وصال محمدخان
شہدائے پولیس کادن یعنی4اگست ہرسال ان بہادرپولیس اہلکاروں اورافسران کوخراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منایاجاتاہے جنہوں نے وطن عزیزکی سلامتی،عوام کے جان ومال کی تحفظ اورامن وامان کے قیام کی خاطراپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا۔یہ دن ہمیں یاددلاتاہے کہ امن وسکون اورقانون کی بالادستی ان بے شمارقربانیوں کاثمرہے جوپولیس کے جوانوں اورافسران نے ملک وقوم کی خاطردی ہیں۔ خیبر پختو نخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کی ایسی لازوال داستانیں رقم کی ہیں جوتاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔صوبہ خیبرپختونخوا کوگزشتہ نصف صدی سے امن وامان کے سنگین مسائل کاسامناہے۔ان مشکل حالات میں صوبے کی پولیس نے فرنٹ لائن فورس کے طورپرہمیشہ اپنی ذمہ داریاں لگن،ایمانداری اورحب الوطنی کے جذبے کے تحت اداکیں۔محدودوسائل کے باوجودپولیس افسران اورجوانوں نے اپنے اورعوام کے حوصلے بلندرکھے اورہرمحاذپرملک وقوم کی حفاظت کواپنی اولین ترجیح بنایا۔خیبرپختونخواپولیس کے ہزاروں افسران اوراہلکاران دہشتگردی کیخلاف جنگ میں شہیداورزخمی ہوئے انہوں نے تھانوں،چیک پوسٹوں،گشت کے دوران اور حساس تنصیبات کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔شہدائے پولیس نے ثابت کیاکہ وطن کی سلامتی اورعوامی تحفظ کیلئے جان کانزرانہ دیناان کیلئے سب سے بڑااعزازہے۔شہدائے پولیس کی ان عظیم قربانیوں کے سبب آج خیبرپختونخوامیں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری دیکھنے کومل رہی ہے۔یہ کامیابیاں صرف قانون نافذکرنیوالے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کانتیجہ نہیں بلکہ ان شہداکے خون کی مرہون منت ہیں جنہوں نے ملک وقوم کی خاطراپنی جانیں واردیں۔ہرشہیداپنے پیچھے ایک خاندان،والدین،شریک حیات اوربچوں کوچھوڑجاتاہے مگرانکے اہلخانہ صبر،حوصلے اوروطن سے محبت کی عظیم مثال قائم کرتے ہیں۔پوری قوم پرفرض ہے کہ وہ شہدا کے خاندانون کی عزت وتکریم،خدمت اوربھرپورمعاونت کرے کیونکہ شہداصرف پولیس کے نہیں بلکہ پوری قوم کے ہیروہیں۔امن کاقیام صرف پولیس کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔ عوام اگرپولیس کے ساتھ تعاون کریں،مشکوک سرگرمیوں کی بروقت اطلاع دیں اورقانون کی پاسداری کریں توملک ومعاشرہ مزیدمحفوظ اورپرامن بن سکتے ہیں خیبرپختونخواپولیس اورعوام کے درمیان اعتماداورتعاون ہی دیرپاقیام امن کی ضمانت ہے۔شہدائے پولیس کادن ہمیں ان عظیم سپوتوں کی یاددلاتاہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیکرملک وقوم کوامن کاتحفہ دیا۔خیبرپختونخواپولیس کی لازوال قربانیاں پاکستانی تاریخ کاروشن باب ہیں۔آج پوری قوم اپنے شہدائے پولیس کوسلام پیش کرتی ہے اوراس عہدکی تجدیدکی جارہی ہے کہ ان قربانیوں کوفراموش کیاجاسکتاہے اورنہ ہی کبھی ایساکیاجائیگا۔ آج یوم شہدائے پولیس کے دن4اگست کوپوری قوم دست بدعاہے کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداکے درجات بلندفرمائے،انکے اہلخانہ کوصبرجمیل عطافرمائے اوروطن عزیزپاکستان کوہمیشہ کیلئے امن،ترقی اورخوشحالی کاگہوارہ بنائے۔آمین
پشاور بورڈ: میٹرک 2026 کے نتائج کا اعلان
تعلیمی بورڈ پشاور نے میٹرک کے سالانہ امتحانات 2026 کے نتائج کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی ہزاروں طلبہ، والدین اور اساتذہ کا انتظار ختم ہو گیا۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی امتحانات میں بڑی تعداد میں طلبہ نے حصہ لیا، جبکہ کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ نے اپنی محنت کا ثمر پایا۔ دوسری جانب کچھ طلبہ مطلوبہ کامیابی حاصل نہ کر سکے، تاہم ان کے لیے بھی مستقبل میں بہتر کارکردگی دکھانے کے مواقع موجود ہیں۔ بورڈ انتظامیہ کے مطابق رواں سال نویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں 97 ہزار 950 طلبہ نے حصہ لیا۔ امتحانات کے انعقاد کے بعد جو نتائج سامنے آئے، ان کے مطابق 57 ہزار 847 طلبہ اگلی جماعت میں پروموٹ ہونے میں کامیاب رہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے کامیابی حاصل کی، جبکہ دیگر طلبہ کو اپنی تعلیمی کارکردگی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات میں 95 ہزار 496 طلبہ شریک ہوئے۔ نتائج کے مطابق 66 ہزار 988 طلبہ نے امتحانات کامیابی سے پاس کیے، جبکہ 27 ہزار 788 طلبہ مطلوبہ نمبرز حاصل نہ کر سکے اور فیل قرار پائے۔ ان نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ کامیاب طلبہ کی تعداد قابلِ ذکر ہے، لیکن ناکام ہونے والے طلبہ کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے، جس پر تعلیمی ماہرین اور والدین کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق امتحانی نتائج صرف طلبہ کی محنت ہی نہیں بلکہ تدریسی معیار، والدین کی رہنمائی اور تعلیمی ماحول کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ بہتر نتائج کے لیے ضروری ہے کہ اسکولوں میں معیاری تعلیم فراہم کی جائے، اساتذہ جدید تدریسی طریقوں کو اپنائیں اور طلبہ کو ذہنی دباؤ سے نکال کر مثبت انداز میں تعلیم کی طرف راغب کیا جائے۔
بورڈ انتظامیہ نے کامیاب ہونے والے تمام طلبہ کو مبارکباد پیش کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی اپنی تعلیمی کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ ساتھ ہی ناکام ہونے والے طلبہ کو مایوس نہ ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے، کیونکہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ کامیابی کی جانب ایک نیا سبق ہوتی ہے۔ مسلسل محنت، درست منصوبہ بندی اور اساتذہ کی رہنمائی سے آئندہ امتحانات میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ نتائج کے اعلان کے بعد بورڈ کی ویب سائٹ اور دیگر آن لائن ذرائع پر طلبہ کی بڑی تعداد نے اپنے نتائج چیک کیے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں بھی کامیاب طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ ان کی کامیابی کو سراہا جا سکے اور دوسرے طلبہ کو بھی محنت کی ترغیب ملے۔ مجموعی طور پر تعلیمی بورڈ پشاور کے میٹرک امتحانات کے نتائج یہ ظاہر کرتے ہیں کہ صوبے میں تعلیم کے شعبے میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہیں
نوشہرہ: 4 اگست یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر واک کا انعقاد
نوشہرہ 4 اگست یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر پاکستان ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ضلع نوشہرہ کے صدر عابد سلطان نے رسالپور کے صحافیوں کوانٹرویو دیتے ہوئے اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس شہداء اور غازیوں کا محکمہ ہے، جس کے افسران اور جوانوں نے امن و امان کے قیام، دہشت گردی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بے شمار لازوال قربانیاں دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یومِ شہدائے پولیس ہمیں ان عظیم سپوتوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے وطن کی سلامتی اور عوام کے تحفظ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کی قربانیاں پوری قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں، جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔عابد سلطان نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مثالی بہادری، جرات اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ آج امن کی بحالی میں شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کا بنیادی کردار ہے، جس پر پوری قوم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔انہوں نے حکومتِ خیبر پختونخوا اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ شہداء کے اہل خانہ کی ہر سطح پر بھرپور سرپرستی، فلاح و بہبود اور مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے تاکہ انہیں یہ احساس رہے کہ پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔آخر میں انہوں نے تمام شہدائے پولیس کے درجات کی بلندی، غازیوں کی سلامتی اور ملک میں دائمی امن و استحکام کے لیے دعا کی۔
ضلع خیبر میں یومِ شہداء پولیس کے موقع پر واک کا انعقاد
ضلع خیبر میں یومِ شہداء پولیس کے سلسلے میں ایک پروقار واک کا انعقاد کیا گیا، جس میں پولیس افسران، قومی مشران اور شہداء کے ورثاء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر شرکاء نے شہداء پولیس کی لازوال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔واک سے خطاب کرتے ہوئے ایس پی بادشاہ خان اور ایس ایچ او صدیق آفریدی نے کہا کہ یومِ شہداء منانے کا مقصد وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء زندہ ہیں اور ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ایس پی جمرود نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم جس امن اور سکون کی زندگی گزار رہے ہیں، وہ انہی شہداء کی بے مثال اور لازوال قربانیوں کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس شہداء کی خدمات اور قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
ہفتۂ شہدائے پولیس: ڈیرہ اسماعیل خان میں بلڈ ڈونیشن کیمپ
ڈیرہ اسماعیل خان: ہفتۂ شہدائے پولیس کے سلسلے میں خیبر پختونخوا پولیس نے فاطمید فاؤنڈیشن کے اشتراک سے اعجاز شہید پولیس لائنز میں بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا، جس میں پولیس افسران اور جوانوں نے رضاکارانہ طور پر خون کے عطیات دے کر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کیمپ میں ریجنل پولیس آفیسر غلام مبشر میکن، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ضیاءالدین احمد سمیت پولیس افسران اور اہلکاروں نے بھرپور شرکت کی۔
اس موقع پر آر پی او غلام مبشر میکن نے کہا کہ پولیس شہداء نے وطن کے امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ رقم کی۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی لازوال قربانیاں پوری قوم کا سرمایہ ہیں اور انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ خون کا عطیہ دینا دراصل زندگی بچانے کے مترادف ہے اور ہفتۂ شہدائے پولیس کے موقع پر یہ اقدام شہداء کے عظیم مشن سے تجدیدِ عہد اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کا عملی اظہار ہے۔
ڈی پی او ضیاءالدین احمد نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور شہداء کے اہلِ خانہ پوری پولیس فورس کے لیے باعثِ فخر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور انسانیت کی خدمت کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ قومی فریضہ بھی سمجھتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر فاطمید فاؤنڈیشن کے نمائندگان نے ڈیرہ ریجن پولیس کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس کی جانب سے عطیہ کیا گیا خون نہ صرف قیمتی انسانی جانیں بچانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ معاشرے میں ایثار، ہمدردی اور خدمتِ خلق کے جذبے کو بھی فروغ دے گا۔
10 روزہ افغان بچے کو علاج کے لیے پاکستان میں داخلے کی اجازت
طورخم: انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کے شہر جلال آباد سے تعلق رکھنے والے 10 روزہ بیمار بچے کو والدین سمیت طورخم بارڈر کے راستے پاکستان میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔
حکام کے مطابق نومولود کو فوری طبی امداد کی غرض سے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا گیا، جہاں اسے ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا تاکہ نومولود کو بروقت علاج فراہم کرکے اس کی جان بچائی جا سکے۔





