Traffic in Galiyat During Eid

ہرنو اور گلیات جانے والی سڑکوں پر سیاحوں کا غیر معمولی رش

ایبٹ آباد: ہرنو اور گلیات جانے والی شاہراہوں پر سیاحوں کے غیر معمولی رش اور ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث مختلف مقامات پر گاڑیوں کی رفتار سست ہو گئی ہے، جبکہ ٹریفک پولیس نے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے خصوصی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

ٹریفک پولیس ایبٹ آباد کے مطابق ہرنو پارکس میں گاڑیوں کے داخلے اور اخراج کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں بعض مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے۔ تاہم اہلکار ٹریفک کی بحالی اور شہریوں و سیاحوں کی سہولت کے لیے مسلسل ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔

ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ الحمدللہ ہرنو اور گلیات سے ایبٹ آباد آنے والی سڑک پر اس وقت ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔

پولیس نے شہریوں، خصوصاً ایبٹ آباد کے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور بلا ضرورت ہرنو یا گلیات کا رخ نہ کریں تاکہ سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام مسافر دورانِ سفر لین ڈسپلن اور ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنائیں تاکہ ٹریفک کی روانی برقرار رکھی جا سکے۔

Governor KP visited DI Khan Airport

گورنر خیبر پختونخوا کا ڈیرہ اسماعیل خان ائیرپورٹ کا دورہ

گورنر خیبر پختونخوا نے ایئرپورٹ کا دورہ کیا جہاں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے حکام نے انہیں ایئرپورٹ کی موجودہ صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر ایئرپورٹ حکام نے گورنر کا استقبال بھی کیا۔
فیصل کریم کنڈی نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے ڈیرہ ایئرپورٹ سے متعلق بیان پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ رن وے پر کارپٹنگ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی ماندہ کام جلد مکمل کر کے ایئرپورٹ کو اے ٹی آر پروازوں کے لیے قابلِ استعمال بنایا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ اسماعیل خان ایئرپورٹ 2015 میں بند کر دیا گیا تھا اور اب اس کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر آلات اور عملے کی کمی کو جلد پورا کیا جانا چاہیے جبکہ آڈٹ اور سیفٹی اسسمنٹ بھی ناگزیر ہیں۔
گورنر نے امید ظاہر کی کہ وزیر دفاع جلد ہی ایئرپورٹ پر کمرشل آپریشنز کی بحالی سے متعلق خوشخبری دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ساؤتھ ایئر حکام کے ساتھ ملاقات میں ڈیرہ اسماعیل خان اور چترال کے لیے پروازوں کے اجراء پر بھی بات چیت ہوگی، جبکہ نجی ایئرلائنز کو خیبر پختونخوا میں فضائی آپریشنز شروع کرنے کے لیے راغب کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مجوزہ گرین فیلڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ 1700 ایکڑ سے زائد رقبے پر تعمیر کیا جائے گا اور سالانہ 10 لاکھ مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کی گنجائش رکھے گا۔ ان کے مطابق ایئرپورٹ کو پیزو، لکی مروت یا بنوں منتقل کرنا مناسب نہیں، جبکہ یارک کے قریب مجوزہ مقام پورے خطے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
اس موقع پر گورنر نے این-55 ڈیرہ پروہ روڈ کی دو رویہ تعمیر پر بھی جلد کام شروع ہونے کی نوید سناتے ہوئے کہا کہ منصوبے کے ٹینڈرز مکمل ہو چکے ہیں۔
سیاسی امور پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے گندم پر عائد پابندی کو زیادتی اور آئین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ آج انہی لوگوں کے پاس گئے ہیں جنہیں ماضی میں تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ آئینی عدالت اور مجوزہ 28ویں ترمیم کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ابھی کسی مسودے کو حتمی شکل نہیں دی گئی اور پاکستان پیپلز پارٹی ہر آئینی معاملے کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی تجاویز پیش کرتی ہے۔

Eid Mela in North Waziristan

عیدالاضحیٰ کی تعطیلات میں رزمک سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہا

شمالی وزیرستان: عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے دوران رزمک میں سیاحوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا، جہاں جنوبی اضلاع اور صوبے کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں سیاح تفریح اور سیر و سیاحت کے لیے پہنچے۔

سیاحوں کا کہنا ہے کہ رزمک کا خوشگوار موسم، ٹھنڈی ہوائیں، سرسبز پہاڑ اور قدرتی مناظر اسے خطے کے خوبصورت ترین سیاحتی مقامات میں شمار کرتے ہیں۔ عید کی چھٹیوں کے دوران خاندانوں کی بڑی تعداد نے رزمک کے دلکش نظاروں سے لطف اٹھایا اور علاقے کی قدرتی خوبصورتی کو سراہا۔
سیاحوں نے رزمک کو سیاحت کے حوالے سے بے پناہ صلاحیتوں کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ ملکی سطح پر ایک اہم سیاحتی مرکز بن سکتا ہے، تاہم یہاں بنیادی سہولیات کی کمی سیاحتی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
مختلف سیاحوں نے بہتر سڑکوں، معیاری رہائشی سہولیات، تفریحی مقامات اور صفائی کے مؤثر نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رزمک کی سیاحتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ مقامی آبادی کو روزگار کے مواقع میسر آئیں اور علاقے کی معیشت کو فروغ حاصل ہو۔
سیاحوں اور مقامی افراد نے رزمک کو پاکستان کا قیمتی قدرتی اور سیاحتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس خوبصورت مقام کی ترقی اور تشہیر کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔