وصال محمد خان
صوبائی حکومت کاانوکھااقدام،6مئی کووفاق کیخلاف صوبے میں قلم چھوڑہڑتال سے سائلین خوار
خیبرپختونخواکی صوبائی حکومت نے بدھ 6مئی کوایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے وفاقی حکومت کیخلاف قلم چھوڑہڑتال کااعلان کیا۔اس سے قبل جدیددنیانے ہمہ اقسام کے احتجاج اورہڑتال دیکھے ہونگے مگرکسی صوبائی حکومت کی قلم چھوڑہڑتال سے شائددنیاپہلی بار متعارف ہوئی ہے۔ صوبائی حکومت ہمہ وقت کوئی ایساعمل انجام دینے،کوئی ایسی حرکت کرنے کیلئے کوشاں رہتی ہے جومیڈیااورسوشل میڈیاپر زیر بحث ہواورحکمران جماعت نظروں سے اوجھل نہ ہو۔اس سلسلے میں حکومت نے جلسے جلوس،احتجاج اورریلیاں منعقدکیں،منتخب صوبائی اسمبلی کی موجودگی میں غیرمنتخب افرادکا جرگہ اسمبلی ہال میں،جبکہ اسمبلی کا اجلاس کرکٹ گراؤنڈمیں منعقدکیا۔ان تمام اقدامات کامقصدخود نمائی، ذاتی یاپارٹی تشہیرکے سواکچھ نظرنہیں آتا۔ صوبائی حکومت کی قلم چھوڑ ہڑتال سے وفاقی حکومت کی صحت پر کیافرق پڑسکتاہے البتہ صوبے کے باسی اس سے شدیدمتاثر ہوئے۔ پہلے ہی خلیج جنگ کی وجہ سے کفایت شعاری اقدامات کے تحت سرکاری دفاترمیں پیر،منگل،بدھ اور جمعرا ت کو کام ہوتاہے جبکہ جمعہ،ہفتہ اوراتوارکو چھٹی رہتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے قلم چھوڑہڑتال کے سبب دوردرازسے آئے سائلین مایوس لوٹ گئے اوپرسے وکلابھی اس دن مولانا ادریس کی شہادت کے باعث ہڑتال پرتھے جس سے سائلین کوشدیدمشکلات کا سامنا رہا۔
لیڈی ہیلتھ ورکرزکادس ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پراسمبلی چوک میں احتجاجی مظاہرہ اوردھرنا
اس سے ایک روزقبل لیڈی ہیلتھ ورکرزنے دس ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اوراپ گریڈیشن نہ ہونے کے خلاف دھرنادیا جس سے جی ٹی روڈ بند اورٹریفک جام ہوگئی۔سورے پل کی بندش سے پوراپشاوربندہوجاتاہے اورمسافروں کوشدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑتاہے۔ منگل کے روزعلی الصبح صوبہ بھر سے آئی ہوئی لیڈی ہیلتھ ورکرزنے وہاں احتجاج کیا، دھرنادیا اور حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔یہ خبریں اورخواتین کی ویڈیوزسوشل میڈیاپراپلوڈہوئیں جس میں ایل ایچ ویز نے حکومت کوبرا بھلا کہا۔سوشل میڈیاپر ویڈیوز وائرل ہونے اورلعن طعن کانشانہ بننے پرحکومت کے کان کھڑے ہوئے اورمعاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقا ت عامہ شفیع جان نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی نمائندہ وفدسے کامیاب مذاکرات کئے،لیڈی ہیلتھ ورکرزکے مسائل،تنخواہوں کی عدم ادائیگی،اپ گریڈیشن نہ ہونے اوردیگرامور پر مذاکرات ہوئے۔شفیع جان نے نمائندہ وفدکویقین دلایاکہ حکومت مسائل کے حل کیلئے اقدامات کررہی ہے، 2ماہ کی تنخواہیں دودن کے اندر اداکردی جائینگی جبکہ مزیدچارماہ کی تنخواہیں بھی جلداداکردی جائینگی،صحت کاشعبہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، لیڈی ہیلتھ ورکرزکی خدمات قابل ستائش ہیں وہ انتہائی نامساعدحالات میں عوام کوصحت کی بنیادی سہولیا ت فراہم کرتی ہیں انکی محنت،لگن اورخدمات قابل تحسین ہیں صوبائی حکومت انکی فلاح وبہبودکیلئے ہرممکن اقدامات کریگی۔انکی یقین دہانی پراحتجاج ختم کردیاگیامگریہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ حکومت دس ماہ سے غریب لیڈی ہیلتھ ورکرزکی تنخواہیں کیوں ادانہیں کررہی؟وعدوں پرٹرخانے کی بجائے فوری ادائیگی کے احکامات جاری کرنے میں کونساامرمانع ہے؟مردان اورمانسہرہ کو75ارب روپے پیکیجز دینے والی حکومت کاخزانہ خالی تونہیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اسلام آبادپرچڑھائی کیلئے سرگرداں،جرگہ میں قابل اعتراض زبان کااستعمال
صوبائی حکومت ایک بارپھروفاق کیخلاف میدان گرمانے کیلئے پرتول رہی ہے۔اس سلسلے میں گزشتہ ہفتے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ایک جرگہ منعقدکیاگیاجس سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ نے آرمی چیک پوسٹس کوشدیدتنقیدکانشانہ بنایا بلکہ انکے الفاظ بدزبانی کے زمرے میں آتے ہیں۔جسے صوبے کے سنجیدہ وفہمیدہ حلقوں میں ناپسندیدگی کی نظرسے دیکھاگیا۔وزیراعلیٰ کوقبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں پرغصہ ہے ان کاکہناہے کہ قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشنزکے دوران عام شہری بھی نشانہ بنتے ہیں اسلئے ان علاقوں میں نہ صرف ڈرون حملے بلکہ آپریشنزبھی بندکئے جائیں۔سہیل آفریدی نے سیاسی مصلحتوں کے تحت فوج کوبدنام کرنے کانارواوطیرہ اپنالیاہے وہ جوش خطابت میں قابل اعتراض زبان تواستعمال کرلیتے ہیں مگریہ نہیں بتاتے کہ فوج آپریشنزکس کیخلاف کرتی ہے؟وزیراعلیٰ کے پاس ان کا متبادل کیا ہے؟یااگرفوج یہ آپریشنزبندکردے توکیاصوبہ دہشتگردوں اور عسکر یت پسندوں کے حوالے کیاجائے؟۔انہوں نے وفاق کوسی این جی بندش پرچودہ دن کاالٹی میٹم دیاحالانکہ انہیں وفاق کو کوئی قابل عمل حل پیش کرناچاہئے تھا۔انہوں نے ایک بارپھرقبائل کواسلام آباد لیجاکر دھر نے کااعلان کیاہے۔اسلام آبادمیں دھرناانکی دیرینہ آرزوہے جوتاحال تشنہء تکمیل ہے۔اسلئے یہ ہرہفتے اسلام آبادپرچڑھائی اور وہاں احتجاج یا دھرنے کی دھمکی دیتے ہیں مگراگلے ہفتے اسے بھلابھی دیتے ہیں۔سپیکرصوبائی اسمبلی نے اپنی سربراہی میں اپوزیشن اورحکومتی ارکان پرمشتمل تیرہ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جووفاقی حکومت سے بجلی کے خالص منافع کی عدم ادائیگی،آئل اینڈگیس اوردیگرمدات میں واجبات، صوبے کے قانونی اورمالی معاملات پرمذاکرات کریگی۔
شیخ الحدیث مولانامحمدادریس کی شہادت،نمازجنازہ میں ہزاروں افرادکی شرکت،امن پسندی کاپیغام
ممتازعالم دین جے یوآئی کے مرکزی راہنماشیخ الحدیث مولانامحمدادریس کوچارسدہ میں ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بناکر شہیدکردیاگیا۔ مولانامحمد ادریس اعتدال پسندعالم دین تھے۔انکے معتقدین انکی ویڈیوزسوشل میڈیاپروائرل کرتے تھے جس سے وہ صوبے میں خاصے مقبول تھے۔ ان کا تعلق چارسدہ کے علاقے ترنگزئی سے تھا۔وہ صبح سویرے اپنی رہائشگاہ سے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کیلئے روانہ ہوئے تھے جہاں وہ بخاری شریف کادرس دیتے تھے۔انہیں ایمل ولی خان کے آبائی گاؤں اتمانزئی میں نشانہ بنایاگیا۔مولاناادریس جے یوآئی کے مرکزی شوریٰ کے ممبراور چارسدہ کے ضلعی امیرتھے،مرحوم مولاناحسن جان کے دامادتھے۔جنہیں 2007میں گولی مارکرشہیدکیاگیاتھا۔یادرہے مولانا حسن جان نے 1990ء میں خان عبدلالولی خان کوانکے آبائی نشست پر شکست دی تھی جس پرولی خان انتخابی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے تھے اوراپنی وفات تک کسی انتخاب میں حصہ نہیں لیا۔مولاناادریس کے جنازے میں ہزاروں افرادکی شرکت نے دہشتگردوں کو واضح پیغام دیاکہ عوام شدت پسندی کے خلاف ہیں۔مولاناکاتعلق علما خاندان سے تھاانکے دادااوروالدعالم دین تھے جبکہ دوبھائی اور بیٹا بھی عالم دین ہیں۔ مولاناادریس نے گزشتہ دنوں آرمی چیف فیلڈمارشل عاصم منیرکی تعریف وتوصیف کی تھی جس پرٹی ٹی پی اورافغان طالبان ان سے ناراض تھے۔آئی جی خیبرپختونخواذوالفقارحمیدکے مطابق سیف سٹی کیمروں سے ٹارگٹ کلرزکی تصاویرحاصل کی گئی ہیں۔ جنہیں بہت جلد قانون کی گرفت میں لایاجائیگا۔انکے قتل کی ایف آئی آرمردان سی ٹی ڈی تھانے میں درج کرلی گئی ہے۔
محکمہ تعلیم کے دفاتراورسکول پیسکوکے دوارب روپے نادہندہ،بجلی کاٹنے کے احکامات
محکمہ تعلیم کے دفاتراورسکولزپیسکوکے 2ارب روپے کے نادہندہ ہیں جس کے باعث پیسکوحکام نے تمام آپریشنل ٹیموں کومحکمہ تعلیم کے دفاتر اور سکولوں کی بجلی منقطع کرنے اورمحکمے کیساتھ کسی قسم کاتعاون نہ کرنے کے احکامات جاری کردئے ہیں۔پیسکوذرائع کااس حوالے سے کہنا تھاکہ محکمہ تعلیم 2ارب روپے کامقروض ہے،محکمہ فنانس اورتعلیم کے نوٹس میں بارہالانے کے باوجودبقایاجات ادانہیں کئے جار ہے۔ ہمیں گرمی میں بچوں کے سکولوں کی بجلی منقطع کرنے کادکھ ہے مگرہماری بھی مجبوری ہے۔آپریشنل ٹیموں کوسختی سے ہدایا ت جاری کی گئی ہیں کہ محکمہ تعلیم کے میٹرزاتارنے کیساتھ ساتھ تاریں بھی اتاردی جائیں اور دوارب روپے کی ادائیگی تک بجلی بحال نہ کی جائے۔بچوں کے امتحانات جاری ہیں ایسے میں پیسکوکواس ظالمانہ اقدام سے گریزاورصوبائی حکومت کوواجبات اداکرنے کی ضرورت ہے۔