وصال محمدخان
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کادوۂ کراچی تنازعات سے بھرپور،سعیدغنی کی سندھی ٹوپی اوراجرک کاتحفہ واپس
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب کے بعدسندھ کادورہ کرکے واپس پشاورپہنچ چکے ہیں یہ دونوں دورے سٹریٹ موومنٹ اور سیاسی پروموشن کی غرض سے کئے گئے۔ پنجاب حکومت نے لاہورمیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جبکہ سندھ حکومت نے اس حوالے سے فراخ دلی کامظاہرہ کرتے ہوئے جلسے کی اجازت دی مگروزیراعلی ٰنے سندھ حکومت کی فراخ دلی کاصلہ مخالف سیاسی بیانات کے ذریعے دیا۔ جس سے حکومت سندھ اپنی فراخ دلی پرپشیمان نظرآئی۔ وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہاکہ ”ہم نے ازخودرابطہ کرکے وزیرا علیٰ سہیل آفریدی کو سیکیورٹی اورسہولیات کی یقین دہانی کروائی، ہمیں تھریٹ الرٹ بھی موصول ہواجسے ظاہرکرنامناسب نہیں تھا،سہیل آفریدی نے ہماری بلٹ پروف گاڑی لینے سے انکار کیا تاہم سیکیور ٹی لینے پررضامندی ظاہرکی جوہم نے فراہم کردی،سیکیورٹی خدشات کے باعث کچھ حساس علاقوں میں جانے سے منع کرنے کے باوجودوہ ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں گئے،اوردوسرے دن حیدرآبادجانے کا پروگرام سامنے آیا، جہاں پہنچتے ہی سندھ حکومت پرالزامات اور تنقیدکاسلسلہ شروع کردیاگیا،حالانکہ انہیں حکومت سندھ کی جانب سے مکمل سیکورٹی اورعزت دی گئی، پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس پرپتھراؤکیا،خواتین صحافیوں کوتشددکانشانہ بنایااور9مئی جیسے واقعات دہرانے کی کوشش کی، حکومت سندھ نے صبرو تحمل کامظاہرہ کرکے کوئی مقدمہ درج نہیں کروایا،اگرحکومت کسی شرارت کے موڈمیں ہوتی تومقدمات اور گرفتا ریاں کرسکتی تھی مگردانشمندانہ اورآبرومندانہ سیاست پی ٹی آئی کامطمح نظرہی نہیں وہ صرف انتشارکی سیاست جانتے ہیں یہ روئیے قابل مذمت ہیں ہم نے سیاسی رواداری کامظاہرہ کیا، پیپلزپارٹی اورپی ٹی آئی کے درمیان کسی اتحادکاامکان نہیں،پی ٹی آئی کی سیا ست انتشارپرمبنی جبکہ پیپلزپارٹی کی سیاست پرامن،جمہوری اورآئینی ہے“۔ وزیراعلیٰ نے واقعی سندھ میں مدبرانہ روئیوں کا مظاہرہ نہیں کیا سندھ حکومت نے انہیں خوش آمدیدکہا،عزت دی اجرک اورسندھی ٹوپی پہنائی جس کے بارے میں خبر ہے کہ یہ واپس کردی گئیں۔جلسے کی این اوسی میں دوگھنٹے کی تاخیر پرسہیل آفریدی سمیت دیگرراہنماؤں کی زبانیں کھل گئیں اورصدر زردار ی سمیت پوری پیپلز پارٹی کی ایسی تیسی کردی،وزیراعلیٰ نے بھٹوکی پارٹی اورزرداری کی پارٹی کاذکرچھیڑکربدمزگی کومزیدہوادی،جلسے کے مقام پر ایک اورغیرضروری تنازعہ کھڑاکردیاگیا۔بہرحال وزیراعلیٰ کے گزشتہ دونوں دورے ناخوشگواررہے۔ پنجاب حکومت نے سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں دی تو اسے مطعون کیاگیااوراسکی جانب سے روارکھے گئے روئیے پرتنقیدکی گئی جبکہ سندھ حکومت نے فری ہینڈدیا،مہمان نواز ی کی،پروٹوکول دیاتو اسے بھی اچھاصلہ نہیں ملا۔اس حوا لے سے پنجاب حکومت فائدے میں رہی،نہ ہی کسی سیاسی سرگرمی کی اجازت دی نہ ہی کسی تردد میں پڑی اورنہ ہی کسی بن بلائے مہمان کو پروٹوکول دیابس کان لپیٹ کریاانگلیاں ٹھونس کرزبان درازیوں کاسامناکیاجبکہ سندھ حکومت نے احسان کیاتواسے بھی وہی سخت سست سننا پڑا۔
صوبے میں امن وامان کی صورتحال ناگفتہ بہہ،ٹانک میں پولیس کی بکتربندگاڑی پرحملے میں 7شہید
جس دن اخبارات کی سرخیوں میں سہیل آفریدی کے بیانات اورسندھ کی سرگرمیاں چمک رہی تھیں۔ اسی دن ٹانک میں پولیس کی بکتر بندگاڑی پرحملے میں ایس ایچ اوسمیت آٹھ اہلکاروں کے شہادت کی خبر بھی موجودتھی۔ بکتربند گاڑی ٹا نک سے گومل جارہی تھی کہ راستے میں دہشتگردوں نے آئی ای ڈی بم سے نشانہ بنایا دھماکہ اتنازوردارتھاکہ شہداء کے اعضابکھرگئے۔ لکی مروت میں بھی دہشتگردوں نے پولیس کی بکتربندگاڑی کونشانہ بنایاجس میں ایس ایچ اوسمیت دواہلکارزخمی ہوئے، بنوں تھانہ میراخیل کی حدودمیں دودہشتگردہلاک کردئے گئے، جن کے قبضے سے اسلحہ اورٹی ٹی پی کے کارڈزبرآمدہوئے،اورکزئی میں امن لشکراورکالعدم تنظیم کے درمیان جھڑپ کے دوران 3 دہشتگرد ہلاک جبکہ دورضاکارشہیدہوگئے، بنوں میں پولیس نے چیک پوسٹ نالہ کاشوپرحملہ ناکام بنادیا۔صرف چار اضلاع سے آمدہ مندرجہ بالا خبریں ایک دن کی ہیں جب وزیراعلیٰ کراچی کی سڑکوں پرمٹرگشت کررہے تھے۔اسکے علاوہ وادی تیراہ جوکہ وزیر اعلیٰ کاآبائی علاقہ ہے وہاں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کی تیاری ہورہی ہے۔10جنوری سے نقل مکانی شروع ہوچکی ہے۔ یہ عمل مکمل ہونے کے بعد5اپریل تک آپریشن مکمل کیاجائیگااورمقامی باشندے واپس اپنے گھروں کوجائیں گے۔صوبے میں امن وامان کی صورتحال بے قابو ہے جبکہ وزیراعلیٰ دیگرصوبوں کے سیاسی دوروں میں مصروف ہیں۔صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں نے ان روئیوں کوغیرذمہ دارانہ قراردیاہے۔ اس سے قبل گورنرفیصل کریم کنڈی نے سندھ حکومت سے این ایف سی میں ووٹ کیلئے رابطہ کیاتھا۔ خیبرپختونخوا این ایف سی میں اپناحصہ بڑھانا چاہتا ہے جس کیلئے دوصوبوں کے ووٹ کی ضرورت ہے۔سندھ حکومت نے فیصل کریم کنڈی کو مثبت جواب دیاتھامگر سہیل آفریدی کے دورے سے گورنرکی کوشش کوبھی دھچکالگاہے۔ اسکے علاوہ پنجاب فارنزک لیب کی ایک رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ وزیراعلی سہیل آفریدی 9 مئی واقعات میں ملوث ہیں۔پولیس نے ریڈیوپشاورپرحملے کی14ویڈیوزپنجاب فارنزک لیب کوبھجوائی تھیں جن میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی،عرفان سلیم،تیمورجھگڑااورکامران بنگش کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے تجزیہ کاراس نئی پیشرفت کووزیراعلیٰ کیلئے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔
دہشتگردی میں افغانستان کے ملوث ہونے کے ثبوت مانگناغیرذمہ دارانہ ہے،گورنرفیصل کنڈی
گورنرفیصل کریم کنڈی نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ طالبان اورافغانستان کی نمائندگی کرنیکی بجائے اپنے صوبے میں پائیدارامن کیلئے سنجیدہ اقدامات کریں،دہشتگردی میں ملوث ہونے کے ثبوت مانگنا غیرضروری ہے، یہ استفساروہ اپنے آئی جی سے کرسکتے ہیں وہ انہیں تمام معاملات سے باخبرکردینگے اگرخیبرپختونخوامیں افغانستان سے دہشتگردی نہیں ہورہی تووزیراعلی ٰکوبتادیناچاہئے کہ یہ کہاں سے ہورہی ہے؟ وہ بھی تواس صوبے کے چیف ایگزیکٹیوہیں یہ ذمہ داری ان پربھی عائدہوتی ہے کہ وہ خودکوصوبے کے حالات سے باخبررکھیں، صوبے کے ضم اوربندوبستی اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں،پولیس اورمسلح افواج کے جوان دہشتگردی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے ہیں صوبائی حکومت کواس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومت اپنی ہی ریا ست سے افغانستان سے ہونیوالی دہشتگردی کے ثبوت مانگ رہی ہے حالانکہ پوری دنیااوراقوم متحدہ کے رپورٹس گواہ ہیں کہ افغان سرزمین پاکستا ن کیخلاف استعمال ہورہی ہے۔پوری پارٹی کے پاس وفاق میں اپوزیشن لیڈرکیلئے کوئی فردموجودنہیں نجانے اچکزئی کب ایکسپائر ہونگے؟سندھ حکومت نے وزیراعلیٰ کوسیکیورٹی اور پرو ٹو کول دیامگراپنی عادت کے مطابق پیپلزپارٹی کیخلاف نازیبازبان استعمال کی گئی۔ انہوں نے وزیر اعظم شہبازشریف سے درخواست کی کہ وہ خیبرپختونخوا آئیں اوریہاں بھی دانش سکولزکھولیں اورلیپ ٹاپس دیں۔ انہوں نے پی سی بی سے اپیل کی کہ وہ صوبہ میں عالمی معیارکے کرکٹ سٹیڈ یمزتعمیر کرے۔


