Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Monday, August 10, 2026

14 اگست شایانِ شان طریقے سے منائیں، چیف خطیب خیبرپختونخوا

پشاور: چیف خطیب خیبرپختونخوا مولانا محمد طیب قریشی نے قوم سے اپیل کی ہے کہ 14 اگست کو شایانِ شان طریقے سے منایا جائے اور پاکستان جیسی نعمت عطا ہونے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔

ایک بیان میں مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ اس سال قوم کو بیک وقت دو خوشیاں حاصل ہو رہی ہیں، ایک جشنِ آزادی اور دوسری عید میلاد النبی ﷺ کی خوشی۔ انہوں نے اسے محض اتفاق کے بجائے اللہ تعالیٰ کی عطا قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی کے موقع پر ان تمام ہیروز کو یاد کرنے اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ضرورت ہے جن کی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا۔ تحریکِ آزادی میں نوجوانوں، بزرگوں، بچوں، ماؤں اور بہنوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات نے قربانیاں دیں۔

چیف خطیب خیبرپختونخوا نے کہا کہ نوجوان نسل کو تحریکِ آزادی کی تاریخ اور قیامِ پاکستان کے لیے دی جانے والی قربانیوں سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو اسرائیل اور بھارت کے مبینہ حمایت یافتہ عناصر سمیت ان قوتوں کا سامنا ہے جو عالمِ اسلام کے اس اہم ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی حمایت کی جائے۔

انہوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں عوام کو ریاست کے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کریں اور دہشت گردی کے خلاف واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کریں، کیونکہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اور فوج میں خدمات انجام دینے والے اہلکار اسی ملک اور اسی مٹی کے بیٹے ہیں، اس لیے قوم کو سیکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

چیف خطیب نے سیاسی جماعتوں پر بھی زور دیا کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں باہمی تلخیاں ختم کریں اور سیاسی انتشار میں کمی لانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی گروہ کو ریاست اور ملکی قوانین کو چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی اور عدالتیں موجود ہیں اور تبدیلی کا راستہ صرف جمہوری طریقہ کار سے ہی ممکن ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ اس پیش رفت نے پاکستان کے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والے اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ انہیں ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

انہوں نے پاکستانی قیادت کو عالمی سیاسی منظرنامے میں سیاسی، سفارتی اور عسکری سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دنیا پاکستان کی صلاحیتوں کا اعتراف کر رہی ہے۔

افغانستان سے متعلق مولانا محمد طیب قریشی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم افغانستان کو اپنی خارجہ پالیسی کے حوالے سے واضح فیصلہ کرنا ہوگا۔ ان کے بقول افغانستان کو پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

14 اگست شایانِ شان طریقے سے منائیں، چیف خطیب خیبرپختونخوا

Shopping Basket