ہوناپڑا۔ مشیر خزانہ کے مطابق حکومت خلیج جنگ کی معیشت پراثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ معاشی حالات کے پیش نظرآئندہ کالائحہء عمل طے کیاجائیگا۔

غیرقانونی افغانوں کی واپسی کیلئے بارڈعارضی طورپرکھول دیاگیا،یہ سلسلہ جاری رہیگا
طورخم بارڈرافغان شہریوں کی بیدخلی کیلئے کھولاگیا۔امیگریشن حکام کے مطابق 11افغان شہری ڈی پورٹ کرکے افغان فورسز کے حوالے کئے گئے جبکہ مزید157افغان شہری لنڈی کوتل ہولڈنگ سینٹرمنتقل کئے گئے ہیں جہاں سے انہیں مرحلہ وارواپس بھیجا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل26مارچ کوبھی افغانیوں کی بیدخلی کیلئے سرحدکھولاگیاتھاتاہم افغان فورسزکی جانب سے فائرنگ کے بعد دوبارہ بند کردیا گیا۔حکام کاکہناہے کہ موجودہ صورتحال میں صرف ڈی پورٹیشن کیلئے بارڈرمحدودپیمانے پرکھولاگیاہے۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

خیبرپختونخواکی صورتحال

Shopping Basket