پشاور: ذوالفقار حمید نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائیوں اور بنوں پولیس کی آپریشنل صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ایک جامع ٹرانسفارمیشن پلان جاری کر دیا ہے، جس کے تحت جدید جنگی اور نگرانی کے آلات بنوں پولیس کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع اور سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) ریزرو سے جدید ترین آلات واپس لے کر دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والی بنوں پولیس کے حوالے کیے گئے ہیں۔
ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت مجموعی طور پر 50 جدید آلات فراہم کیے گئے ہیں، جن میں 15 عدد SKUA آلات، 31 تھرمل ویپن سائٹس (TWS)، 20 نائٹ ویژن آلات، پانچ عام کواڈ کاپٹرز اور ایک جدید سرویلنس کواڈ کاپٹر شامل ہیں۔ علاوہ ازیں ڈرون حملوں اور فضائی خطرات سے نمٹنے کے لیے دو جدید اینٹی ڈرون گنز بھی بنوں پولیس کے بیڑے میں شامل کی گئی ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق یہ آلات مردان، چارسدہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، سوات، بونیر، صوابی، کوہستان اپر، کوہستان لوئر، کولئی پالس، تورغر اور چترال اپر سمیت مختلف اضلاع سے واپس لے کر بنوں منتقل کیے گئے ہیں تاکہ حساس علاقے میں پولیس کو تکنیکی برتری حاصل ہو سکے۔
آئی جی پی ذوالفقار حمید نے کہا کہ بنوں پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہے، اس لیے اس کی آپریشنل اور سیکیورٹی ضروریات کو پورا کرنا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بنوں پولیس کے لیے جدید تھرمل امیجنگ کیمروں کی خریداری کا عمل بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے، جو جلد فراہم کر دیے جائیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور وسائل کی فراہمی کے ذریعے صوبے کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔


