Peshawar: Rescue 1122 / World Drowning Prevention Day

نوشہرہ: ریسکیو نےعید الفطر کار کردگی رپورٹ جاری کردی

ریسکیو1122 نے عید الفطر کے تین دنوں میں 138 ایمرجنسیز پر بروقت ریسپانس کرتے ہوئے 121 افراد کو ریسکیو کیا۔ عید الفطر کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی جس کے مطابق ریسکیو 1122 نوشہرہ کو عید الفطر کے موقع پرکل 2832 کالز موصول ہوئیں. اور باقی غیر ضروری کالز موصول ہوئی۔ جن میں سے 138 ایمرجینسی کالز تھیں جن پرریسکیو1122 نےبروقت ریسپانڈکرتے ہوئے 121 افراد کو ریسکیو کیا۔ 138 ایمرجینسیز میں سے 50 سے زائد روڈ ٹریفک حادثات ،45 میڈیکل ،08 فائر ایمرجنسیز ،2 ڈوبنے کے واقعات جب کہ دیگر متفرق قسم کے حادثات شامل ہیں۔

ترجمان ریسکیو1122 نبیل خان کے مطابق روڈٹریفک حادثات میں سب سے ذیاده موٹرسائیکل اور رکشے کے حادثات ہوئے۔ جن میں سے 70 سے زائد افراد متاثر ہوئے، 6 افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبحق ہوئے جبکہ 22 افراد کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی اور 80 سے زائد متاثرین کو طبی امداد دیتے ہوئے ہسپتال میں منتقل کیا گیا۔ جن میں 8 افراد ہیڈانجری سے متاثر ہیں۔ روڈٹریفک حادثات کی بڑی وجہ ڈرائیورزکی جانب سے اوور سپیڈ، موٹرسائیکلوں کی ون ویلنگ اور لاپرواہی وجہ بنی۔

tourest

عیدالفطر پر خیبرپختونخوا کے مختلف سیاحتی مقامات پر بڑی تعداد میں سیاح اُمڈ آئے

عیدالفطر پر خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کی آمد
پشاور: عیدالفطر کے موقع پر خیبرپختونخوا کے مختلف سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا بے پناہ رش دیکھنے میں آیا۔ ترجمان ٹورازم اتھارٹی محمد سعد کے مطابق گزشتہ تین روز میں مجموعی طور پر 3 لاکھ 6 ہزار 215 سے زائد سیاح مختلف سیاحتی مقامات پر ریکارڈ کیے گئے۔

سوات سیاحوں کی پہلی ترجیح
ترجمان کے مطابق سب سے زیادہ سیاح وادی سوات میں دیکھے گئے، جہاں 2 لاکھ 11 ہزار 9 افراد نے مختلف وادیوں کی سیر کی۔

وادی ناران: 42 ہزار 111 سیاح

گلیات: 28 ہزار سیاح

وادی کمراٹ: 16 ہزار 400 سیاح

سوات کے مشہور سیاحتی مقامات جیسے مرغزار، ملم جبہ، گبین جبہ، مدین، بحرین، میاندم اور کالام میں بھی بڑی تعداد میں سیاحوں نے عید کی خوشیاں منائیں۔

غیر ملکی سیاحوں کی بھی آمد
ترجمان کے مطابق مختلف سیاحتی مقامات پر 71 غیر ملکی سیاح بھی خیبرپختونخوا کے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے پہنچے۔

سیاحوں کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات
ٹورازم پولیس اہلکار مختلف مقامات پر تعینات ہیں تاکہ سیاحوں کی رہنمائی اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ٹورازم ہیلپ لائن 1422 چوبیس گھنٹے فعال ہے تاکہ سیاحوں کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کی جا سکے۔ خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کی آمد سے سیاحت کے فروغ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

کریک ڈاؤن برائے غیر قانونی افغان باشندگان – حکم نامہ جاری

کریک ڈاؤن برائے غیر قانونی افغان باشندگان – حکم نامہ جاری

کریک ڈاؤن برائے غیر قانونی افغان باشندگان – حکم نامہ جاری

تمام متعلقہ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ غیر قانونی مقیم افغان باشندوں اور ACC کارڈ ہولڈرز کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس سلسلے میں درج ذیل اقدامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا:

1. آپریشن کا آغاز:

کریک ڈاؤن کا آغاز 3 اپریل 2025، صبح 8 بجے سے کیا جائے گا۔ تمام ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں یقینی بنانے کے پابند ہوں گے۔

2. گرفتار شدگان کی منتقلی:

تمام گرفتار شدہ افغان باشندوں کو روزانہ کی بنیاد پر ہولڈنگ سینٹر اٹک منتقل کیا جائے گا۔

3. مانیٹرنگ اور رپورٹنگ:

ہر تھانے میں روزانہ زیادہ سے زیادہ گرفتاریاں یقینی بنائی جائیں گی۔ ایس ایچ اوز اپنی روزمرہ پراگرس رپورٹ جناب جہانگیر صاحب کو معرفت سیکیورٹی برانچ بھجوانے کے پابند ہوں گے۔

4. ہولڈنگ سینٹر کی نگرانی:

ایس ڈی پی او صدر سرکل اور ایس ایچ او تھانہ سٹی اٹک کل صبح 8 بجے سے ہولڈنگ سینٹر کی ڈیوٹی کو شفٹ وائز مکمل کروائیں گے۔ ڈیوٹی پر تعینات عملہ ہر وقت الرٹ اور حاضر رہے گا۔

5. عملدرآمد اور سختی:

تمام ایس ڈی پی اوز، ایس ایچ اوز اور فیلڈ سیکیورٹی اسٹاف اس حکم پر سختی سے عمل کریں گے۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت ناقابل برداشت ہوگی۔

یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر سیکیورٹی برانچ کو رپورٹنگ یقینی بنائی جائے گی۔

Peshawar region trials completed for inter-regional volleyball tournament

نیشنل گیمز: خیبر پختونخواہ والی بال ٹیم کے ٹرائلز کی تاریخوں کا اعلان

نیشنل گیمز کے لیے خیبر پختونخواہ والی بال ٹیم کے چناو کیلئے ٹرائلز کی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا۔

یکم سے نو مئی تک کراچی میں منعقد نیشنل گیمز میں شرکت کے لئیے خیبر پختونخواہ والی بال ٹیمز کے چناو ہوگا۔

پشاورسیکرٹری جنرل خیبرپختونخواہ والی بال ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 11 اپریل کو خواتین جبکہ 12 اپریل کو مرد وں کی والی ٹیم کے ٹرائلز خیبر پختونخواہ سپورٹس ڈائریکٹر یٹ میں خالد وقار صدر خیبر پختونخواہ والی بال ایسوسی ایشن اور ذوالفقار بٹ سیکریٹری خیبر پختونخواہ اولمپک ایسوسی ایشن کی نگرانی میں منعقد ہو نگے۔ ان ٹرائلز کے لیے سلیکشن کمیٹی میں بختیار عالم سیکرٹری جنرل خیبر پختونخواہ والی بال ایسوسی ایشن لائق زمان جائنٹ سیکرٹری خیبر پختونخواہ والی بال ایسوسی ایشن ، خالد خان جدون ایسوسیٹ سیکرٹری خیبر پختونخواہ والی بال ایسوسی ایشن، مس سعدیہ گل ممبر ایگزیکٹو کمیٹی خیبر پختونخواہ والی بال ایسوسی ،ور واصف اللہ والی بال کوچ خیبر پختونخواہ سپورٹس ڈائریکٹوریٹ شامل ہونگے۔ ٹرائلز میں صوبے بھر سے شرکت کرنے والے کھلاڑیوں سے ٹریننگ اینڈ کوچنگ کیمپ کے لئے کھلاڑیوں کا چناو کیا جائے گا جس میں سے کارکردگی کی بنیاد پر بعد ازاں فیمیل والی بال ٹیم ٹیم اورمیل والی بال ٹیم کے کھلاڑیوں کا چناو عمل میں لایا جائے گا۔ اس ضمن میں بختیار عالم سیکرٹری جنرل خیبر پختونخواہ والی بال ایسوسی نے تمام ڈویڑنل اور ڈسٹرکٹ والی بال ایسوسی ایشن کے صدور اور سیکرٹریز کو اپنے ضلع کے بہترین والی بال کھلاڑیوں کی شرکت یقینی بنانے کیلئے مراسلہ جاری کردیا

afghan-repatriation افغان مہاجرین کی واپسی

افغان مہاجرین کی واپسی کا آغاز اور اس کا پس منظر

Türk alarmed by reports of human rights abuses against Afghans forced to leave Pakistan | OHCHR

عقیل یوسفزئی

حکومت پاکستان کے پہلے سے اعلان کردہ فیصلے کے مطابق پاکستان میں مقیم لاکھوں مزید افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کا یکم اپریل سے آغاز کردیا گیا ہے اور حکومت نے افغانستان کی عبوری حکومت اور بعض سیاسی جماعتوں کی اس درخواست کو مسترد کردیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔ یکم اپریل کو تقریباً 106 افغان باشندوں کو راولپنڈی اسلام آباد سے طورخم میں قائم عارضی کیمپ میں بھیج دیا گیا جہاں سے ان کو بعض دیگر کے ساتھ افغانستان روانہ کردیا گیا ۔ حکام کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ طورخم اور چمن کے راستے ان مہاجرین کو واپس بھیجنے کے انتظامات کیے گئے ہیں اور اس مقصد کے لیے چار سے زائد مقامات پر بڑے عارضی کیمپس قائم کیے گئے ہیں ۔ اس سے قبل دو مراحل کے دوران پاکستان سے تقریباً 11 لاکھ مہاجرین کو واپس بھیجا جاچکا ہے اس پس منظر میں جاری عمل کو فیز 3 کہا جاسکتا ہے ۔ پاکستان کی طرح ایران اور بعض وسطی ایشیائی ممالک سے بھی افغان مہاجرین کی واپسی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔ مہاجرین کے مسائل اور افغانستان کے حالات سے قطع نظر پاکستان سمیت ان تمام ممالک کا موقف یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کا خاتمہ ہوگیا ہے اس لیے مہاجرین کے دیگر ممالک میں مہاجرت کا اب کوئی جواز باقی نہیں رہا ہے اس لیے وہ اپنے وطن واپس چلے جائیں ۔ دوسری وجہ یہ قرار دی جارہی ہے کہ افغان مہاجرین میں سے بعض ان ممالک کے اندر دہشتگردی اور اسمگلنگ کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں اس لیے ان کو سیکورٹی پوائنٹ آف ویو سے رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

پاکستان کی اس پالیسی کے پیچھے ان دو عوامل کے علاوہ افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر پاکستان مخالف گروپوں کو دی گئی سہولت کاری کا مسئلہ بھی شامل ہے ۔ اس سے جڑی دوسری دلیل یہ ہے کہ افغان مہاجرین کی اکثریت نہ صرف پاکستان مخالف لوگوں پر مشتمل ہے بلکہ اکثر یہ دلیل بھی دیتے ہیں کہ ان کے بقول افغانستان سیکورٹی اور معاشی طور پر اب پاکستان سے بہتر ہے ۔ اس تناظر میں پاکستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگر ایسا ہی ہے تو افغان مہاجرین اپنے ملک واپس کیوں نہیں جاتے ؟

پاکستان میں مقیم تقریباً 56 فی صد مہاجرین خیبرپختونخوا میں قیام پذیر ہیں اور ڈیٹا کے مطابق اس وقت یہاں قیام پذیر مہاجرین کی تعداد 12 سے 14 لاکھ کے درمیان ہے ۔ اس لئے سب سے زیادہ انتظامات یہاں کیے گئے ہیں ۔ ان میں سے نصف سے زائد کے پاس درکار کارڈز یا دستاویزات ہیں تاہم اب کے بار ان کو بھی نکلنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ خیبرپختونخوا میں ان مہاجرین کے لیے کئی دہائیوں قبل قایم کیے گئے کیمپوں کی تعداد 43 تھی تاہم ان کی اکثریت کیمپوں سے باہر رہ رہی ہے اور اکثر کاروبار اور ملازمتیں بھی کرتے ہیں اس لیے ان کو معیشت پر بوجھ بھی سمجھا جاتا ہے تاہم اس نکتے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ جب 20 برسوں تک افغانستان میں امریکی اور نیٹو کی بے پناہ سرمایہ کاری آرہی تھی تب بھی یہ مہاجرین اپنے ملک واپس نہیں گئے ۔ بلکہ ان کی مزید آمد کا سلسلہ جاری رہا ۔ یہاں تک رپورٹ کیا گیا کہ اگست 2021 کے بعد مزید 6 لاکھ افغان باشندے پاکستان آگئے جن میں تقریباً 2 لاکھ وہ شامل ہیں جو کہ پاکستان کے راستے یورپ ، امریکہ اور کینیڈا چلے گئے اور اس وقت انہی لوگوں میں سے 85 ہزار ایسے ہیں جو کہ باہر منتقل ہونے کی کوشش میں پاکستان میں قیام پذیر ہیں مگر امریکہ سمیت دیگر ممالک بوجوہ ان کو اپنی نئی پالیسیوں کے باعث اپنے ممالک میں آنے کی اجازت نہیں دے رہے ۔ اس تمام صورتحال کے تناظر میں ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر افغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر واپس چلے جائیں اور پاکستان کوشش کرے کہ ان کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ ان میں سے اکثر کو واقعتاً سخت مشکلات کا سامنا ہے اور ان کو تمام تر تحفظات کے باوجود ہماری ہمدردی اور مدد کی ضرورت ہے۔
(3 اپریل 2025 )