وصال محمدخان
گزشتہ برس 26اپریل کوبھارت نے مقبوضہ کشمیرکے علاقے پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کرکے اس کاالزام پاکستان پردھردیااورہندو انتہا پسندبھارتی قیادت نے اناپ شناپ بکنے اور پاکستان کودھمکانے کاسلسلہ شروع کردیا۔اسکے برعکس پاکستان کاروئیہ سنجیدگی اورمتانت پرمبنی تھا۔ پاکستانی قیادت نے تفتیش وتحقیق میں ہرقسم تعاون کی یقین دہانی کروائی اورخودکوکسی بھی بین الاقوامی فورم پرشفاف تحقیقات کیلئے پیش کرنے کااعلان کیا۔مگربھارت چونکہ کسی اورترنگ میں تھااوراس کاخیال تھاکہ وہ بھی اسرائیل کے نقش قدم پرچل کر غزہ اور لبنان کی طرح پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجاکر اپنی مذموم آرزوپوری کر یگا۔جبکہ پاکستان کبھی سلامتی کونسل توکبھی اوآئی سی میں قراردادیں منظور کروانے تک محدود رہیگا۔ہندوبنئے نے چونکہ روزاول سے ہی پاکستان کودل سے تسلیم نہیں کیااوراس کاخیال تھاکہ نوزائیدہ مملکت بہت جلدخودہی منتیں ترلے کرکے اکھنڈ بھارت کاحصہ بننے کی درخواست کریگااوراگرازخودایسانہیں کریگاتوبھارت اسے بزوربازوفتح کرکے اکھنڈبھارت میں شامل کردیگا۔ مگرپاکستانی قوم نے جذبہء ایمانی کے تحت اپنے ملک کومضبوط کیااوراسے لوہے کاوہ چنابنادیاجسے انتہاپسند ہندواُگل سکتاہے اورنہ ہی نگل سکتاہے۔تقسیم ہندکے فارمولے کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت نے پاکستان کے اثاثے ہڑپ کئے اورکشمیرپرقبضہ کرلیا۔پہلے ہی سال جب پاکستان کے پاس کوئی باقاعدہ فوج نہیں تھی بھارت نے کشمیرپرقبضہ کرکے پاکستان پرجنگ مسلط کی۔یہ جنگ پاکستان نے کسی باقاعدہ فوج کی بجائے اپنے شہریوں کے ذریعے لڑی اورکوئی بعیدنہیں تھاکہ بھارت شکست فاش سے دوچارہوکرپورے کشمیرسے ہاتھ دھوبیٹھتامگرمکاربھارتی قیادت نے اقوام متحدہ جاکرجنگ بندی کی درخواست کردی۔پاکستان روزِاول سے ہی بین الاقوامی قوانین،اخلاقیات اوراقوام متحدہ کے چارٹرپرکاربندہے اسلئے بھارتی قیادت کے جھوٹے وعدوں میں آکراقوام متحدہ کی اپیل پر جنگ بندکردی۔بعدمیں بنیااپنے وعدوں سے مکرگیااورمقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے اپنے اندرضم کرلیا۔یہ عمل بین الاقوامی قوانین اوراقوام متحدہ کی اولین قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی ہے مگربھارتی قیادت اس مکروہ عمل پرشادیانے بجاتی رہی۔ گزشتہ79برس کے دوران پاکستان اوربھارت کے درمیان تین بڑی جبکہ ان گنت چھوٹی جنگیں لڑی جاچکی ہیں جن میں بھارت ہمیشہ شکست فاش سے دوچار ہواہے مگر اس میں دونوں جانب سے ہزاروں افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں۔1971ء میں بھارت پاکستان کے اندرونی اختلافات اور کمزوریوں کافائدہ اٹھا کرپاکستان کودولخت کرنے میں کامیاب ہوا۔ پاکستان کودولخت کرنے پربھی ہندوانتہاپسندوں کے سینے میں ٹھنڈنہیں پڑی اوریہ پاکستان کیخلاف سازشوں میں مصروف رہے۔ انہی سازشوں کے سلسلے میں گزشتہ برس پہلگام کافالس فلیگ آپریشن عمل میں لایاگیاجس کامقصدایک ہی تھاکہ کسی طرح پاکستان پرحملے کاجواز تلاش کیاجائے۔پاکستان نے بارہاپہلگام واقعے سے لاتعلقی ظاہرکی اورہرقسم تعاون کی یقین دہانی کروائی مگربھارت نے یہ فالس فلیگ آپریشن کروایاہی اسلئے تھاکہ کوئی معقول بات ماننے کی بجائے وہ اپنی من مانی کرے۔وہ اگرکسی بین الاقوامی ادارے سے شفاف اورغیرجانبدارتحقیقات کروانے پرآمادگی ظاہرکرتاتواس سے فالس فلیگ آپریشن کاپول کھلنے کاخدشہ تھااسلئے اس نے جلدبازی میں آپریشن ”سندور“ کے نام سے پاکستان پرجارحانہ اندازمیں حملہ کردیا۔ 6اور7مئی کی درمیانی شب بھارت پاکستان پرایک بھرپور فضائی حملہ کرنے کاخواہاں تھامگر دوسری جانب پاکستان بھی چوکنااوراپنے ازلی مکاروعیاردشمن سے بخوبی آگاہ تھااسلئے بھارت کوکھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیاگیا۔اس رات دونوں ائرفورسزکے درمیان تاریخ ساز ”ڈاگ فائٹ“ ہوئی جس میں نہ صرف پاکستان کاپلڑابھاری رہابلکہ بھارت کومشہورزمانہ جنگی جہازرافیل سمیت 7 جہازوں کی تباہی اور ذلت آمیزشکست کاسامناکرناپڑا۔اسکے بعدبھارت نے رہائشی عمار تو ں اورمسجدپرحملہ کرکے مزیدکمینگی کا ثبوت دیا۔عبادت گاہوں اور رہا ئشی مکانات کوحملوں کانشانہ بناکربھارت جنگی جرائم کامرتکب ہوا اور اس نے بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کی بھی دھجیاں بکھیردی۔ بھارت میزائل،ڈرونزاورجہازوں سے حملے کرچکاتھاجبکہ پاکستان تحمل کامظاہرہ کرکے اپنے دفاع میں مصروف تھامگرجواب کاحق محفوظ ہونے کااعلان کرچکاتھا۔ دس مئی کوعلی الصبح پاکستان نے آپریشن ”بنیان مرصوص“ یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوارکے نام سے بھارت کیخلاف کارروائی کاآغازکیااورمحض چندگھنٹے کی کارروائی میں بھارت کی دفاعی تنصیبات پرکاری وارکئے۔پاک فوج نے بھارت کیخلاف حملوں میں شہری آبادی کی بجائے محض دفاعی تنصیبات کونشانہ بناکرپیشہ ورفوج ہونے کاثبوت دیا۔جبکہ مقابلے میں بھارتی فوج شہری آبادی اور عبادتگاہوں پرحملے کی مرتکب ہوئی جوکہ جنگی،قانونی اوراخلاقی جرم ہے۔ پاکستان نے جارحیت کاشکارہونے کے باوجودہوش کادامن تھامے رکھااورمعصوم شہریوں کی بجائے 26فوجی تنصیبات کونشانہ بنایا۔ دو گھنٹے کی کارروائی میں پاکستان نے بھارت کادفاعی نظام درہم برہم کرکے اسکی فضاؤں پرکنٹرول حاصل کرلیا۔پاکستان جارحانہ عزائم رکھتاتو بھارت کے کئی شہرملیامیٹ کرسکتاتھامگراس نے محض جارح دشمن کودندان شکن جواب دینے پراکتفاکیا۔دوراان جنگ بھی اعلیٰ روایات کی پاسداری پرپاکستان کو آج پوری دنیا میں قدرکی نگاہ سے دیکھا جاتاہے جبکہ بھارت بین الاقوامی قوانین اوراخلاقیات کوپامال کرکے اپنی حیثیت کھوچکاہے۔نریندرمودی کاپہلگام فالس فلیگ آپریشن اور اسکے نتیجے میں سندوردونوں اسکے اپنے گلے کے پھندے بن چکے ہیں اسکے باوجودوہ گاہے بگاہے آپریشن سندورجاری ہے جیسے کھوکھلے بیا نات جاری کرتے رہتے ہیں۔ذلت آمیزشکست کھانے کے باوجود مودی اوراسکے حواری سبق سیکھنے کے موڈمیں نہیں۔وہ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں اب بھی پراکسی وارجاری رکھے ہوئے ہیں جو کھسیانی بلی کھمبانوچے کے مترادف ہے۔پاکستان بہت جلداس فتنے کا سر کچلنے میں بھی کامیاب ہوگااوربھارت کواس میدان میں بھی عبرتناک شکست ہوگی۔بھارت کوجتنی جلد یہ احساس ہوکہ پڑوسیوں نے ہمیشہ ساتھ رہناہوتاہے،پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے اوراگرپڑوسی پاکستان جیسا لوہے کاچنااوراستقامت کاپہاڑہوتواسکے ساتھ سرٹکرانے اور خودکو لہولہان کرنے کاکیافائدہ؟کیوں نہ اچھی ہمسائیگی کے اصولوں اوربین االاقوامی قوانین واخلاقیات پرعمل کرکے دونوں ممالک اچھے پڑوسی بن جائیں اورمسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔دوسری صورت میں اگرسندورجاری ہے توبنیان مرصوص بھی جاری ہے اورپاکستان کے خلاف مذموم عزائم کوخاک میں ملانے کاعمل بھی جاری ہے اورجاری رہیگا۔انشاء اللہ۔
لنڈیکوتل اسپتال میں جدید مشینری کے ساتھ ماہر عملے کی بھی ضرورت
ضلع خیبر: پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) لنڈیکوتل کے صدر عبدالولی خان آفریدی نے کہا ہے کہ لنڈیکوتل اسپتال کی ترقی صرف جدید مشینری کی فراہمی سے ممکن نہیں بلکہ ان سہولیات کو فعال بنانے کے لیے ماہر اور کوالیفائیڈ عملے کی دستیابی بھی ناگزیر ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں ڈائیلاسز کے لیے مہنگی مشینری اسپتال کو فراہم کی گئی، تاہم ماہر ڈاکٹروں اور ٹیکنیشنز کی عدم دستیابی کے باعث یہ سہولت تاحال عوام کے لیے فعال نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی کی واضح مثال ہے۔
عبدالولی خان آفریدی نے عدنان قادری اور اقبال آفریدی کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ لنڈیکوتل اسپتال کو اب کیٹیگری “اے” یعنی ٹیچنگ کیڈر کا درجہ حاصل ہے، تاہم پیرامیڈیکل اور کلاس فور ملازمین کی تعداد جمرود اسپتال جیسے “سی” کیٹیگری کے اسپتال سے بھی کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریگی للمہ کے ایک بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) میں گریڈ 14 کی سات اسامیاں موجود ہیں، جبکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لنڈیکوتل اسپتال میں گریڈ 14 کی صرف ایک سیٹ موجود ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ منتخب عوامی نمائندے اسپتال میں جدید مشینری کے ساتھ ساتھ عملے کی رکی ہوئی اپ گریڈیشن اور گریڈ 14، 16 اور 17 کی نئی آسامیوں کی منظوری کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ اسپتال میں عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
معرکۂ حق کی کامیابی کے ایک سال مکمل ہونے پر گورنر خیبرپختونخوا کا پیغام
پشاور: فیصل کریم کنڈی نے معرکۂ حق کی کامیابی کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ معرکۂ حق نے ثابت کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ افواجِ پاکستان نے دشمن کی ہر جارحیت کا مؤثر، بروقت اور فیصلہ کن جواب دے کر دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ معرکۂ حق کے دوران پوری قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی، جس نے قومی اتحاد، اعتماد اور حب الوطنی کے جذبے کو مزید مضبوط کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی احترام کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کا جواب پوری قوت، قومی یکجہتی اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء اور غازیوں کو قوم کا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ مادرِ وطن کے دفاع میں بہادر سپوتوں کی لازوال قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور ملکی دفاع کے لیے ہر سطح پر متحد رہے گی۔
خیبرپختونخوا میں 8 سے 10 مئی تک شدید گرمی کی لہر
پشاور: پی ڈی ایم اے خیبر پختونخوا نے صوبے کے میدانی علاقوں میں 8 سے 10 مئی کے دوران شدید گرمی کی لہر کے پیشِ نظر ہیٹ ویو ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے تمام ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو پیشگی حفاظتی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مراسلے کے مطابق اس دوران ڈی آئی خان، ٹانک، بنوں، کرک اور لکی مروت میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت 43 سے 47 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اسی طرح پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی، ہری پور اور کوہاٹ میں درجہ حرارت 39 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ جنوبی اور وسطی اضلاع میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہیٹ اسٹروک سینٹرز، کولنگ پوائنٹس اور موبائل کولنگ یونٹس قائم کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار رہنے کا حکم دیا ہے۔ مراسلے میں ہسپتالوں کو طبی عملے اور ضروری سہولیات ہر وقت فعال رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق شدید گرمی کے باعث گرد و غبار اور تیز ہواؤں کا بھی خدشہ ہے، جبکہ خشک موسمی حالات کے نتیجے میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی قلت اور آبی ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی شدت سے بالائی علاقوں میں برف پگھلنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔
پی ڈی ایم اے نے شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے، پانی کا زیادہ استعمال کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بزرگوں اور بچوں کو خاص طور پر صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک براہ راست دھوپ میں جانے سے منع کیا گیا ہے۔
کسانوں کو فصلوں کی کٹائی کے دوران احتیاط برتنے اور مویشیوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے، جبکہ متعلقہ اداروں کو عوامی آگاہی مہم کے ذریعے شہریوں کو گرمی کی شدت سے متعلق بروقت معلومات فراہم کرنے کا کہا گیا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے اور عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع ہیلپ لائن 1700 پر دے سکتے ہیں۔



