Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Wednesday, January 28, 2026

تیراہ آپریشن اورغیرسنجیدگی

وصال محمدخان
وادی تیراہ ضم قبائلی ضلع خیبرکادورافتادہ علاقہ ہے جہاں گزشتہ دوعشروں سے مختلف شکلوں میں دہشتگردقابض ہیں۔2013میں جب راقم نے وادی تیراہ کاسفرکیاتھااس وقت وہاں لشکراسلام نامی تنظیم قابض تھی۔جس نے اپنی مرضی کی حکومت قائم کررکھی تھی جوتنازعات کے فیصلے کرتی تھی،دیگرگروہوں سے علاقے کی حفاظت کرتی تھی،مدرسے قائم کئے گئے تھے،نسواراورسگریٹ سمیت ہر قسم کے منشیات کے استعما ل کی ممانعت تھی اورہرخاندان پرفرض تھاکہ وہ لشکراسلام میں یاتوایک فرد دیں یاپھرہرماہ مبلغ چھ ہزارروپے قابض تنظیم کی خدمت میں پیش کریں جسے جزیہ یاچندہ کانام دیاگیاتھا۔ہرقسم کی منشیات حتیٰ کہ سگریٹ اورنسوارپرپابندی تھی کسی فردسے سگریٹ برآمدہوتی تواسکے دونوں ہونٹ سی دئے جاتے تھے۔ اس دوران مجرم کچھ کھانے پینے اوربولنے سے قاصرہوتا۔نسواراستعمال کرنے والے کیلئے ایک جہازی سائز پیالے میں نسواراورپانی کامحلول بنالیاجاتااورپرہجوم مقام پریہ پیالہ’مجرم‘ کو پلایا جاتا۔ میں نے اس وقت کے بادشاہ سلامت کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ جناب منشیات پرآپ نے مکمل پابندی لگائی ہوئی ہے مگر چرس کے میلے لگتے ہیں جس میں اگرچہ چرس پینے یا اسے استعمال کرنے پرپابندی ہے مگراسے فروخت کرنے پرکوئی پابندی نہیں درس نامی قصبے کے میلے میں چرس کی بوریاں بھری پڑی ہیں۔ توحضرت کاجواب تھاکہ منشیات ایک لعنت ہے اسلئے ہم نے یہاں پابندی لگائی ہوئی ہے مگر چرس یہاں کی معیشت ہے جسے بندنہیں کیاجا سکتا۔یہ علااقہ چونکہ انتہائی دورافتادہ ہے راستے دشوارگزارہیں باڑہ کے راستے پہنچنا قدرے آسان ہے مگر2013ء میں باڑہ کاراستہ بند کیاگیاتھااسلئے ہمیں ہنگو،ٹل،پاراچنار،کرم اوراورکزئی ایجنسی سے ہوکرتیراہ تک پہنچنا پڑا تھا۔ میں نے توصرف درس نامی قصبے میں چرس اوراسلحے کاجمعرات بازاردیکھاتھاجس میں ہردوکاندارنے آٹھ دس بوریاں بھر کر چرس اپنے سامنے رکھی ہوئی تھی جیسے ہمارے ہاں اتوار یا جمعہ بازاروں میں آلواورپیازرکھے جاتے ہیں۔اسکے علاوہ جوفرداپنی بندوق فروخت کرنے کاخواہاں ہوتاوہ چٹائی بچھاکراس پراپنی بندوق اوراسکے ساتھ میگزین وغیرہ سجا کر رکھ دیتا۔قصہ مختصراس وقت وہاں پاکستانی قانون کی عملداری نہ ہونے کے برابرتھی۔جگہ جگہ لشکراسلام کے چیک پوسٹ قائم تھے جس میں ”مجاہدین“ کے پاس واکی ٹاکی کامواصلاتی سسٹم ہوتاتھاجس سے وہ ایکدوسرے کیساتھ رابطہ کرتے اور امیرمنگل باغ کی ہدایا ت ان تک پہنچتی۔ میں نے یہ علاقہ اگست2013ء میں دیکھاتھاجب مردان،نوشہرہ اورپشاورمیں گرمی اورحبس کاراج ہوتا ہے مگروہاں جاکررضائیوں کی ضرورت پڑی تھی۔اس وقت وہاں امن وامان موجودتھامنگل باغ موقع پرفیصلے صادرکیا کرتاتھا اوریہ روایت ہے کہ جہاں سزا وجزاکاعمل تیزہووہاں جرائم ختم ہوجاتے ہیں۔اسلئے وہاں جرائم کم یابالکل نہیں تھے۔بس یہ مسئلہ تھاکہ ریاست کے متوازی ایک حکومت قائم کی گئی تھی اور و ہاں کے لوگ اسی حکومت کے زیرنگیں تھے۔اس وقت سے لیکرآج تک وادی تیراہ دہشت گردو ں کامرکزبن چکاہے۔منگل باغ کیخلاف آپریشن ہواتوہ فرارہوکرافغانستان چلا گیا مگروادی تیراہ پر دیگرگروہوں نے اپنی عملداری قائم کر دی۔جن میں انصاراالاسلام،داعش اورالقاعدہ وغیرہ شامل ہیں۔آپریشن ردالفساداورنیشنل ایکشن پلان کے بعدکچھ عرصہ کیلئے دہشتگرد اس علاقے سے نکل گئے تھے مگرچونکہ صوبائی حکومت یہاں اپنی ذمے داریاں پوری کرنے سے قاصررہی۔پرویزخٹک نے تو طالبا ن کودفاتر کے علاوہ اور بھی بہت کچھ دینے کابرملااعلان کررکھاتھا،انکے بعدمحمودخان بھی ہومیوپیتھک قسم کے وزیراعلیٰ تھے وہ اس بات پر نازاں تھے کہ بانی نے ان پراعتمادکر کے وزارت اعلیٰ جیسااہم عہدہ سونپاہے،علی امین گنڈاپوربھی امن وامان میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے تھے جبکہ سہیل آفریدی کاسٹانس بھی طالبان کے حوالے سے عمران خان سے مختلف نہیں۔گزشتہ تین حکومتوں کی عدم توجہی سے لشکراسلام کے سربراہ کی مبینہ موت کے بعد تیراہ میں ہمہ اقسام کی تنظیمیں وجودمیں آگئیں جنہوں نے وہاں کے عوام کویرغمال بنالیا۔ ایک اندازے کیمطابق تیراہ کے میدان علاقے میں 6ہزارتک شدت پسندموجودہیں۔گزشتہ برس کے آخری سہ ماہی میں وہاں کے ایک نمائندہ جرگہ کے ارکان اورعوام قرآن پاک لیکردہشتگردوں کے پاس گئے کہ خدارا ہمارا علاقہ خالی کیاجائے۔جس کاکوئی خاطرخواہ اثرنہ ہوا۔اسکے بعد جرگہ نے صوبائی انتظامیہ کیساتھ روابط استوارکئے اورایک رپورٹ کیمطابق اس جرگہ نے انتظامیہ کیساتھ 50سے زائد ملاقاتیں کیں جن میں چارملاقاتیں وزیراعلی سہیل آفریدی کیساتھ بھی شامل ہیں۔جس میں جرگے کی جانب سے کہاگیاکہ شدت پسندوں کیخلاف آپریشن سے عام لوگ بھی متاثرہوتے ہیں اسلئے یہاں کے عوام کونکال کرآپریشن کیاجائے۔اس سلسلے میں جرگہ اورانتظامیہ کے درمیان ایک معاہدہ عمل میں آیا۔اس دوران صوبائی انتظامیہ آن بورڈتھی فورسز نے علاقے کوخالی کروانے اوروہاں سے شہریوں کی نقل مکانی میں  مددکی۔ معاہدے کے تحت 25جنوری تک وہاں سے نقل مکانی ہونی تھی۔اسکے بعد آپریشن شروع کیاجائیگااور 5اپریل تک علاقہ کلیئرکرواکرلوگوں کوواپس بھیجاجائیگااوروہاں پرترقیاتی کام بھی ہونگے۔اسی معاہد ے کے تحت وہاں آپریشن کافیصلہ کیاگیا۔پہلے مرحلے میں نقل مکانی کا سلسلہ جاری تھاکہ اس دوران تیراہ میں برفباری شروع ہوگئی۔ اس شدیدسردی میں راستے بندہوگئے اورنقل مکانی کرنامشکل ہوگیا۔صوبائی حکومت مصیبت زدہ شہریوں کوسہولیات دینے کی بجائے تیراہ آپریشن پربیان بازی میں مصروف ہوگئی ہے۔وزیراعلیٰ چونکہ سٹریٹ موومنٹ کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع کادورہ کررہے ہیں وہ جہاں بھی خطاب کرتے ہیں تیراہ آپریشن کے حوالے سے گولہ باری ضرورفرماتے ہیں۔(جاری ہے)

وائس آف کے پی اور اسکی پالیسی کا لکھاری کی رائے سے متفق ہوناضروری نہیں ہے۔

تیراہ آپریشن اورغیرسنجیدگی

Shopping Basket