Khyber Pakhtunkhwa Food Authority has launched a 2-day special campaign against candies in major hospitals of the province

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کا غیر معیاری خوراک کے خلاف کارروائیاں

خیبرپختونخوا فوڈ اتھارٹی کی صوبہ بھر میں غیر معیاری خوراک کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ پشاور، ایبٹ آباد، نوشہرہ، چارسدہ، کوہاٹ اور صوابی میں فوڈ سیفٹی ٹیموں کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ پشاور گلبہار میں فوڈ سیفٹی ٹیم کی خفیہ اطلاع ملنے پر بڑی کارروائی، 1200 کلو غیر معیاری و خراب کلیجی اور دل پکڑ کر تلف۔ خراب گوشت لاہور سے سپلائی کیا گیا تھا، مالکان کے پاس ٹریسی ایبلٹی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ غیر معیاری گوشت کی سپلائی میں ملوث افراد کے خلاف فوڈ سیفٹی ایکٹ کے تحت کارروائی شروع۔ ایبٹ آباد میں کارروائی، 200 کلو ملاوٹی قیمہ برآمد کرکے تلف کر دیا گیا۔ ایبٹ آباد میں موبائل فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کے ذریعے دودھ کے نمونوں کی بھی جانچ۔ دودھ میں سکم ملک، گلوکوز اور ڈٹرجنٹ کی موجودگی ثابت، ملاوٹی دودھ تلف، بھاری جرمانے عائد۔ نوشہرہ میں گوشت کی دکانوں کی چیکنگ، 500 کلو مضر صحت اور خراب گوشت تلف۔ مضر صحت گوشت فروخت کرنے والی دکان سیل، جرمانہ عائد، مزید قانونی کارروائی شروع۔ چارسدہ، شبقدر بازار میں کارروائی، 100 کلو غیر معیاری و خراب فروزن چکن پارٹس اور کلیجی تلف۔ صوابی، شیوہ اڈہ میں چکن شاپ سے 50 کلو غیر معیاری فروزن گوشت برآمد، تلف کرکے جرمانہ عائد۔ کوہاٹ، انڈس ہائی وے پر ناکہ بندی کے دوران 800 کلو ملاوٹی مصالحہ جات برآمد، ضبط۔ ملاوٹی مصالحہ جات سپلائی کرنے والوں پر جرمانہ عائد، مزید قانونی کارروائی جاری۔ غیر معیاری اور مضر صحت خوراک میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ عوام غیر معیاری خوراک کی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف اطلاع فوری فوڈ اتھارٹی کو دیں۔

Aqeel Yousafzai

سیاسی استحکام کی ضرورت اور لیڈرشپ کا امتحان

عقیل یوسفزئی
پاکستان کی حکومت سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے کاری میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن کو مذاکرات کی پھر سے پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اور یہ کہ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں مگر دوسروں کو بھی آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کو یقینی بنایا جائے ۔
دوسری جانب اگر ایک جانب بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ دنوں مختلف لیڈروں سے ملاقاتیں کیں تو پی ٹی آئی اور جے یو آئی نے بھی مذاکرات کیے اور مولانا فضل الرحمان نے متحدہ اپوزیشن کے قیام کی نوید سنائی حالانکہ اگر ایک طرف ماضی میں مولانا بانی پی ٹی آئی کو یہودی ایجنٹ کہتے رہے تو دوسری طرف پی ٹی آئی کے بانی اور لیڈر مولانا کو نامناسب الفاظ سے مخاطب کرتے رہے ۔ تاہم سیاست میں یہ سب کچھ نیا نہیں ہے اور نہ صرف یہ کہ سب قائدین اور اسٹیک ہولڈرز کو ملک اور عوام کی خاطر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔
گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ محسن نقوی ، متعدد وفاقی سیکرٹریوں اور پولیس سربراہان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی مجموعی صورتحال پر خصوصی مشاورت کی گئی ۔
گزشتہ رات خیبرپختونخوا کی حکمران جماعت پی ٹی آئی کے بانی کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جس سے یقینی طور پر سیاسی درجہ حرارت میں کمی واقع ہوگی ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت صوبے کی سیکیورٹی صورتحال اور گورننس پر بھی توجہ مرکوز کرے کیونکہ صوبے کو بہت سے چیلنجز اور مسائل کا سامنا ہے ۔