Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Thursday, May 7, 2026

لنڈیکوتل اسپتال میں جدید مشینری کے ساتھ ماہر عملے کی بھی ضرورت

ضلع خیبر: پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) لنڈیکوتل کے صدر عبدالولی خان آفریدی نے کہا ہے کہ لنڈیکوتل اسپتال کی ترقی صرف جدید مشینری کی فراہمی سے ممکن نہیں بلکہ ان سہولیات کو فعال بنانے کے لیے ماہر اور کوالیفائیڈ عملے کی دستیابی بھی ناگزیر ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں ڈائیلاسز کے لیے مہنگی مشینری اسپتال کو فراہم کی گئی، تاہم ماہر ڈاکٹروں اور ٹیکنیشنز کی عدم دستیابی کے باعث یہ سہولت تاحال عوام کے لیے فعال نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق یہ صورتحال صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی کی واضح مثال ہے۔
عبدالولی خان آفریدی نے عدنان قادری اور اقبال آفریدی کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ لنڈیکوتل اسپتال کو اب کیٹیگری “اے” یعنی ٹیچنگ کیڈر کا درجہ حاصل ہے، تاہم پیرامیڈیکل اور کلاس فور ملازمین کی تعداد جمرود اسپتال جیسے “سی” کیٹیگری کے اسپتال سے بھی کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریگی للمہ کے ایک بنیادی مرکز صحت (بی ایچ یو) میں گریڈ 14 کی سات اسامیاں موجود ہیں، جبکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لنڈیکوتل اسپتال میں گریڈ 14 کی صرف ایک سیٹ موجود ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ منتخب عوامی نمائندے اسپتال میں جدید مشینری کے ساتھ ساتھ عملے کی رکی ہوئی اپ گریڈیشن اور گریڈ 14، 16 اور 17 کی نئی آسامیوں کی منظوری کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں گے تاکہ اسپتال میں عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

لنڈیکوتل اسپتال میں جدید مشینری کے ساتھ ماہر عملے کی بھی ضرورت

Shopping Basket