عقیل یوسفزئی
کالعدم گروپ جماعت الاحرار نے گزشتہ شب کراچی میں رینجرز کے ہیڈکوارٹر پر بڑے سکیل کا منظم حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد رینجرز اہلکار شہید اور زخمی ہوئے جبکہ 4 دہشت گردوں کو بھی جان سے جانا پڑا ۔ سیکورٹی حکام کے مطابق ایک افغان دہشت گرد کو زخمی حالت میں پکڑا بھی گیا ہے ۔ اس سے ایک دو روز قبل بلوچستان کے دو تین علاقوں میں فورسز نے کارروائیاں کرتے ہوئے تقریباً ایک درجن بلوچ مزاحمت کاروں کو ہلاک کردیا جبکہ خیبر پختونخوا کے بعض جنوبی اور قبائلی علاقوں میں بھی دو طرفہ حملوں کا سلسلہ جاری رہا ۔
کراچی کو ماضی قریب میں بلوچستان کے راستے بی ایل اے وغیرہ نشانہ بناتے رہے ہیں اور زیادہ تر حملوں میں چینی باشندوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا تاہم کافی عرصے سے پشتون طالبان گروپ اس کے باوجود کراچی سے لاتعلق رہے کہ ماضی میں یہاں بے شمار حملے کیے گئے ۔ اس تناظر میں کہا جاسکتا ہے کہ کراچی کو ایک بار پھر خطرات لاحق ہوگئے ہیں کیونکہ رینجرز ہیڈکوارٹر پر اس طرح منظم حملہ کوئی عام کارروائی نہیں ہے ۔
جماعت الاحرار اگر چہ نورولی محسود کی زیر قیادت ٹی ٹی پی کا اتحادی گروپ ہے تاہم تنظیمی اور نظریاتی طور پر دونوں گروپوں میں کافی فرق بلکہ اختلاف پایا جاتا ہے ۔ الاحرار کا ایک بنیادی موقف یہ رہا ہے کہ پاکستان کی ریاست اور پالیسی میکرز پر دباؤ ڈالنے کے لیے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی بجائے راولپنڈی اسلام آباد ، پنجاب اور سندھ کو نشانہ بنایا جائے ۔ اس سلسلے میں الاحرار نے پنجاب کے سرحدی علاقوں میں متعدد حملے بھی کیے تاہم کراچی والے حملے کو عالمی میڈیا نے بہت ہائی لائٹ کردیا ہے جس کا آئی ایس پی آر نے اس اعلان کے ساتھ جواب دیا ہے کہ دہشت گروپوں کے خلاف کارروائیاں نہ صرف جاری رہیں گی بلکہ ان میں تیزی لائی جائے گی ۔
ماہرین کے مطابق مختلف علاقوں میں کرایے گئے حملوں کی تعداد میں ایک بار پھر اضافہ اس لیے بھی ہوا ہے کہ گزشتہ کئی مہینوں سے پاکستان کی عسکری قیادت کی زیادہ تر توجہ بوجوہ امریکہ ایران مذاکرات پر مرکوز رہی جس کے نتیجے میں افغانستان اور وہاں موجود گروپوں ، ان کے سرپرستوں پر پہلی کی طرح توجہ نہیں دی گئی ۔
دوسری وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ایران امریکہ معاہدے کے بعد پاکستان کی متوقع اقتصادی اڑان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں کیونکہ ایران کے ساتھ متوقع ری انگیجمنٹ میں نہ صرف بلوچستان اور افغانستان کے سیکیورٹی معاملات پر بہت فرق پڑے گا بلکہ بلوچستان کے متعدد پراجیکٹس کے مخالف ممالک اور قوتوں کے مفادات بھی خطرے سے دوچار ہوں گے اس لیے بلوچستان کے علاؤہ کراچی جیسے شہر کو نشانہ بناکر دیگر اسٹیک ہولڈرز کو یہ پیغام دیا جائے کہ کراچی میں رینجرز کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔
اس تمام تر صورتحال کو ایک نئی گریٹ گیم کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی تمام دفاعی اور سفارتی کامیابیوں کے باوجود اسے نہ صرف سیکیورٹی کے مزید نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ مختلف ریاستوں اور قوتوں کے ذریعے حملہ آور گروپوں کی مزید سرپرستی بھی کی جائے گی ۔
اس سلسلے میں گزشتہ شب پاکستان ائیر فورس نے سخت ردعمل کے طور پر افغانستان کے تین صوبوں پکتیا ، کنڑ اور پکتیکا میں فضائی کارروائیوں کے دوران ان مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جہاں سے بقول وزیر اطلاعات عطاء تارڑ پاکستان پر حملے کیے جاتے تھے اور یہ کہ رینجرز پر ہونے والے حملے کی پلاننگ بھی افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں کی گئی تھی ۔ وزیر اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں 30 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے تاہم افغان میڈیا یہ تعداد 50 سے زائد بتارہی ہے ۔
حالیہ فضائی کارروائیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ نشانہ بنانے والے بعض ٹھکانوں کی معلومات عثمان علی نامی اس افغان دہشت گرد نے فراہم کی تھیں جس کو رینجرز آپریشن کے دوران زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا تھا اور وہ ننگرہار افغان کا باشندہ ہے ۔
بونیر: گل د نمیر 2026 میلے کا رنگا رنگ افتتاح
بونیر گل د نمیر 2026 میلے کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب آج شام ضلع بونیر میں منعقد ہوگی۔ افتتاحی تقریب کا آغاز شام 7 بجے ڈگری کالج ڈگر بونیر میں ہوگا۔ جس میں منفرد پرفارمنس پیش کریں گے۔ افتتاحی تقریب میں ثقافت اور تفریح کا حسین امتزاج پیش کیا جائے گا۔ مارشل آرٹس کی شاندار پرفارمنس تقریب کا خاص حصہ ہوگی۔ فائر شو افتتاحی تقریب کی رونقوں میں اضافہ کرے گا۔ میلے میں مقامی فنکار اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ بونیر گل د نمیر 2026 نوجوانوں، کھیلوں اور ثقافتی ورثے کے فروغ کا منفرد جشن ہوگا۔ تین روزہ میلے میں کھیلوں، ثقافتی سرگرمیوں اور مقامی ہنر کی دلکش نمائش پیش کی جائے گی۔ عوام کی بڑی تعداد کی افتتاحی تقریب میں شرکت متوقع، انتظامات مکمل۔ بونیر گل د نمیر 2026 بونیر کی خوبصورتی، ثقافت اور روایات کا بھرپور عکاس ثابت ہوگا۔

