Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Friday, February 13, 2026

حکمران جماعت صوبے میں کاروبارِزندگی معطل کروانے میں ناکام،ہڑتال سے عوام کااظہارلاتعلقی

وصال محمدخان
حکمران جماعت نے سٹریٹ موومنٹ کے تحت 8فروری کوملک بھرمیں شٹرڈاؤن اورپہیہ جام ہڑتال کی کال دے رکھی تھی۔دیگرصوبوں سے آمدہ اطلاعات کے مطابق کہیں بھی ہڑتال کی اس کال کواہمیت نہیں دی گئی جبکہ خیبرپختونخوامیں بھی دُکانیں معمول کے مطابق کھلی رہیں اورسڑکوں پرٹریفک رواں دواں رہی۔کچھ اضلاع میں ایم پی ایز،ایم این ایزنے مصروف چوراہوں میں عوامی اجتماعات منعقدکئے جس میں کارکنوں کی معمولی تعدادنے شرکت۔چندمقامات پرپی ٹی آئی کارکنوں نے زبردستی دکانیں اورشاہراہیں بند کروا نے کی کوششیں کیں جہا ں تاجروں اورمسافروں سے توتکراربھی ہوئی۔زبردستی دوکانیں بندکروانے اورتاجروں کیخلاف تشدد کی ویڈیوزبھی سوشل میڈیاکی زینت بنیں جبکہ صوابی میں اسی معاملے پرایف آئی آرزبھی درج کروائی گئیں۔بلاشبہ صوبے میں مجموعی طورپرپہیہ جام اور شٹرڈاؤن ہڑتال کی کال کو مسترد کیاگیامگرحکمران جماعت اور سوشل میڈیاورکرزبضدہیں کہ ہڑتال کامیاب رہی۔دوسری جانب حکمران جماعت اند ر و نی طورپربھی انتشارکاشکارنظرآرہی ہے گزشتہ ہفتے صوبائی صدرجنیداکبرکی ایک آڈیولیک ہوئی جس میں وہ پارٹی سے شکوہ کناں ہیں کہ مجھے اسمبلی فلور پر بات کرنے نہیں دیا جاتا۔ معتبرذرائع کادعویٰ ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقا تیں کھلنے پر جنیداکبرکی صوبائی صدارت کاخاتمہ یقینی ہے۔انکی جگہ صوبائی وزیر میناخان آفریدی یا شاہد خٹک لے سکتے ہیں یہ دونوں سہیل آفرید ی کے انتہائی قریب سمجھے جارہے ہیں۔ حکمران جماعت ایک بارپھرتحریک کی باتیں کرنے لگی ہیں سوشل میڈیا پربازارگرم کیاگیاہے کہ سہیل آفرید ی کیلئے کنٹینرتیارہورہا ہے اورتحریک کاٹائٹل ہوگا آزادی یاموت۔گزشتہ چاربرسوں میں صوبائی حکو متو ں کووفاق کیخلاف تحریکوں کیلئے استعما ل کیاجارہاہے مگرہرتحریک کے نتائج توقعات کے برعکس اورپی ٹی آئی کیلئے ندامت کاباعث بن رہے ہیں۔ پرویز خٹک دورمیں علی امین گنڈاپورکی شہدوالی بوتل سمیت دوڑہویاگزشتہ تینوں وزرائے اعلیٰ کے ناکام لانگ مارچز ہو ں تمام کے نتائج خلاف توقع رہے اسکے باوجود حکمران جماعت تحریک سے بازنہیں آرہی۔ ایک بڑے مکتبہ فکرکاخیال ہے کہ یہ تحریکیں اورلانگ مارچز محض کار کنوں کومتحرک رکھنے کابہانہ ہے۔ اگرواقعی کسی تحریک کی تیاریاں ہورہی ہیں تواسکے خدوخال رمضان اور عیدکے بعدہی واضح ہونگے۔
پشاورہائیکورٹ نے گریڈ18اوراس سے اوپرپولیس افسران کے تقرروتبادلوں کااختیاروزیراعلیٰ کودینے کااقدام کالعدم قراردیدیاہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اورجسٹس محمداعجازخان پرمشتمل دورکنی بنچ نے جاری کیاہے۔عدالت نے خیبرپختونخواترمیمی ایکٹ 2024ء کوکالعدم کرکے آئی جی پی کے اختیارکوبرقراررکھاہے عدالت نے واضح کیاہے کہ”پولیس کوسیاسی اثرورسوخ کے تحت لاناآئین کی روح کے منافی ہے بلکہ یہ اقدام شہریوں کے بنیادی حقوق کیلئے بھی سنگین خطرہ ہے“۔۔28صفحات پرمشتمل فیصلے میں قراردیاگیاہے کہ ”2024ء کے ترامیم نے پولیس کی پیشہ ورانہ آزادی کوعملاًختم کردیاہے،گریڈ18اوراس سے اوپرکے افسران کی تعیناتی کووزیراعلیٰ کی منظور ی سے مشروط کرنااورانسپکٹرجنرل آف پولیس سے فیلڈکمانڈرزکی تقرری کاقانونی اختیارواپس لیناپولیس سٹرکچرکوکمزورکرنے کے مترا دف ہے،ان اقدامات کے نتیجے میں پولیس قانون کی عملداری کی بجائے سیاسی مفادات کی تابع بن جاتی ہے،آئین کے تحت ایگزیکٹیو کوپولیس
پرصرف عمومی پالیسی اورنگرانی کااختیارحاصل ہے جسے آئینی اصطلاح میں ’سپرانٹنڈنس‘کہاجاتاہے۔تاہم روزمرہ انتظامی امور تباد لے، تعیناتیاں اورفیلڈکمانڈجیسے معاملات میں مداخلت آئینی دائرۂ اختیارسے تجاوزہے،جب فیلڈکمانڈسیاسی منظوری کی محتاج ہو جائے تو شہر یو ں کے حق زندگی آرٹیکل9،منصفانہ ٹرائل کے حق آرٹیکل 10اورمساوات کے حق آرٹیکل25 کوشدیدخطرات لاحق ہو جاتے ہیں“۔ عدالت نے ریڈنگ ڈاؤن کے اصول کواپناتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پولیس کو دئے جانیوالے ہدایتی اختیارات صرف پالیسی معاملات تک محدودکردئے اورواضح کیاکہ”ان اختیارات کوکسی بھی صورت انفرادی فیصلوں یا افسران کی تعیناتی اورتبادلوں تک وسعت نہیں دی جا سکتی“۔ حکومت مذکوہ فیصلے کیخلاف آئینی عدالت میں اپیل دائرکرنے کاارادہ رکھتی ہے ایڈوکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل کے مطابق”ہائی کورٹ کافیصلہ غیرآئینی اورغیرقانونی ہے درخواست میں جن کوفریق بنایاگیاتھاانہیں سناہی نہیں گیااوریکطرفہ فیصلہ جاری کردیاگیا“۔ وزیر قانو ن آفتاب عالم نے فیصلے کوآئینی عدالت میں چیلنج کرنے کاعندیہ دیاہے ان کاکہناتھاکہ”فیصلہ منتخب جمہوری نمائندوں کے آئینی اختیا را ت کومجروح کرتاہے،آئین کاآرٹیکل 129 صوبے کی انتظامی اتھارٹی کو وزیراعلیٰ اورصوبائی کابینہ میں مرتکزکرتاہے،مذکورہ فیصلہ آئین پاکستا ن کے دیباچے، اساس اورجمہوری ڈھانچے کی روح سے متصادم ہے،فیصلہ نہ صرف منتخب نمائندوں کے آئینی اختیارات کو مجروح کر تا ہے بلکہ یہ انہیں عملاًغیرمؤثربنانے کی دانستہ کوشش بھی ہے“۔یادرہے پولیس ایکٹ 2017ء پرویزخٹک دورمیں منظور کروایا گیاتھا۔ جب ناصر درانی صوبے کے آئی جی پولیس تھے توطویل غوروخوض اورچھان پھٹک کے بعدیہ اختیارات ایگزیکٹوسے آئی جی کومنتقل کئے گئے تھے جو تحریک انصاف کے منشورکے عین مطابق تھااوراس پرخاصی دادسمیٹی گئی تھی کہ خیبرپختونخواکی پولیس کومثالی پولیس بنادیاگیاہے مگر گنڈا پور دور میں اسی ایکٹ میں ترامیم کرکے یہ اختیارات وزیراعلیٰ کومنتقل کردئے گئے یعنی جس کام کوانجام دینے پرشادیانے بجائے گئے تھے اور دیگر صوبوں کومطعون کیاگیاتھاکہ وہ یہ کارنامہ انجام دینے سے قاصرہیں پورے ملک میں صرف تحریک انصاف کی حکومت نے پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزادکردیاہے مگرمحض چندسال بعدنہ صرف ایکٹ میں ترامیم کی گئیں بلکہ اب ہائیکورٹ کافیصلہ آئینی عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیاگیاہے۔
کرکٹ بورڈکے چیئرمین محسن نقوی نے پشاورمیں پی ایس ایل کے میچزمنعقدکرانے کااعلان کیاہے جس سے صوبے کے شائقین کرکٹ میں خوشی کی لہردوڑگئی ہے۔پشاورمیں سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں نشاندہی کی گئی کہ صوبے کوبین الاقوامی کرکٹ مقابلوں اورپی ایس ایل میں نظراندازکیاجاتاہے جس پرمحسن نقوی نے رواں برس ہونیوالے مقابلوں کے میچزپشاورمیں منعقدکرانے کی یقین دہانی کروائی ہے محسن نقوی کاکہناتھاکہ قومی ٹیم میں 60فیصدکھلاڑیوں کاتعلق خیبرپختونخواسے ہے یہ صوبہ کرکٹ ٹیلنٹ سے مالامال ہے۔ای پیکس کمیٹی اور اسکے بعدسیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگزکے حوالے سے محسن نقوی کاکہناتھاکہ پاکستان دہشتگردی کیخلاف حالت جنگ میں ہے ترلائی اسلام آباد کے امام بارگاہ حملے کے ملزمان کی گرفتاری میں پختونخوا پولیس نے اہم کرداراداکیاسی ٹی ڈی کی کارکردگی بھی قابل ستائش ہے۔یادرہے پشاورمیں ارباب نیاز سٹیڈ یم کانام گنڈاپورحکومت نے تبدیل کرکے عمران خان سٹیڈیم رکھ دیاہے۔صوبے میں میچزکے انعقادمیں یہ ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ فی الحال محسن نقوی کی جانب سے محض اعلان سامنے آیاہے اب دیکھیں اس پرعملدرآمدہوتاہے یایہ محض اعلان ثابت ہوتاہے کیونکہ صوبے میں امن وامان کی صورتحال کے پیش نظرکرکٹ میچزکاانعقاد مشکل دکھائی دے رہاہے۔ صوبائی حکومت کو محض اعلان پرشادیانے بجانے کی بجائے امن وامان پرتوجہ دیناہوگی۔

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

حکمران جماعت صوبے میں کاروبارِزندگی معطل کروانے میں ناکام،ہڑتال سے عوام کااظہارلاتعلقی

Shopping Basket