وصال محمدخان
پاکستان سعودی عرب اورترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ خطے اوردنیاکی بدلتی ہوئی صورتحال میں اہم اورتاریخی پیشرفت ہے۔7اگست2026کومکہ مکرمہ میں طے پانیوالے اس معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ تینوں ممالک کی سلامتی کوباہمی طورپرمربوط کیا جائے اورکسی ایک ملک پرمسلح حملے کوتینوں کیخلاف حملہ تصورکرتے ہوئے مشترکہ دفاعی تعاون کومضبوط بنایاجائے۔پاکستان کے نقطہ نظر سے یہ معاہدہ اسلئے اہم ہے کہ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب اورترکیہ دونوں کیساتھ دیرینہ برادرانہ دفاعی اورسفارتی تعلقات رکھتاہے۔ ترکیہ کیساتھ دفاعی صنعت،فوجی تربیت اورٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مسلسل بڑھ رہاہے۔ جبکہ سعودی عرب کیساتھ پاکستان کے دفاعی تعلقات کئی دہائیوں پرمحیط ہیں۔اس دفاعی معاہدے کے ذریعے پاکستان کودواہم شراکت داروں کیساتھ اپنے دفاعی تعلقات کوایک وسیع ترفریم ورک میں آگے بڑھانے کاموقع ملے گا۔اس سے مشترکہ فوجی مشقوں،دفاعی ٹیکنالوجی،انٹیلی جنس تعاون،انسداددہشتگردی اور دفا عی صنعت میں اشتراک کے امکانات مزیدبڑھ جائینگے۔پاکستان کی دفاعی صلاحیت اورعالمی اہمیت کے حوالے سے اگرجائزہ لیاجائے تو پاکستان ایک ایٹمی طاقت اورخطے کی اہم عسکری قوت ہے اسکے پاس 7لاکھ زمینی فوج،جدیداورآزمودہ فضائیہ جبکہ بحریہ بھی کسی سے کم نہیں جبکہ یہ سفارتی میدان کابھی شہسوارہے اس نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کالوہاگزشتہ برس مئی میں بھارت کیخلاف منوایاہے جبکہ سفارتکار ی کا لوہاحالیہ ایران امریکہ جنگ میں پوری دنیاسے منواچکاہے۔ ترکیہ جدیددفاعی ٹیکنالوجی اورمضبوط دفاعی صنعت رکھتاہے اور یہ سلطنت عثمایہ کاوارث ہے۔ جبکہ سعودی عرب کے پاس خطے میں غیرمعمولی اقتصادی اورمالی وسائل موجودہیں اوریہ عالم اسلام کامذہبی مرکزہے۔ اس طرح تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایکدوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔پاکستان کیلئے خاس طورپرترکیہ کے ساتھ دفاعی صنعتی تعاون انتہائی اہم ہے۔طیاروں،ڈرونز،بحری جہازوں،دفاعی الیکٹرانکس اوردیگرشعبوں میں مشترکہ منصوبے پاکستان کی اپنی دفاعی پیداوار کو مزید مضبوط بناسکتے ہیں۔یہ معاہدہ محض فوجی تعاون تک محدودنہیں ہوناچاہئے بلکہ یہ پاکستان کے سفارتی اثرورسوخ میں اضافے کاذریعہ بھی بن سکتاہے۔ پاکستان تاریخی طورپرسعودی عرب اورترکیہ دونوں کیساتھ قریبی تعلقات رکھتاہے۔اب اگراسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان ایک مؤثر رابطہ اورتعاون کاپل بننے میں کامیاب ہوتاہے توخطے میں پاکستان کاسفارتی کردارمزیدمضبوط ہوسکتا ہے۔مزیداہم بات یہ ہے کہ پاکستانی حکام نے واضح کیاہے کہ یہ دفاعی معاہدہ کسی مخصوص ملک کیخلاف جارحیت نہیں بلکہ دفاعی نوعیت کاہے اور اس کا مقصد علاقائی سلامتی اور مشترکہ دفاع کومضبوط بناناہے۔معاہدے سے اگرخطے میں امن واستحکام پرپڑنے والے اثرات کاجائزہ لیا جائے تواس کاسب سے مثبت پہلویہ ہے کہ مضبوط دفاعی تعاون جنگ کاسبب بننے کی بجائے جنگ کوروکنے کاذریعہ بن سکتا ہے۔ جب ریاستیں ایکدوسرے کیساتھ کھڑی ہونے کاعزم ظاہرکرتی ہیں توممکنہ جارحیت کیخلاف ایک مضبوط پیغام جاتاہے۔ پاکستان کیلئے یہ خاص اہمیت کا حامل ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں دفاعی طاقت کیساتھ ساتھ امن،مذاکرات اورعلاقائی استحکام کوبھی ترجیح دیتاہے۔ اس معاہدے سے معاشی فوائدبھی ممکن ہیں، دفاعی تعاون کادائرہ اگرمناسب منصوبہ بندی کیساتھ آگے بڑھایاجائے تواسکے معاشی فوائدبھی سامنے آسکتے ہیں۔ پاکستان کے دفاعی صنعت کوسعودی عرب کی سرمایہ کاری اورترکیہ کی ٹیکنالوجی سے فائدہ مل سکتاہے۔ اس سے دفاعی پیداوار،روزگار، برآمدا ت اورجدید ٹیکنا لوجی کی حصول کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔پاکستان یقیناً اس دفاعی معاہدے کوصرف فوجی اتحادتک محدودرکھنے کاحامی نہیں بلکہ اسکی خواہش ہوگی کہ اسے دفاع،سفارتکاری،معیشت اورٹیکنالوجی کے اشتراک تک توسیع دی جائے۔ساتھ ہی پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ اس معاہدے کوکسی دوسرے ملک کیخلاف محاذآرائی کاذریعہ نہ بننے دے۔پاکستان کے اپنے ہمسایہ ممالک خصوصاًایران کیساتھ برادارنہ تعلقات ہیں جبکہ چین کیساتھ ہمالیہ سے بلنددوستی کا مستحکم باب موجودہے۔ اسلئے اسلام آبادکیلئے متوازن اوردانشمندانہ سفارتکاری انتہائی ضروری ہے۔ ایران کے کچھ غیراہم راہنماؤں نے معاہدے کیخلاف بیانات جاری کئے ہیں مگرملکی قیادت کی جانب سے اس پرلب کشائی سے گریزکیاگیاہے۔تینوں ممالک کواگردرپیش خطرات کاجائزہ لیاجائے توترکیہ کردوں کیساتھ دیرینہ تنازعہ میں الجھاہواہے، سعودی عرب کویمنی حوثیوں اوراسرائیل سے خطرہ ہے جبکہ پاکستان کومشرق میں بھارت کے جارحانہ عزائم اورمغرب سے افغانستان میں موجوددہہشتگرد و ں سے خطرہ لاحق ہے تینوں ممالک کے دفاعی تعاون سے ان خطرات کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے اور تدارک بھی ممکن بنائی جاسکتی ہے۔ بھارت جو گزشتہ برس کی جنگ میں شکست اورپاک ترکیہ تعاون سے شاکی ہے اسکے وزیرخارجہ نے ”ہم اس معاملے کودیکھ رہے ہیں ”کا بیان جاری کیا ہے مگراسکے دفاعی تجزیہ کاراسے بھارت کیلئے بڑاخطرہ قراردے رہے ہیں۔افغانستان میں موجوددہشتگردبھی معاہدے سے پریشانی کاشکارہوچکے ہیں جبکہ اسرائیل بھی منہ بسورنے اورجلنے کڑھنے کے روایتی مرض میں مبتلاہے۔تینوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیاکے امن واستحکام کاضمانت بن سکتاہے اگراس پرخلوص نیت سے عمل ہو۔تینوں ممالک کے دشمن اوربدخواہ معاہد ے کو اپنے نقطہ نظرکارنگ دینے کی کوششیں کرینگے مگرتینوں کوچاہئے کہ جیسے انہوں نے معاہدہ کرتے وقت کسی تیسرے کوبھنک نہ پڑنے دی اسی طرح معاندانہ روئیوں اوراعتراضات کوخاطرمیں نہ لاتے ہوئے آگے بڑھیں۔امت مسلمہ کواس قسم کے اتحادکی اشدضرورت تھی۔ گزشتہ نصف صدی سے مسلمان ممالک کوایک ایک کرکے تاخت وتاراج کیاجارہاہے۔اورہرملک کوبربادکرتے وقت دوسرے کودھمکی دی جاتی ہے کہ اگلی باری اسکی ہے جبکہ یہ آپس میں نفاق کے باعث کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔بعض تجزئے اسے اسلامی نیٹوسے تعبیرکر رہے ہیں۔فی الحال تویہ قیاس آرائی لگتی ہے مگریہ خارج ازامکان بھی نہیں منتشرامت مسلمہ کواپنی سلامتی کے معاملے پراکھٹاہوناپڑے گا۔ پاکستان، سعودی عرب اورترکیہ دفاعی معاہدے سے امت مسلمہ کی اتحاد،یکجہتی اورسلامتی پردوررس اثرات مرتب ہونگے۔
14 اگست شایانِ شان طریقے سے منائیں، چیف خطیب خیبرپختونخوا
پشاور: چیف خطیب خیبرپختونخوا مولانا محمد طیب قریشی نے قوم سے اپیل کی ہے کہ 14 اگست کو شایانِ شان طریقے سے منایا جائے اور پاکستان جیسی نعمت عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔
ایک بیان میں مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ اس سال قوم کو بیک وقت دو خوشیاں حاصل ہو رہی ہیں، ایک جشنِ آزادی اور دوسری عید میلاد النبی ﷺ کی خوشی۔ انہوں نے اسے محض اتفاق کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عطا قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر ان تمام ہیروز کو یاد کرنے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ضرورت ہے جن کی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا۔ تحریکِ آزادی میں نوجوانوں، بزرگوں، بچوں، ماؤں اور بہنوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات نے قربانیاں دیں۔
چیف خطیب خیبرپختونخوا نے کہا کہ نوجوان نسل کو تحریکِ آزادی کی تاریخ اور قیامِ پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو اسرائیل اور بھارت کے مبینہ حمایت یافتہ عناصر سمیت ان قوتوں کا سامنا ہے جو عالمِ اسلام کے اس اہم ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی حمایت کی جائے۔
انہوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں عوام کو ریاست کے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کریں اور دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کریں، کیونکہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور فوج میں خدمات انجام دینے والے اہلکار اسی ملک اور اسی مٹی کے بیٹے ہیں، اس لیے قوم کو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
چیف خطیب نے سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں باہمی تلخیاں ختم کریں اور سیاسی انتشار میں کمی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی گروہ کو ریاست اور ملکی قوانین کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی اور عدالتیں موجود ہیں اور تبدیلی کا راستہ صرف جمہوری طریقہ کار سے ہی ممکن ہے۔
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ اس پیش رفت نے پاکستان کے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والے اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ انہیں ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
انہوں نے پاکستانی قیادت کو عالمی سیاسی منظرنامے میں سیاسی، سفارتی اور عسکری سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پاکستان کی صلاحیتوں کا اعتراف کر رہی ہے۔
افغانستان سے متعلق مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم افغانستان کو اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان کے بقول افغانستان کو پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
ہرچین پولو گراؤنڈ میں تین روزہ یفتالی پولو کپ 2026 کا انعقاد
امیر اللہ خان یفتالی فاؤنڈیشن کے زیرِ نگرانی لاسپور کے تاریخی پولو گراؤنڈ ہرچین میں تین روزہ امیر اللہ خان یفتالی پولو کپ 2026 کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس منفرد اور روایتی کھیلوں کے میلے میں وادی لاسپور کے علاوہ اوی، سنوغر، مستوج اور چوینچ سے تعلق رکھنے والے نامور اور باصلاحیت پولو کھلاڑی شرکت کریں گے۔
یہ پولو کپ صرف ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ چترال میں فری اسٹائل پولو کی شاندار روایت، ثقافتی ورثے اور مقامی کھیلوں کی شناخت کو زندہ رکھنے کی ایک بامقصد کاوش ہے۔ اس ایونٹ کا مقصد نوجوان پولو کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع فراہم کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور فری اسٹائل پولو کے فروغ کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔
اس سلسلے میں لاسپور پولو ایسوسی ایشن کے کھلاڑیوں، سابق پولو پلیئرز اور کھیل سے وابستہ شخصیات نے ہرچین ہیریٹیج میوزیم میں خصوصی نشست میں شرکت کی، جہاں امیر اللہ خان یفتالی پولو کپ کو کامیاب بنانے، مقامی پولو کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
شرکاء نے امیر اللہ خان یفتالی مرحوم کی چترال میں فری اسٹائل پولو کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے پولو کو محض ایک کھیل نہیں بلکہ چترال کی ثقافتی شناخت، روایات اور نوجوان نسل کے جذبے سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی خدمات آج بھی پولو کے میدانوں میں زندہ ہیں اور ان کے نام سے منعقد ہونے والا یہ کپ اسی ورثے کو آگے بڑھانے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ امیر اللہ خان یفتالی پولو کپ 2026 فری اسٹائل پولو کے کھلاڑیوں کے لیے نہ صرف اپنی صلاحیتیں منوانے کا بہترین موقع ہے بلکہ اس سے چترال کے روایتی پولو کو نئی نسل تک منتقل کرنے اور مقامی سطح پر اس کھیل کو مزید منظم انداز میں فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔
اس موقع پر معروف پولو پلیئرز اور سابق کھلاڑیوں نے نوجوان پولو کھلاڑیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ چترال میں فری اسٹائل پولو کی روایت صدیوں پر محیط ثقافتی ورثے کا حصہ ہے، جس کے تحفظ اور فروغ کے لیے کھلاڑیوں، پولو ایسوسی ایشنز، سماجی اداروں اور کمیونٹی کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
امیر اللہ خان یفتالی فاؤنڈیشن کی جانب سے اس پولو کپ کا انعقاد اس عزم کا اظہار ہے کہ کھیل، ثقافت اور مقامی روایات کو فروغ دے کر نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں سے جوڑا جائے اور چترال کے تاریخی کھیل فری اسٹائل پولو کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید اجاگر کیا جائے۔
تین روزہ یہ پولو کپ نہ صرف شائقینِ پولو کے لیے ایک یادگار کھیلوں کا ایونٹ ہوگا بلکہ لاسپور کی تاریخی پولو روایت، مقامی ثقافت اور امیر اللہ خان یفتالی مرحوم کی کھیلوں کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک خوبصورت موقع بھی ثابت ہوگا۔




