وصال محمدخان
صوبائی کابینہ میں چھ ماہ بعدتوسیع، 6 نئے وزیر،4مشیرجبکہ 8 معاونین خصوصی شامل،کابینہ کی تعداد31
خیبرپختونخواکی کابینہ میں چھ ماہ بعدتوسیع کردی گئی ہے گزشتہ برس اکتوبرمیں علی امین گنڈاپورکے مستعفی ہونے پر سہیل آفریدی نے حلف لیا مگرانہوں نے تین ہفتے تک کابینہ تشکیل نہیں دی۔وہ بضدتھے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اورمشاورت کے بغیرکابینہ تشکیل نہیں دینگے۔ تین ہفتوں تک ملاقات کیلئے انتظارکرنے کے بعدچودہ رکنی مختصر کابینہ تشکیل دی گئی۔ اب توسیعی منصوبے کے تحت6نئے وزرا،4 مشیرجبکہ 8معاونین خصوصی کابینہ میں شامل کئے گئے ہیں۔اس طرح کابینہ ارکان کی مجموعی تعداد31ہوگئی ہے۔جن میں وزیراعلیٰ سمیت17 وزرا، 6مشیراور8معاونین خصوصی شامل ہیں۔موجودہ کابینہ میں غیرمنتخب مشیرخزانہ مزمل اسلم کے علاوہ تمام ارکان صوبائی اسمبلی کے ممبران ہیں۔ علی امین گنڈاپورپربانی پی ٹی آئی کی جانب سے دباؤتھاکہ وہ گزشتہ انتخابات میں ہارنے والے راہنماؤں کوکابینہ کاحصہ بنائیں مگرانہوں نے ذاتی عداوت کی بناپرتیمورسلیم جھگڑااورکامران بنگش سمیت دیگر راہنماؤں کوکابینہ میں شامل کرنے سے اجتناب کیا۔سہیل آفریدی پر شائداس حوالے سے کوئی دباؤاس لئے نہیں کہ انکی تاحال اڈیالہ جیل میں ملاقا ت نہ ہوسکی۔اس لئے انہوں نے اپنی مرضی کی کابینہ تشکیل دی ہے جس پرپارٹی کے کچھ اندرونی حلقے معترض ہیں۔
توسیع پرپارٹی کے اندرونی گروپوں میں اختلافات،کئی راہنماؤں کوتحفظات،نئی عداوتوں کاجنم
پارٹی گروپ بندی کاشکارہے اسلئے وزیراعلیٰ کی جانب سے تمام گروہوں کومطمئن کر نیکی کوشش کی گئی ہے اسکے باوجودجن گروہوں کے ممبران شامل کئے گئے ہیں وہ مطمئن ہیں مگرنظراندازکئے گئے گروہوں کے ارکان شکوہ کناں ہیں۔وزیراعلیٰ کیلئے نئے کابینہ ارکان کومحکموں کی الاٹمنٹ کامشکل مرحلہ بھی درپیش ہے نئے شامل ہونیوالے بیشترارکان ”منافع بخش“ وزارتوں کے قلمدان حاصل کرنے کے خواہاں ہیں کسی کی نظر بلدیات پرہے توکسی کی خزانہ پر۔مگران پر واضح کیا گیا ہے کہ نئے وزرا کووہی محکمے ملیں گے جووزیراعلیٰ کے پاس ہیں۔ نئے ارکان کی شمولیت سے اگرچہ کابینہ تومکمل ہوگئی ہے مگربعض اضلاع کونمائندگی نہ ملنے پر تنقیدہورہی ہے۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ملاکنڈ،مردان اورچارسدہ پرمہربان دکھائی دے رہے ہیں ان اضلاع سے تین تین ارکان کابینہ میں شامل ہیں۔کوہاٹ،نوشہرہ،پشاور،بونیر،دیر،ہری پور،صوابی سے دو،دوجبکہ مہمند،کرک،لکی مروت،ایبٹ آباد،ٹانک اوربٹگرام سے ایک ایک رکن کونمائندگی دی گئی ہے جبکہ وزیرستان،بنوں،اورکزئی،ہنگواورباجوڑجیسے اہم اضلاع کونظراندازکیاگیاہے۔یادرہے شمالی اور جنوبی وزیرستان سے پی ٹی آئی کے 3،بنوں اورہنگوسے2،2،باجوڑسے 3جبکہ اورکزئی سے ایک رکن اسمبلی موجود ہیں جنہیں نمائندگی کے قابل نہیں سمجھاگیا۔پارٹی کے اندرونی حلقوں کی جانب سے کبھی کسی گروہ توکبھی کسی علاقے کونظراندازکرنے کے حوالے سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔کابینہ کی توسیع میں اگردوستیاں نبھائی گئی ہیں توکچھ نئی عداوتیں اورمایوسیاں بھی جنم لے چکی ہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی صحافیوں کوڈرانے دھمکانے کی روش پرچل نکلے،پیسے لینے کے الزامات
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے چندروزقبل الزام لگایاتھاکہ کچھ صحافیوں کوکروڑوں روپے دئے گئے ہیں تاکہ وہ انکی حکومت کوتنقیدکانشانہ بنائے۔اب انہوں نے ایک میڈیاٹاک کے دوران کابینہ کے نئے اورپرانے ارکان سے کہاہے کہ جوبھی چینل یاصحافی کرپشن کاالزام لگائے اس کوتین دن کے اندرنوٹس دو۔صحافتی حلقوں نے اس روش کونارواقراردیتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعلیٰ صحافیوں کوڈرانے دھمکانے، تنقیداورالزامات کانشانہ بنانے کی بجائے حکومتی امورپرتوجہ دیں اچھی کارکردگی کامظاہرہ کریں۔خیبرپختونخواکے صحافی نامساعدحالات میں ایمانداری سے اپنے فرائض اداکررہے ہیں پہلے دہشتگردانہیں ڈراتے دھمکاتے تھے اب حکومت بھی اس روش پرچل نکلی ہے۔
سہیل آفریدی کی اڈیالہ اوراسلام آبادیاتراناکام،جی ٹی روڈکی بندش سے مسافروں کوشدیدمشکلات
وزیراعلیٰ سہیل آافریدی پرایک بارپھراڈیالہ اوراسلام آبادمیں احتجاج کابھوت سوارہوچکاہے۔گزشتہ منگل کو انہیں اڈیالہ جیل جانے سے روکاگیاتووہ اپنے جلوس کے ہمراہ اسلام آبادروانہ ہوگئے۔پشاورموڑپرمیڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انکا کہنا تھاکہ”وہ بانی کی بہنوں سے اظہاریکجہتی کیلئے پرامن اندازمیں اسلام آبادآئے ہیں،کارکن بھی ذمہ داری،تحمل اورنظم وضبط کامظاہرہ کر رہے ہیں،ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹیواور کابینہ کو روکناہٹ دھرمی،جمہوری روایات کے منافی اوروفاق کی ایک اکائی کے خلاف امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔آئین کے آرٹیکل 158کے تحت صوبے کی پیداوارپرپہلاحق صوبے کاہے،پنجاب کی طرف سے خیبر پختو نخواکیلئے گندم کی ترسیل روکناآرٹیکل151کی کھلی خلاف ورزی ہے“۔وزرااوروزیراعلیٰ نے گزشتہ ایک ماہ سی این جی بندش اور گندم کے معاملے پرخوب سیاست چمکائی اوراسے بیان بازی کامحوربنایا۔صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقے صوبائی حکومت کومشورے دے دیکرتھک گئے کہ وفاق کیخلاف بیان بازی کی بجائے بات چیت کی جائے۔
وفاق نے سی این جی کامسئلہ حل کردیا،گورنراورحکومت دونوں مطمئن،روزانہ 12گھنٹے گیس فراہم ہوگی
گزشتہ ہفتے گورنرنے اپوزیشن اورحکومت کاایک مشترکہ جرگہ طلب کیاجرگہ کے مطالبے پروزیراعظم شہبازشریف نے راناثناء اللہ اورعلی پرویزملک پرمشتمل کمیٹی بنائی جس سے مذاکرات میں سی این جی کامسئلہ حل ہونے کی خوشخبری سنائی گئی۔گورنرفیصل کریم کنڈی نے اپوزیشن لیڈرڈاکٹرعباداللہ اور مشیرخزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ اسلام آبادمیں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی مسائل کیلئے تمام جماعتیں متحدہیں،خیبرپختونخوامیں جمعرات سے سی این جی سٹیشنزکھل جائینگے،وزیراعظم نے گندم کے مسئلے کابھی نوٹس لیاہے عنقریب یہ مسئلہ بھی حل ہوجائیگا،صوبے کو 35ایم ایم سی ایف ڈی گیس دینے پراتفاق ہواہے،صبح 6سے شام چھ بجے تک بلاتعطل گیس فراہم ہوگی۔یہ اچھی پیشرفت ہے جس سے صوبے کاایک بڑامسئلہ حل ہوگیاہے اب گندم کامسئلہ بھی حل ہوناچاہئے۔صوبے میں گندم کٹائی سیزن کے دوران فی من قیمت 6ہزارروپے سے بڑھ چکی ہے حالانکہ حکومتی مقررکردہ نرخ 39سو روپے فی من ہے۔
نئے تھانوں کی تعمیراوراپ گریڈیشن کیلئے وفاق سے پیکیج منظوری کاامکان،5جنوبی اضلاع شامل
صوبائی حکومت نے دہشتگردی کی بیخ کنی کیلئے وفاقی حکومت سے پیکیج طلب کیاہے۔ وفاق کودہشتگردی سے متاثرہ اضلاع بنوں،لکی مروت ڈیرہ اسماعیل خان اورٹانک میں تھانوں کی تعمیر،سیکیورٹی انفراسٹرکچر،پولیس پوسٹوں کے قیام اور جدید گاڑیوں کی خریداری کیلئے سفارشات بھیج دی گئی ہیں پہلے مرحلے میں بنوں فتح خیل پولیس چوکی(جہاں 9مئی کودہشتگردوں کے حملے میں 15 پولیس اہلکارشہیدہوگئے تھے) کو کنکریٹ پوسٹ میں تبدیل کیاجائیگا۔ سینئرپولیس افسرکے مطابق وفاقی حکومت کو صوبے میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات، دہشتگر دو ں کے پاس موجودجدیدٹیکنالوجی اورکواڈکاپٹرکامقابلہ کرنے کے حوالے سے بھی سفارشات پیش کردی گئی ہیں۔وزیرداخلہ محسن نقوی کے حالیہ دورۂ پشاورکے بعدوفاقی حکومت کوامن وامان کے حوالے سے درپیش چیلنجزسے نمٹنے، پو لیس لائنزکی خستہ حالی،انگریزدورکے تھانوں کی از سرنوتعمیراوردورافتادہ علاقوں میں پولیس چیک پوسٹوں کیلئے سہولیات نہ ہونے پر ایک جامع رپورٹ بھجوادی گئی ہے۔اگرپانچ اضلاع کیلئے وفاقی حکومت سے پیکیج مل جاتاہے تواس سے جنوبی اضلاع میں دہشتگردی کے وا قعات روکنے میں خاصی مددمل سکتی ہے صوبے کے مخدوش حالات کے پیش نظر وفاقی حکومت کو پیکیج دینے میں کوئی امرمانع نہیں ہوناچاہئے۔مگردی جانیوالی رقوم پرکڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔