Voice of Khyber Pakhtunkhwa
Tuesday, August 18, 2026

پی ایم ڈی سی کی نئی شرائط کے خلاف فارن میڈیکل گریجویٹس کا احتجاج

بیرونِ ملک سے میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنے والے پاکستانی گریجویٹس نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے حالیہ نوٹیفکیشنز اور کڑی شرائط کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور عدلیہ سے فوری انصاف اور قانونی تحفظ کی فراہمی کا پُر زور مطالبہ کیا ہے۔ پشاور پریس کلب میں ڈاکٹر وقاص اکبر، ڈاکٹر نور رحمان، ڈاکٹر حِنا اور ڈاکٹر جواد کی قیادت میں متاثرہ فارن میڈیکل گریجویٹس نے ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں پاکستانی طلبہ نے پی ایم ڈی سی کی باضابطہ طور پر منظور شدہ غیر ملکی جامعات میں اس وقت داخلہ لیا تھا جب وہ ادارے کونسل کی تسلیم شدہ فہرست کا حصہ تھے۔ طلبہ اور والدین نے ملکی قوانین پر اعتماد کرتے ہوئے اپنی عمر بھر کی جمع پونجی اور قیمتی سال طب کی تعلیم پر صرف کیے۔ تاہم 8 ستمبر 2025ء اور بعد ازاں 31 جولائی 2026ء کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشنز کے ذریعے ماضی کے داخلوں پر بھی نئی پابندیاں اور شرائط نافذ کر کے طلبہ کا مستقبل تاریک کر دیا گیا ہے۔

متاثرہ ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ اس ناانصافی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا تھا، جس پر معزز عدالت نے 2 اپریل 2026ء کو طلبہ کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ان متنازع اقدامات کو آئینِ پاکستان کی صریح خلاف ورزی قرار دیا اور متعلقہ نوٹیفکیشن منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس کے باوجود پی ایم ڈی سی انتظامیہ عدالتی احکامات تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ ڈاکٹروں نے استفسار کیا کہ جن جامعات کے فارغ التحصیل افراد برطانیہ، ریاستہائے متحدہ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سطح پر لائسنسنگ امتحانات میں شرکت کے اہل قرار پاتے ہیں، آخر انہیں پاکستان میں قومی رجسٹریشن امتحان (این آر ای) میں بیٹھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟

متاثرین نے صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، وفاقی وزیرِ صحت اور چیف آف آرمی اسٹاف سے معاملے کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آٹھ ستمبر 2025ء اور 31 جولائی 2026ء سے قبل داخلہ لینے والے یا تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ پر نئی پالیسی کا اطلاق فوری ختم کیا جائے۔ تمام متاثرہ ڈاکٹروں کو پرانے قواعد کے تحت عارضی رجسٹریشن اور این آر ای امتحان میں شرکت کا منصفانہ موقع فراہم کیا جائے۔ کسی بھی نئی پالیسی کا اطلاق محض مستقبل میں داخلہ لینے والے طلبہ پر کیا جائے۔ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آئینی اصولوں کے عین مطابق مستقل اور شفاف حکمتِ عملی وضع کی جائے۔

پی ایم ڈی سی کی نئی شرائط کے خلاف فارن میڈیکل گریجویٹس کا احتجاج

Shopping Basket