عقیل یوسفزئی
15 اگست کو افغانستان پر نام نہاد دوحہ معاہدے کے ذریعے مسلط کی گئی افغان طالبان کی حکومت کو پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں تاہم افغان عوام کی اکثریت ، میڈیا پرسنز ، عالمی ماہرین اور میڈیا نے اس دور حکومت کو ناکام اور خطے کے امن کے لیے رسک قرار دیتے ہوئے اپنے تاثرات اور رپورٹس میں اس بات پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر افغانستان کی سرزمین دہشت گردوں کی سرپرستی کے لیے استعمال ہوتی رہی تو اس کے بہت خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ۔
اقوام متحدہ نے ایک مانیٹرنگ رپورٹ میں گزشتہ روز ایک بار پھر کہا ہے کہ افغان حکومت پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث بی ایل اے ، ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کی کھل کر حمایت اور سرپرستی کرتی آرہی ہے جس کے باعث خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پاکستان کو سخت جانی ، مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یہ کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران ان حملوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔
مگر مختلف افغان وزراء 15 اگست کے تناظر میں دیئے انٹرویوز کے دوران یہ موقف اختیار کرتے دکھائی دیے کہ پاکستان میں جاری دہشتگردی اس کے اندرونی معاملات کا نتیجہ ہے اور یہ کہ افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی کے خلاف استعمال نہیں ہورہی ۔
یہ بات ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر پوری دنیا کو معلوم ہے کہ افغان حکومت نے دوحہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی اور نہ صرف یہ کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خلاف ان کی سرزمین استعمال ہوتی رہی بلکہ اس سخت گیر حکومت نے اپنے عوام کو بھی یرغمال بناتے ہوئے ان کے بنیادی انسانی حقوق بھی سلب کیے رکھے اور اسی کا ردعمل ہے کہ رواں برس شمالی افغانستان میں مختلف مزاحمتی گروپوں نے طالبان کے خلاف کارروائیوں کا باقاعدہ آغاز کیا جس میں مزید شدت واقع ہوئی ہے ۔
اسی طرح گزشتہ روز داعش نے پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبے ننگرہار میں افغان طالبان پر ایک بڑا حملہ کرکے 26 سے زائد اہلکاروں کو ہلاک کردیا اور جنگ یا مزاحمت کا سلسلہ اب افغانستان کے پشتون علاقوں تک پھیلنے لگا ہے اس کے باوجود افغان حکومت کو جاری صورتحال اور درپیش مسائل کا کوئی ادراک نہیں ہورہا اور اس وقت حالت یہ ہے کہ پاکستان سمیت تمام پڑوسی اس حکومت کے خلاف ہوگئے ہیں کیونکہ سب کو اپنی سیکیورٹی کے تناظر میں شدید خطرات کا سامنا ہے ۔
