وصال محمدخان
وطن عزیزمعاشی طورپراستحکام کی جانب گامزن ہے۔ سٹاک ایکس چینج تاریخ کی بلندترین سطح پرہے ،شرح سودمیں مزیددوفیصدکمی ہوچکی ہے کئی آئی پی پیزسے معاہدوں پرنظرثانی کاعمل جاری ہے۔ سعودی عرب اورچین کیساتھ اقتصادی روابط اور باہمی تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے ،بین الاقوامی مالیاتی اداروں کااعتمادنہ صرف بحال ہواہے بلکہ بڑھاہے ،بیرونی ادائیگیوں کی حالت بہترہوئی ہے اورمجموعی طورپرخاصی بہتری محسوس کی جارہی ہے مگرملک سیاسی طورپر استحکام سے کوسوں دورہے ۔اسکی بڑی وجہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ملک میں افرا تفری کاتاثردیناہے ۔تحریک انصاف کواگرچہ عوامی پذیرائی حاصل ہے مگراسکی قیادت عوامی امنگوں کاخون کرنے پرتلی ہوئی ہے۔اس پارٹی کی ساری قیادت کے حرکات وسکنات اوربیانات پرنظردوڑائی جائے توان میں تضادکاعنصرنمایاں ہے اور سیاسی بصیرت وبصارت کافقدان واضح طورپرمحسوس کیاجاسکتاہے۔ 24نومبرکواحتجاج بلکہ خودساختہ انقلاب کی ناکامی پرپارٹی راہنماؤں نے مذاکرات کی گردان شروع کر دی ہے۔ اس کاآغازعلامتی پارٹی چیئرمین گوہرخان کی جانب سے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران ہواجب انہوں نے حکومت کو مذاکرا ت کی دعوت دی۔اس سے قبل یہ جماعت فوج کے سواکسی سے مذاکرات کی روادارنہیں تھی اوراسکے قائدببانگ دہل کمیٹی بناکرفوج کو مذاکرا ت کی دعوت دے چکے ہیں حالانکہ سیاسی مذاکرات فوج کے دائرۂ اختیارمیں نہیں اورنہ ہی فوج نے اس سلسلے میں کسی دلچسپی کااظہارکیاہے بلکہ فوج سیاست میں عدم مداخلت کااعلان کرچکی ہے اوراس پالیسی پرسختی سے کاربندہے مگریہ جماعت اسے سیاست میں ملوث کرنیکی بھر پور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہے بلکہ اسکی سیاست کامحورہی فوج ہے ۔یہ خودتوپیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے غافل ہیں سیاستدان اورسیاسی جماعت کی ذمہ داری ملک اورعوام کی فلاح وبہبودکیلئے منصوبہ بندی کرنی ہوتی ہے مگراس انوکھی سیاسی جماعت کے مطابق فوج کوسیاست میں ملوث کرنااور سیاسی بیان بازیوں کانشانہ بناکراسکی توجہ بھی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے ہٹاناہے۔پی ٹی آئی نے حکومت کو مذاکرات کی جودعوت دی ہے یہ لائق ستائش ہے مگرکسی بھی مذاکرات کی کامیابی یاان سے مطلوبہ مقاصدکاحصول ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔پی ٹی آئی راہنماؤں کے بیانات دربیانات اوران میں ان گنت تضادات سے واضح ہورہاہے کہ مذاکرات کایہ اونٹ بمشکل کسی کروٹ بیٹھ سکے گا ۔ کیونکہ پارٹی کاہرراہنمامذاکرات کے حوالے سے مختلف رائے کااظہارکررہاہے ۔عجوبہء روزگاراپوزیشن لیڈرنے توفرشتوں سے بھی مذاکرات کاعندیہ دے دیا،کوئی کہتاہے کہ ہماری شرائط تسلیم ہونگیں تومذاکرات کرینگے اگرشرائط مذاکرات سے قبل ہی تسلیم ہوجائیں تو مذاکرات کس مقصدکیلئے ہونگے ؟بلاشبہ مذاکرات ،گفت وشنیداورڈائیلاگ جمہوریت اورسیاست کاحسن ہے ۔مذاکرات کی افادیت سے کسی بھی وقت انکارنہیں کیاجاسکتامتحارب فریق جنگ وجدل اورخون ریزی کے بعدبھی مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کے حل پراتفاق کرتے ہیں مگرمذاکرات کیلئے اولین شرط سنجیدگی ہے ۔پی ٹی آئی اگرحکومت کیساتھ مذاکرات پرآمادہ ہوئی ہے اوروہ سمجھتی ہے کہ اب تک مذاکرات سے انکارکرکے اورمحاذآرائی کے راستے پرچل کر وہ اپناکوئی بھلاکرسکے اورنہ ہی انکی جنگ وجدل سے ملک وقوم کاکوئی فائدہ ہوا۔ وہ گزشتہ پونے تین برسوں سے فوج کوسیاست میں ملوث کرنے اوران سے ہی مذاکرات پربے جااصرارکرتے رہے اب انہیں احساس ہو چکا ہے کہ وہ حکومت کیساتھ سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل کرسکتے ہیں تویہ خوش آئند ہے دیرآئددرست آئدکے مصداق یہ احسا س خاصی دیرکے بعدہواہے مگراب بھی کچھ زیادہ نہیں بگڑا۔اگریہ بطورجماعت محاذاآرائی ،قومی اداروں کی تضحیک اورانہیں متنازعہ بنانے جیسے حرکات سے بازآناچاہتے ہیں توحکومت کوانہیں خوش آمدیدکہناچاہئے اوربامقصدمذاکرات کے ذریعے کچھ لواورکچھ دوکے تحت مسائل کاحل نکالناچاہئے ۔حکومت میں چونکہ تجربہ کارسیاستدان موجودہیں اورمسائل سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں انہیں ملکہ حاصل ہے ذمہ دارذرائع مطابق 24نومبرکے احتجاج سے قبل بھی حکومت پی ٹی آئی کورعایتیں دینے پرآمادہ ہوچکی تھی مگرسیاسی تدبرسے عاری قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔اوراب ازخودمذاکرات پرآمادگی ظاہرکررہی ہے ۔مذاکرات کیلئے بہترین طرزعمل یہ ہوگاکہ پی ٹی آئی نے اس مقصدکیلئے جوکمیٹی بنائی ہے وہ حکومتی ذمہ داروں سے رابطہ کرے اوران سے مذاکرات کیلئے بااختیارکمیٹی بنانے کامطالبہ کریں اس کمیٹی کیساتھ نشتسوں کااہتمام کرے اورہونے والے مذاکرات پربیان بازی سے احترازکرے ۔بے جابیان بازیوں اورشعلہ بیانیوں سے بنے بنائے کام بگڑجاتے ہیں پی ٹی آئی راہنماؤں کوچونکہ بولنے کے سواکوئی کام نہیں آتامگراب جب کہ انہوں نے از خودحکومت کومذاکرات کی پیشکش کی ہے تواس کیلئے سنجیدگی بھی دکھائے اوراس اقدام کوسیاسی بیان بازی کی نذرکرنے سے گریزکریں۔ وزیر اعظم کے سیاسی مشیر راناثناء اللہ نے مذاکرات کی پیشکش کاخیرمقدم کرکے مثبت جواب کاعندیہ دیاہے ۔پارٹی کے علامتی چیئرمین گوہر خان کوایک سنجیدہ اورمعقول شخص سمجھاجاتاہے انہیں چاہئے کہ پارٹی کے تمام راہنماؤں کومذاکرات پر بیان بازی سے روکیں مذاکراتی کمیٹی کو بھی اس حوالے سے بیان جاری کرنے سے روکاجائے ۔پی ٹی آئی قیادت عرصہ درازتک مذاکرات کی پیشکشوں کوحقارت سے ٹھکرانے کے بعداگر مذاکرا ت کی اہمیت کوسمجھ ہی چکی ہے تواسے سنجیدگی اورتدبرسے پایہء تکمیل تک بھی پہنچادیں ۔ بگڑتے ہوئے بین الاقوامی حالات کے پیش نظراندرونی طورپرسیاسی مذاکرات کی ضرورت و اہمیت کئی گنابڑھ چکی ہے امیدہے دونوں جانب سے مثبت روئیوں ،سیاسی تدبر،دانش اورہوشمندی کامظاہرہ کیاجائیگاکیونکہ ہوشمندی میں ہی سربلندی ہے۔
وطن عزیزمعاشی طورپراستحکام کی جانب گامزن ہے۔ سٹاک ایکس چینج تاریخ کی بلندترین سطح پرہے ،شرح سودمیں مزیددوفیصدکمی ہوچکی ہے کئی آئی پی پیزسے معاہدوں پرنظرثانی کاعمل جاری ہے۔ سعودی عرب اورچین کیساتھ اقتصادی روابط اور باہمی تعاون میں اضافہ ہو رہا ہے ،بین الاقوامی مالیاتی اداروں کااعتمادنہ صرف بحال ہواہے بلکہ بڑھاہے ،بیرونی ادائیگیوں کی حالت بہترہوئی ہے اورمجموعی طورپرخاصی بہتری محسوس کی جارہی ہے مگرملک سیاسی طورپر استحکام سے کوسوں دورہے ۔اسکی بڑی وجہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے ملک میں افرا تفری کاتاثردیناہے ۔تحریک انصاف کواگرچہ عوامی پذیرائی حاصل ہے مگراسکی قیادت عوامی امنگوں کاخون کرنے پرتلی ہوئی ہے۔اس پارٹی کی ساری قیادت کے حرکات وسکنات اوربیانات پرنظردوڑائی جائے توان میں تضادکاعنصرنمایاں ہے اور سیاسی بصیرت وبصارت کافقدان واضح طورپرمحسوس کیاجاسکتاہے۔ 24نومبرکواحتجاج بلکہ خودساختہ انقلاب کی ناکامی پرپارٹی راہنماؤں نے مذاکرات کی گردان شروع کر دی ہے۔ اس کاآغازعلامتی پارٹی چیئرمین گوہرخان کی جانب سے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران ہواجب انہوں نے حکومت کو مذاکرا ت کی دعوت دی۔اس سے قبل یہ جماعت فوج کے سواکسی سے مذاکرات کی روادارنہیں تھی اوراسکے قائدببانگ دہل کمیٹی بناکرفوج کو مذاکرا ت کی دعوت دے چکے ہیں حالانکہ سیاسی مذاکرات فوج کے دائرۂ اختیارمیں نہیں اورنہ ہی فوج نے اس سلسلے میں کسی دلچسپی کااظہارکیاہے بلکہ فوج سیاست میں عدم مداخلت کااعلان کرچکی ہے اوراس پالیسی پرسختی سے کاربندہے مگریہ جماعت اسے سیاست میں ملوث کرنیکی بھر پور کوششیں جاری رکھی ہوئی ہے بلکہ اسکی سیاست کامحورہی فوج ہے ۔یہ خودتوپیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے غافل ہیں سیاستدان اورسیاسی جماعت کی ذمہ داری ملک اورعوام کی فلاح وبہبودکیلئے منصوبہ بندی کرنی ہوتی ہے مگراس انوکھی سیاسی جماعت کے مطابق فوج کوسیاست میں ملوث کرنااور سیاسی بیان بازیوں کانشانہ بناکراسکی توجہ بھی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے ہٹاناہے۔پی ٹی آئی نے حکومت کو مذاکرات کی جودعوت دی ہے یہ لائق ستائش ہے مگرکسی بھی مذاکرات کی کامیابی یاان سے مطلوبہ مقاصدکاحصول ایک سنجیدہ معاملہ ہے ۔پی ٹی آئی راہنماؤں کے بیانات دربیانات اوران میں ان گنت تضادات سے واضح ہورہاہے کہ مذاکرات کایہ اونٹ بمشکل کسی کروٹ بیٹھ سکے گا ۔ کیونکہ پارٹی کاہرراہنمامذاکرات کے حوالے سے مختلف رائے کااظہارکررہاہے ۔عجوبہء روزگاراپوزیشن لیڈرنے توفرشتوں سے بھی مذاکرات کاعندیہ دے دیا،کوئی کہتاہے کہ ہماری شرائط تسلیم ہونگیں تومذاکرات کرینگے اگرشرائط مذاکرات سے قبل ہی تسلیم ہوجائیں تو مذاکرات کس مقصدکیلئے ہونگے ؟بلاشبہ مذاکرات ،گفت وشنیداورڈائیلاگ جمہوریت اورسیاست کاحسن ہے ۔مذاکرات کی افادیت سے کسی بھی وقت انکارنہیں کیاجاسکتامتحارب فریق جنگ وجدل اورخون ریزی کے بعدبھی مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل کے حل پراتفاق کرتے ہیں مگرمذاکرات کیلئے اولین شرط سنجیدگی ہے ۔پی ٹی آئی اگرحکومت کیساتھ مذاکرات پرآمادہ ہوئی ہے اوروہ سمجھتی ہے کہ اب تک مذاکرات سے انکارکرکے اورمحاذآرائی کے راستے پرچل کر وہ اپناکوئی بھلاکرسکے اورنہ ہی انکی جنگ وجدل سے ملک وقوم کاکوئی فائدہ ہوا۔ وہ گزشتہ پونے تین برسوں سے فوج کوسیاست میں ملوث کرنے اوران سے ہی مذاکرات پربے جااصرارکرتے رہے اب انہیں احساس ہو چکا ہے کہ وہ حکومت کیساتھ سیاسی مذاکرات کے ذریعے ہی مسائل حل کرسکتے ہیں تویہ خوش آئند ہے دیرآئددرست آئدکے مصداق یہ احسا س خاصی دیرکے بعدہواہے مگراب بھی کچھ زیادہ نہیں بگڑا۔اگریہ بطورجماعت محاذاآرائی ،قومی اداروں کی تضحیک اورانہیں متنازعہ بنانے جیسے حرکات سے بازآناچاہتے ہیں توحکومت کوانہیں خوش آمدیدکہناچاہئے اوربامقصدمذاکرات کے ذریعے کچھ لواورکچھ دوکے تحت مسائل کاحل نکالناچاہئے ۔حکومت میں چونکہ تجربہ کارسیاستدان موجودہیں اورمسائل سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں انہیں ملکہ حاصل ہے ذمہ دارذرائع مطابق 24نومبرکے احتجاج سے قبل بھی حکومت پی ٹی آئی کورعایتیں دینے پرآمادہ ہوچکی تھی مگرسیاسی تدبرسے عاری قیادت اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی۔اوراب ازخودمذاکرات پرآمادگی ظاہرکررہی ہے ۔مذاکرات کیلئے بہترین طرزعمل یہ ہوگاکہ پی ٹی آئی نے اس مقصدکیلئے جوکمیٹی بنائی ہے وہ حکومتی ذمہ داروں سے رابطہ کرے اوران سے مذاکرات کیلئے بااختیارکمیٹی بنانے کامطالبہ کریں اس کمیٹی کیساتھ نشتسوں کااہتمام کرے اورہونے والے مذاکرات پربیان بازی سے احترازکرے ۔بے جابیان بازیوں اورشعلہ بیانیوں سے بنے بنائے کام بگڑجاتے ہیں پی ٹی آئی راہنماؤں کوچونکہ بولنے کے سواکوئی کام نہیں آتامگراب جب کہ انہوں نے از خودحکومت کومذاکرات کی پیشکش کی ہے تواس کیلئے سنجیدگی بھی دکھائے اوراس اقدام کوسیاسی بیان بازی کی نذرکرنے سے گریزکریں۔ وزیر اعظم کے سیاسی مشیر راناثناء اللہ نے مذاکرات کی پیشکش کاخیرمقدم کرکے مثبت جواب کاعندیہ دیاہے ۔پارٹی کے علامتی چیئرمین گوہر خان کوایک سنجیدہ اورمعقول شخص سمجھاجاتاہے انہیں چاہئے کہ پارٹی کے تمام راہنماؤں کومذاکرات پر بیان بازی سے روکیں مذاکراتی کمیٹی کو بھی اس حوالے سے بیان جاری کرنے سے روکاجائے ۔پی ٹی آئی قیادت عرصہ درازتک مذاکرات کی پیشکشوں کوحقارت سے ٹھکرانے کے بعداگر مذاکرا ت کی اہمیت کوسمجھ ہی چکی ہے تواسے سنجیدگی اورتدبرسے پایہء تکمیل تک بھی پہنچادیں ۔ بگڑتے ہوئے بین الاقوامی حالات کے پیش نظراندرونی طورپرسیاسی مذاکرات کی ضرورت و اہمیت کئی گنابڑھ چکی ہے امیدہے دونوں جانب سے مثبت روئیوں ،سیاسی تدبر،دانش اورہوشمندی کامظاہرہ کیاجائیگاکیونکہ ہوشمندی میں ہی سربلندی ہے۔


